
صبا احمد
پرندہ تنکا تنکا جوڑ کر گھونسلہ بناتا ہے۔ مادہ انڈے دیتی ہے۔ان میں سے بچےنکلتےہیں نرکھانےکایاحفاظت کاانتظام کرتاہے ۔اپنے خاندان کی
تشکیل اوراسے منظم کرنے کے لیے۔ انسان ساری زندگی کی محنت و مشقت کے بعد ایک ایک اینٹ جوڑکر گھر بناتا ہے، یہ گارے اورمٹی سےنہیں بنا ہوتا بلکہ محبت وامید کامرکزہوتا ہے ۔ یہ مرد و عورت ایک دوسرے کےاعتماد و بھروسے کی بنیاد پرکھڑاکرتے ہیں جہاں وہ اپنے رشتے کو پروان چڑھاتے ہیں۔ اپنے رشتےکو اولاد کی صورت میں مضبوط کرتےہیں ۔ خاندان وجود میں آتاہے اور پھر بعد میں معاشرہ بناتاہے۔جیسے اللہ تعالی نے حضرت آدم اور حضرت حوا کو روئے زمین پربھیجا نسل انسانی کوبڑھانےکے لیے ۔
گھر انسان کی ہی بنیادی ضرورت نہیں بلکہ حلال وحرام کے حکم کے ساتھہ ہر رشتے اور خوراک کے حوالےسے۔ اس کی آرام گاہ ہے جہاں وہ زندگی کی بھاگ دوڑ کےبعد ذہنی و جسمانی تھکن کو اتارنے اورسکون کے حصول کے لیےآتا ہے، اللہ کے احکام اور قوانین نافذ بھی کرتاہے، اپنی زندگی بھی اس کےمطابق ڈھالنےکی جدوجہد میں لگ جاتاہے۔عورت سکون وآساٸش دیتی ہے،اپنی محبت اور وفاداری سے ۔مرد
اس کے لیے ساری زندگی تگ ودوکرتاہے،صرف چند گھنٹوں کے امن وامان اور چین کی نیند کے لیےجووہ اپنی خاندان سےتوقع کرتاہے ۔۔گھر ساٸبان اورگھونسلا ہر جاندار کی پناہ گاہ ہے ۔ صرف نام تبدیل ہو جاتے ہیں مگر آشیانہ جاندار کو اس کی پہچان دیتا ہے ۔پرندوں کے جھنڈ کبوتر وں کا غول جنگل میں جانور ، جنگل کابادشاہ شیر، بھیڑیا بھیڑوں کاریوڑ سب تنہا نہیں مل کرخاندان کی صورت میں دوسرے لفظوں میں اکھٹے یا اجتماعیت میں اتفاق سے ایک یونٹ بن کر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جاتے ہیں ۔
بھیڑیوں میں مضبوط خاندانی رشتےہوتےہیں ، ان کا احترام اورحلال رشتوں کا نظام ہے۔ ۔دشمن کومار بھگاتےہیں پھر دشمن کی جرآت نہیں ہوتی ان کو میلی نظر سے دیکھنے کی ۔ اس میں برکت ہے ، اسی طرح گھر کو جوڑنے میں والدین اکائی ہیں ۔پناہ گاہ ہر ذی روح کی ضرورت ہےاور رشتے اساس ہیں پہلا رشتہ جواللہ نے اپنے خلیفہ کے لیے جوڑاوہ میاں بیوی کاہےاور شیطان اسی کو ضرب لگاتاہےا ور دنیا بھی اسی کو جو نبھا گیا وہ زندگی میں کامیاب رہا میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہیں ۔
۔اوردوسرا والدین کا صلہ رحمی کا ایثار اور قربانی کا اور اہم اولاد جس کے لیے انسان جیتا ہے۔بیٹی رحمت اور بیٹا محبت کے جذبات سے جڑے ہوتے ہیں ۔رسولل للہﷺ نے فرمایا ۔
رحم (خونی رشتوں کا سارا سلسلہ )عرش کے ساتھہ چمٹا ہوا ہے اور یہ کہتا ہےجس نے میرے تعلق کو جوڑ کر رکھا ۔اللہ اس کے ساتھہ تعلق جوڑے گا جس نے میرے تعلق کو توڑ دیا اللہ سے تعلق توژ لے گا (مسلم کتاب حسن سلوک ٥١٩ )،
عورت ہر دورمیں شرم وحیا کا پیکرتصور کی جاتی رہی ہے۔ مذہب اورتہذیب و تمدن روایات واقدارکی علمبردار رہی ہے۔مرد سربراہ یا قوام رہا ۔ گھریلو ذمہ داری اور دیکھ بھال بچوں کی ہو یہی اس کی اولین جاب رہی ہے ۔ چاہے رومی مصری یا عیسائی عورت ہو یا ان کے دورعروج کی۔ انہوں نے بھی عرت کو عزت کی نظرسے نہیں دیکھا ۔سب سے زیادہ عیسائی عورت کو منحوس اورعبادت کے قابل نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ اب بھی مغرب کی ہی کی عورت سب سے تنہا ہے، اس سےگھر بچے والدین اور بہن بھائی سب سے بڑا ظلم اس سےشوہرکی وفا اورپناہ چھین لیا گیا ہے ۔مرد اور عورت برابر کے نعرے نے معاش معاشرت اورتجارت کا کہہ کرگھر سےباہر نکالا تو درہی چھین لیا، وہ گھر کی ذمہ داری بٹانےنکلی تو شمع محفل بنا دیا ۔
ھارورڈ یونیورسٹی مغرب کی بہترین اکیڈمی جہاں رشتوں کی پاٸیداری ناپید ہے۔وہاں کے سروے کے مطابق وہاں کےگریجویٹ میں سے کچھہ ساٸنسداں ٹیچر پروفیسر صدر بنے کچھ خلا باز کچھ بڑےعہدوں پرکچھ مجرم بنےمگر جو زندگی میں کامیاب رہے،ان میں زیادہ وہ تھے جنہوں نے رشتے پوری ایمانداری سے نبھائے ۔
اللہ نے مرد وعورت کو نکاح کےپاک رشتےسےجوڑا ۔مرد وعورت کو ایک دوسرے کالباس بنایا ۔عورت کا گھر کی ملکہ کےعلاوہ گھر کا نگہبان اور چوکیدار ومحافظ بنایا ۔یہ گھر کو سجانے سنوارنےاوروالدین کےساتھ اولاد کو جوڑے رکھنے کی اہم ذمہ داری نبھاتی ہے۔ کسی قوم کی ترقی میں کامیاب مرد کے پیچھے عورت ہی ہوتی ہے ۔جیسے حضرت خدیجہ اور حضرت عاٸشہ
عورت معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔معاشرے کی اورنسلوں کی تعمیر وترقی میں اہم کردارادا کرتی ہے۔بحثیت مسلم عورت اس کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ اس کو عملی نمونہ بھی بننا ہوتا ہے ۔
مسلمان فتوحات کرتے تو غیرمسلم کونہ صرف امان دیتے، بچےبوڑھے،عورتوں پر رحم کرتے اورکھڑی فصلوں کو بھی تباہ نہ کرتے۔اپنے اخلاق تہذیب وتمدن معاشرت اورمعاشی نظام سچائی اور ایمانداری سےلوگوں کومتاثر کی بغیر نہ رہتے۔ یہاں تک ان کی شرم وحیا پاکیزگی ان پرگہرے نقوش چھورڑتی۔
علامہ اقبال نے کہا۔
اپنی قوم پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ترکیب میں ہے قوم رسول ہاشمی
مغرب کی تہذیب ہمارے لیے زہرقاتل ہے۔مسلمانوں نے ان کی تہذیب کواس وقت قبول نہ کیا جب وہ ہم پرحکومت کررہے تھے اور مسلمانوں آزادی کا علم بلند کیا۔ اسلامی ریاست اللہ کےنام پراورکلمہ طیبہ پر حاصل کیا۔ اسلامی قانون نافذ کرنے کے لیے ہمارے پاس قرآن مجید مکمل ضابطہ حیات موجود ہے، وہی ہماراآٸین ہے ۔
عورت معاشرے اورگھرمیں شوہرکے لیے راحت و سکون کاباعث ہے، نسلوں کو پروان چڑھاتی ہےبلکہ نشوونما کے ساتھ درس گاہ بھی ہے ۔ماں بیٹی اور بہن کی حثیت سے محغوظ اورحفاظت کےداٸرے میں رہتی ہے، حقوق سے آراستہ ہے۔ مسلم عورت اس کو چودہ سو سال پہلے ہی نبی آخرزماںﷺ نے جاٸیداد ونیکی وبدی میں برابری کے حقوق دیے۔ آزادی اتنی ہےکہ وہ بنیادی ضروتوں سے محروم نہیں کوئی اس کومنحوس نہیں سمجھتا ۔ اسے رحمت کہا ۔”نبی ﷺ نے کہاوہ کہ جس نے دویا ود سے زیادہ بیٹیوں کی بہترین پرورش کی تو وہ جنتی ہےاور قیامت کے دن میرے ساتھ ہو گا جیسے شہادت اور اس کے ساتھ والی انگلی ۔
حدیث ہے کہ ایمان اورحیا ساتھ ساتھ ہے ان میں سے حیا ختم ہوئی توایمان خود بخود ختم ہو جائےگا ۔“عورت کا گھر اس کی جنت بھی ہے اور ساٸبان بھی اورخاندانی استحکام کا ضامن بھی ۔اپنے خاندان کے رشتوں سےجوڑے رکھنےکی ذمہ داربھی ۔
حیا اس کا حصار ہے۔اگریہ حصارنہ ہو توکوے ،چیلیں، گدھ آپ کو مردہ جان کر نوچ کر کھا جاٸیں گے ۔آپ کو خبرہونے تک سب ختم ہو جائےگا مگر مسلم معاشرے کی مضبوطی اور خوبصورتی و استحکام اسلام کےسنہرے اصولوں پرقاٸم ہے۔ تقویٰ بااللہ
صبراورعفو درگزراورانسانیت پرہیں۔ خواتین مارچ اورعورت کےحقوق تواہم ہیں مگر اس کی تعظیم و تحفظ مرد کی نگہبانی میں ہے۔ اس کو بہت پڑھی لکھی اور بااختیار الیکڑانک میڈیا کی اینکرزاورایکڑیس نےبھی قبول کیااورنافرمان بیوی کی دعا بھی قبول نہیں ہوتیں اورزبانی درازی کی وجہ سےعورتیں زیادہ جہنم میں ہوں گی ۔





































