
صبا احمد
ہرمعاشرے کی روایات، رسم ورواج اورثقافت اس کی پہچان ہوتی ہے۔اس کا رہن سہن اورخاندانی نظام ہوتا ہےجو رشتوں کی اہمیت کواجاگرکرتا ہے
۔ بحیثیت مسلمان ہمیں رشتوں سے قطع تعلق ہونےپرسخت تنبیہ ہے۔ہررشتہ اہم ہے۔ پہلا رشتہ میاں بیوی کاجو اولاد سےمضبوط رشتے کی ڈورسےبندھ جاتا ہے۔ والدین کا رشتہ جنم لیتا ہےجو تاحیات قائم رہتا ہےجس کا ہر لحمہ خوبصورت، اہم اورقربانی کے جذبےسےسرشارہوتاہے۔
پھردوسرے رشتےوقوع پذیرہوتےہیں یابنتےہیں ۔اللہ نے ماں کےقدموں تلے جنت رکھی تووالد جنت کا دروزہ ہےجس کی دعا اللہ تعالی رد نہیں کرتاتو ہم نے بچپن سے جوا پنی اورپھر بوڑھاپےتک ماں کو جنت کوجنت کے حصول کا ذریعہ تصور کیا،جبکہ قرآن جگہ جگہ والدین کی نافرمانی کوشرک کہتا ہے۔ جوں جوں قرآن کو سمجھا تومعلوم ہوا کےوالد کی دعا اولاد کےحق میں جلد سنی جاتی ہے۔ تو ہم نے والد سے یہ بات سنی تو اس پر عمل کرنا شروع کیا۔
ماں چھترچھاؤں ہے تو باپ اس کو مضبوط اور پھل دار بناتا ہے۔بیشک باپ کے لیے کوئی دن مختص نہیں ہوسکتا۔ ان کی مہربانیوں اورمحبتوں کے صلے میں مگرمغرب ان کے لیے دن مخصوص کرکے انہیں خراج تحسین عنایت کرتا ہے اور مسلمان کے لیے زندگی کے تمام لحمے ان کے لیے ہیں ۔ان کی خدمت اور تابعداری کرنا ان کواف تک نہ کہنا دین کے دعوت ہے۔
بوڑھاپے میں خاص طور پر والد جو کولھو کے بیل کی طرح دن رات کما کر بچوں کے نان نفقے کے لیے اپنے جوانی اورزندگی وقف کرتاہے تبھی وہ قوام بنتا ہےاورعورت سے بلند درجہ رکھتا ہے۔ اس کی دن رات گرمی اورسردی کی بھاگ دوڑاورگھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بیماری میں بھی کما کرلاتاہےجو اس کو عظیم بناتا ہے جب ریٹائر ہوجاتا ہے تو پرانا ناکارہ سمجھ کراولاد گھر کے کونے میں یا پھر اولڈ ہوم میں بھیج دیتی ہے ۔
اگر روپیہ پیسہ ہوجائیداد وہ اپنی زندگی میں اپنے پاس رکھے تو اسے عزت و وقار کے لحمے میسر ہونے ہیں۔ گھر میں اس کاحکم بھی مانا جاتا ہے۔یہ سماجی رویےہیں مگر ہم اگر دل سے کریں یہ ہمارے گھروں میں رحمت وبرکت بھی لائے گا ، مگر مذہب تو ان کی خدمت اور صلہ رحمی اطاعت گزاری کامتمنی ہے۔ ۔وہ ہی اس دن کو اہم بناتا ہے والد کی شخصی اہمیت کا روشناس کرانا ہوگا۔ ہمہں خود اور اپنے بچوں کو ان سے محبت کا عادی بنانا چاہیے ۔اس دن کو ان کے لیے اہم بنانا بلکہ ہر دن ایک مسلمان ہونے کے ناتے اہم بنانا چاہیے ۔





































