
صبااحمد
نیوکلیرپاورسےاسلحےکےحصول کی دوڑ نےمغرب کواندھا بنادیا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی اورنت نئےاسلحے کی ایجادات نے یہود ونصاری کوسرکش بنا دیا ہے۔ سرکش
تو یہ پہلے بھی تھےمگراسلامو فوبیا نے انہیں ذہنی طورپراتنا پاگل پن کا شکار کیا ہے کہ وہ اب مسلمانوں کی نسل کشی میں لگ گئےہیں۔
سلامتی کونسل ، یونیسیف ،اقوام متحدہ اور نیٹو کے ممالک انسانیت کی بات کرتے ہیں مگر مسلمانوں کے لیے ان کے دل پتھربنے ہو ئےہیں ،جس کی مثال اب مسجد اقصی ،غزہ اوررفح کےمعصوم بچے،عورتیں اورمرد ہیں۔ ہرطرف آگ برسائی جا رہی ہے۔ اسرائیل ناگاساکی پر گرائے گئے سلفربم سے بھی کئی گنازیادہ مہلک یورینیم بم برساچکا ہے۔ تب بھی اس کی سفاکیت کا پیمانہ لبریزنہیں ہوا۔
اسرائیل امریکہ کی لے پالک ریاست ہے جس کو وہ ہرطرح کاجدید اسلحہ فراہم کررہا ہے۔اسے ممنوع ہتھیار اوراسلحہ کیوں دیا جارہا ہے۔ اسرائیل اپنے نجات دہندہ یعنی اینٹی کرسٹ دجال کولانےکے لیےفلسطین میں اب تھرڈ ہیکل تعمیرکرنا چاہتا ہے ۔مسلمانوں کو صفحہ ہستی سےمٹانے کے لیے 75سال سےقبضہ کرنے والی صہیونی ریاست اب فلسطین کو ختم کرکے اپنےگریٹر اسرائیل کے خواب کو تعبیر دینے کا گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہے ۔
غزہ پر انددھند بمباری کرکے کوتقریبا"ملبے کا ڈھیر بنادیا ہے، رفع باڈرالشفا اسپتال میں زخمیوں کوعلاج معالجےکی بھی سہولت نہیں دی جا رہی ۔ ان کی بجلی ،پانی ، گیس بند کردیا گیا ہے،بچوں کیلئے آکسیجن نہیں ۔حماس کے مجاہدین کے بہانے ہرجگہ گھس کر نوجوان ،بوڑھوں، بچوں اورخواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اورشہید کردیا جاتا ہے ۔
سب سےشرم کامقام یہ ہے کہ حاملہ خواتیں لڑکیاں اوربارہ تیرہ سال کی بچیاں بھی ،ان کی ہوس کانشانہ بن رہی ہیں ۔یہ درندے عورتوں کی بےحرمتی کررہےہیں اوراقوام متحدہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بوسنیا آزاد ہوا۔۔۔ تو پاکستانی فوج مدد کو پہنچی تھی ۔ کشمیر اوراب فلسطین پرقبضہ ہےمسلم ممالک پہلے تو احتجاج کرتے تھے مگر اب عرب سمیت 57 اسلامی ممالک کے حکمران غفلت کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں ۔۔
بچوں کی نسل کشی انتہا کوپہنچ چکی ہے۔اب تو مسلمانوں چپ کاتالا توڑو ۔ کوئی دھمکی دو۔ کیا تم نے ذہنی اورجسمانی غلامی قبول کرلی ہےاورمسلمانوں کی خاموشی دیکھ کراب یہ قول بارباریاد آتا ہےکہ یہ نادان گرگئے،سجدوں میں جب وقت قیام آیا ۔۔۔ ۔ حدیث پاک ہے" تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں "
"مسلمان جسد واحد کی مانند ہیں ۔ جسم کےایک حصے میں درد ہوتا ہےتوتکلیف سارے جسم میں ہوتی ہے" ۔
کہاں ہیں محمد بن قاسم اورطارق بن زیاد جیسے مسلم نوجوان ۔۔۔۔اب کسی بھائی کوبہن کی فریاد سنائی نہیں دیتی ۔۔۔
سات مہینےسےمسلسل غزہ میں ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی ہے۔مجموعی طورہر 32ہزار شہید فلسطینیوں میں بڑی تعداد خواتین اوربچوں کی ہے۔قرآن میں ہے جب تم اللہ کے حکم کی تعمیل نہیں کروگے تو تمہاری جگہ کوئی اور قوم لےآئے گا۔ تواب عیسائی دنیا پرحکومت کررہے ہیں ۔۔۔دوصدیوں سے مسلمان جہاد سےمنہ موڑ رہا ہے، اسی لیے وہ محکوم ہے ۔۔
قائد اعظم رحمتہ کی آزاد کردہ ریاست کا سپہ سالاراٹھ کر للکارنہیں سکتا ۔ قبلہ اول کی طرف اٹھنے والی میلی نظر کو تباہی برباد کرنے کےلیےجس کے بارے میں قائد اعظم نے کہا تھا ۔۔۔۔ کےاسرائیل کی غاصبانہ صہیونی ریاست کا قیام مسلمانوں کے قلب میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے آخری بادشاہ عبدالحمید نے کہا تھا رتھ چائلڈ کو کے فلسطین کی سر زمین کا ایک ٹکرا بھی تمہیں نہیں دیں گے آخری دم تک تم سے جنگ کریں گے ۔۔
مسلمان اب جہاد سے ڈرتاہے،کیا اتنا کمزور ہوگیا ہے؟سترہ رمضان کو بدرمیں 313 مسلمانوں نے 1000کفار کوہرایا۔۔۔ قوت ایمانی سے تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو مدد کے لیے بھیجا ۔تو اب اللہ تعالیٰ تمہیں تنہا چھوڑے گا۔
اللہ پرایمان اور جہاد کی برکت پرایمان کو بلند کرو مسلمان! ۔فلسطین کےلوگوں کی نظریں مسلم لشکر پر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم قیامت کےدن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہیں گےآپ صہ کی امت میں سے کوئی ہماری مدد کو نہیں آیا۔
مسلمانو جاگو۔۔
اپنی بیٹیوں کی آہ و بقا سنو تلواریں۔۔۔میانوں سےنکالو فلسطین کی بیٹیاں پوچھ رہی ہیں کے امت محمدی کہاں ہے ؟
ہم دعاؤں میں اورروز قیامت نبی صہ کی شفاعت کیسےمانگے گے،حوض کوثر کی طلب کیسے پوری ہوگی۔ آج فلسطینی بھوکےپیاسے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ وقت گزر گیا۔ اللہ اورتاریخ تمہیں معاف نہیں کرے گی۔ مظلوموں کی آہ آسمان تک جاتی ہے ۔ان کے ہاتھوں میں روزقیامت تمہارے گریبان ہوں گے،تم خالی ہاتھ اللہ کی عدالت میں ہو گے ۔





































