
صبا احمد
اسرائیل نے 17 دنوں سےفلسطین میں جاری بمباری میں غزہ کوملبےکاڈھیر بنا دیا ہے اورحماس کےمجاہدین کے جوابی حملے میں پورا یورپ
یہود و نصاریٰ کے پیٹ میں مروڑآٹھ رہی ہے۔ امریکہ بحری بیڑے سمیت اسرائیل کی مدد کوپہنچ گیاہے۔غزہ میں ہزاروں بچے ،بوڑھےنوجوان شہید ہوگئے۔ خوف وہراس اوربمباری کی آوازسےمعصوم کم سن بچےگم سم ہیں ۔ شیر خوار بچے ماؤں اور باپوں کے ساتھ کفن میں لپٹےلحدمیں اتر رہے ہیں۔ ملبوں کےاندر باقی ماندہ لوگ اپنے پیاروں کوپکار رہےہیں۔
چھ سال کےبچےمسلمانوں کوپکاررہےہیں مدد کےلیےقرآن کی آیات کی تلاوت کرکےہم مسلمانوں کےسوئے ایمانوں کوجگارہے ہیں۔آؤ ہم مظلوموں کی مدد کے لیےوہ جانتے ہیں ہم شہادت کے لیے پیدا ہوئےہیں ۔
ان معصوموں کے ہاتھ پاؤں کٹ گئے ہیں،وہ معذورہوگئے ہیں مگر کسی مسلم ملک کا ضمیرنہ جاگا صرف جماعت اسلامی ان کی مدد کو پہنچی۔ 20 اکتوبر مصر میں کانفرنس میں کویت کے وزیرخارجہ نے یہودی نمائندوں کو کمرے سے نکالااور مصر کاباڈرکھولا ۔ امدادی سامان ادویات خوراک کےلیے پندرہ دن سے بچے بھوکےپیاسے،دودھ ، پانی کے لیےترس رہے تھے۔ مسلم ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے ،مگردکھی دل فیس بک ،ٹیوٹر، انسٹا پراپنے حکمرانوں کو جھنجھوڑرہے تھے۔ ان سے ہمدردی کا اظہار کر رہے تھے دنیا تک سوشل میڈیا کے ذریعے خبریں پہچا رہےتھے۔ بے چین تھےعجم کے لوگ سرحدوں کی پابندیاں حکمران امریکہ کےغلام منہ چھپائے بیٹھے ہیں.....
مگرجو جانتے تھےکہ مسلم عرب وعجم کےجسد واحد کی طرح ہےجسم کاایک حصہ تکلیف میں ہو درد سارے جسم میں ہوتا ہے۔
وہ حضور صہ کی حدیث کو سمجھتے ہوئےبے چین اپنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کےلیے بےقرارپھررہے تھے۔جیسے الخدمت کےعبدلشکورصاحب آخر ان کی کوشش رنگ لائیں اوروہ فلسطینی بھائیوں کی پیسوں کی صورت میں مد کرنےمیں کامیاب ہوگئے۔ایک نھنی چڑیا جو چونچ میں پانی کا قطرہ لے کر آگ بجھانے کی کوشش کرتی ہےتاکہ روز قیامت اس کا نام آگ بچھانے والوں میں لکھا جائے ۔۔۔۔
مگر کچھ لوگوں کے ایمان کواس حالت میں بھی آبیاری کی ضرورت تھی جن کا قبلہ اول پچھترسال سےصہییونی دہشت گردوں کے قبضےمیں ہے اور فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں اوروہ بھوکے پیاسے بچے قرآن پاک حفظ کررہے ہیں۔محصور ہیں مگرانبیاء کی سرزمین کی حفاظت کے لیے قیدوبند سہتے ہیں۔ایمان کی طاقت سے گلزار بن رہے ہیں ۔
معزورہو کر وہیل چئیرز پرپتھروں سےلڑرہے ہیں۔اس مرتبہ صہیونیوں نے کہا غزہ خالی کردوتو ان کےمردو زن اور بچوں نے کہا نہیں فلسطین اور مسجد اقصی ہمارے ہیں۔ یہودیوں نے ظلم وستم کا بازار گرم کردیامگر آزاد دنیا کے باشندے اپنی دنیا میں مگن رہے ،وہ تو کے ایف سی اور میکڈونلڈ کھانے میں مگن ہیں، جاگو مسلمانوں جاگو یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ کرو اپنے بھائیوں کی جانیں بچاؤ ۔۔۔۔۔





































