
صبا احمد
اللہ تعالیٰ کا مہینہ رمضان سایہ فگن ہوچکا ہے، یہ نیکیوں کا موسم بہار ہےجس میں نیکیوں کی پنیری لگائی جاتی ہے، جسم وروح کی آبیاری کی جاتی ہے، نیت وعمل سے
تبدیلی آپ کےاندرتناور درخت بنتی ہےجوحضرت آدم کے قول و فعل میں نظرآتی ہے،جس کی خوشبو ہواؤں کو مہکا دیتی ہے۔۔
روشنی درو دیوار پر سورج کے طلوع ہونے سے پہلے تہجد وسحرمیں پھیل جاتی ہے۔اس کی ساعتیں رحمتوں مغفرتوں اورعذاب سےبچنے کی خوشخبری کا پیغام ہوتی ہیں ۔نیکیاں نشوونماپاتی اورپھلتی پھولتی ہیں جن کا کا ثواب کئی گنا بڑھا دیاجاتا ہے نفل عبادت کا ثواب فرض اورفرض کاہزار گنا ۔
مسند احمد سے روایت ہے
پیارے نبی صہ نے فرمایا "تم پررمضان آگیا ہے،جو ایک مبارک مہینہ ہے ". یہ حقیقت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے رمضان کےمہینے کو تمام مہینوں میں افضل اوربابرکت قرار دیا ہے۔جس میں جس میں اپنا پاک کلام قرآن مجید نازل کیا۔ لیلۃالقدر جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔دن میں روزہ رات میں قیام ،مستقل مغفرت ورحمت ہے۔غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم نے اس شخص کو برباد ہوجانےکے برابر قرار دیا جو رمضان المبارک میں مغفرت نہ حاصل کر سکے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے"روزہ میرے لیےہےاورمیں ہی اس کا اجردوں گا"شیاطین جکڑدیےجاتے ہیں اور دوزخ کےدروازے بند کردیےجاتےہیں ،اورباب ریان روزہ داروں کےلیےہےجوجنت میں کھول دیےجاتے ہیں اور قیامت میں روزہ داران سےداخل ہوں گے۔
اورحدیث ہے"بیشک ہم نے روزے تم پر فرض کیے جس طرح تم سے پہلی قوموں پرتاکہ تم پرہیزگار بنو "نفس پر قابو اور تقوی کا حصول ہیں روزے۔۔۔ ۔ مسلمان کا روزہ صرف کھانے پینے کو ترک نہیں کرنا بلکہ اس کے سر سے پاؤں تک کے تمام اعضاء اور حلال اشیاء کا استعمال بھی شامل ہے۔اس حدیث کی پوری اصطلاح ہے کہ" مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور پوری اخلاقیات اس میں ہے، روح کی بیماریاں جھوٹ ، دھوکہ ،فریب ،کینہ ،غصہ ، حسد بغض چغلی اوردوسروں میں برائیاں تلاش کرنا۔گالم گلوچ اورلڑنا منع ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمررضہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صہ نے فرمایا کہ "روزہ اور قرآن بندے کی شفاعت کرتے ہیں ۔"
اس سال 2024 کا رمضان المبارک امت مسلمان کےرنج والم کا مہینہ ہےکہ اسرائیل ستمبرسے غزہ پرقابض ہے۔فلسطینوں پرظلم ستم کےپہاڑگرارہاہے، اتنی بمباری اوربارود برسارہاہے کے تھمنے کانام نہیں لےرہا، 30 ہزار بچوں کو شہید کر دیا گیا ہے گھروں پرحملوں میں کتنے خاندان شہید ہوئے ،غزہ ملبے ڈھربنا چکا ہے۔ اجتماعی قبروں کےعلاؤہ ملبے میں دبے شہداء کی لاشیں ہیں۔ بھوک پیاس سے نڈھال لوگ گھاس اورجانوروں کےچارے کی روٹیاں کھارہے ہیں ۔
ظلم وستم کا نہ ختم ہونےوالا سلسلہ ہے،فلسطین پر دستر خوان پر بیٹھتےہی بھوکےفلسطینی بچوں کےچہرے نظرآتے ہیں ۔ اسکول ، کالجز، اسپتالوں پر اسرائیل امریکہ کےاسلحے کے تعاون سے تباہی کررہا ہے۔ علاج کے لیے دوائی اورخوراک کے ٹرک فلسطین میں نہیں آنے دیے جاتے ۔۔۔ یہودی فوج جو 72 سال سے قابض ہے ۔اب مسجد اقصیٰ میں رمضان میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ۔ کوئی ان کا پرسان حال نہیں ۔۔۔
عرب اور مسلم سربراہان امریکا کےغلام خاموش تماشائی بنے عیش وعشرت میں مگن ہیں اور کوئی ان کےحق میں بولنےکی جسارت نہیں کررہا ۔ان کے خلاف جہاد کون کرے گا ۔ وہ تنہا لڑرہے ہیں ۔ کفارہررمضان میں کبھی کشمیر اورکبھی فلسطین پر ظلم کرتے ہیں مگر اس سال فلسطین کا ذرہ ذرہ تکلیف میں ہے۔
اللہ تعال فلسطینیوں کےغیب سے مدد فرما،ان کو پانی اور کھانا عطا فرما ،انہیں اپنے فضل وکرم سے آزادی نصیب فرما۔ امین





































