
ریطہ
یہ حکمت ملکوتی، یہ علم لاہوتی
حرم کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ ذکر نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سرور
تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ عقل جو مہہ و پرویں کا کھیلتی ہے شکار
شریک شورش پنہاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
خرد نے کہہ بھی دیا"لا الہ"تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
گروسری اسٹور کی بالائی منزل میں کھڑی وہ کب سے پاکستانی شیمپوز کی خصوصیات کا مطالعہ کررہی تھی۔
کل ہی اسے ساجدہ بیگم نے حکم جاری کیا تھا کہ "خریداری کرتے وقت کوئی یہودی یا امریکی کمپنی کی مصنوعات نہیں خریدی جائیں گی."
وہ کوالٹی پر کمپرومائز کیسے کرسکتی تھی؟
اس نے کبھی بھی لوکل پروڈکٹس استعمال نہ کی تھیں۔ اس کی ساری سہیلیاں برگر فیملی سے تعلق رکھتی تھیں سب ایک سے ایک برانڈز استعمال کرتی تھیں۔
پیچھے سے آتی ساجدہ بیگم کی آواز نےاس کے خیال کو توڑا تو وہ پاکستانی مصنوعات کا جائزہ لینے لگی۔
گاہک معمول کے مطابق تھے۔ کچھ لوگ بڑے دھڑلے سے یہودی مصنوعات لے رہے تھے اور یہ اس کا پسندیدہ کیچپ۔۔۔۔۔ اس نے دل پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔یہ کیسے چھوڑ سکتی ہے وہ۔
اس کادل ڈوبنے لگا یہ سوچ کر کہ اب امی جان ہر چیز یہ پاکستانی لوکل تھرڈ کوالٹی کی خریدا کریں گی۔
سارا دن سوشل میڈیا دیکھ دیکھ کے امی جان کے دماغ میں کیا بھر گیا ہے،اوپر سے ابو جان۔۔۔ان کو کیا ہوگیا ہے کچھ بولتے ہی نہیں۔ پہلے تو میری ہر بات میں حمایت کرتے تھے۔
وہ سوچ کے جزیرے میں تھی کہ جنید اس کےپاس آکھڑا ہوا اس کی آنکھوں کو کسی سوچ میں گم دیکھ کر بولا
"آپی! کہاں گم ہو؟"
پھر اپنی شاپنگ سے سجی ٹوکری کو اس کے سامنے لہراتے ہوئے بولا
" یہ دیکھو میری ٹوکری تو بھر گئ میں نے تمام پاکستانی کمپنیزکی چیزیں لی ہیں یہ دیکھو۔۔۔ڈرنکس،ٹوتھ پیسٹ،شیمپو "
اسے گم صم دیکھ کر پوچھنے لگا۔
"آپی! کہاں غائب ہو؟جلدی شاپنگ کرلو امی جان کب سے تمہیں بلارہی ہیں کیشئیر پر رش بڑھ رہا ہے"
وہ جلدی جلدی اپنی شاپنگ نمٹاکر امی جان کی ٹرالی کے پاس پہنچی تھی مگر اس کا دماغ جیسے کہیں اٹک گیا تھا۔
جیسے ہی گھر پہنچنا ہوا وقت کا پتہ نہ چلا امی جان نے پہلے سے کھانے کی تیاری کر رکھی تھی
"آج ہم برگر کھائیں گے"
جنید نے اطلاع دی ۔
"وہ کیسے۔۔۔۔ جبکہ مجھےوہی برگرپیٹی پسند ہے جو میں کھاتی ہوں جب امی جان نے وہ نہیں خریدا تو میں نہیں کھاؤں گی"
وہ منہ پھلاکر ایک طرف ایسے بیٹھ گئی تھی جیسے سب اس کو ابھی منانےآجائیں گےمگر یہاں تو کسی کے کان پہ جوں بھی نہ رینگی تھی۔
امی جان کے بنائے برگر تو ابا جان بھی ایسے مرغوب ہوکر کھارہے تھے جیسے کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی پروڈکٹ کا مزہ لے رہے ہوں۔
جنید بھی اس اشتیاق سے آگے بڑھ کر برگر کے ہر نوالے کو عزت بخش رہا تھا جیسے کسی فائیو اسٹار پہ بیٹھا ہو۔
اس نے سب کے اٹھ جانے کے بعد چپکے سے سب کی نظروں سےبچ کربرگر کی ایک بائیٹ لی تو نوالےکا لذیزذائقہ جیسےمنہ میں گھل گیا۔ وہ کھاتی چلی گئ ہمممم تو یہ بات ہے امی نے خود چکن کے برگربنائے تھے سارے ساس خود بنائےاوراتنی لذت تھی شاید ہی پہلے کبھی اس نے یہ ذائقہ کہیں کھایا ہو۔ اسے احساس ہوا کہ امی جان بھی تو کتنی محنت کر رہی ہیں صرف اسلیے کہ ہم یہودیوں انگریزوں کی مصنوعات کے خریدار نہ بنیں۔ مگر اس کا دل ابھی بھی اپنے باڈی شیمپو لوشنز کریم اور میک اپ کے لیے بہت اداس تھا۔ امی جان نے سب کچھ بند کرادیا تھا۔
یہ لوکل پروڈکٹس اس کے سمجھ میں انے والی نہ تھیں۔ اسے دل کے اندر کہیں اپنی سہیلیوں کا بھی خوف تھا کہ وہ امپورٹڈ چیزوں کا بائیکاٹ کرے گی تو اس کی سہیلیاں مذاق اڑائیں گی۔ ابھی وہ سوچوں میں ڈوبی تھی کہ شانزہ کا فون آگیا جو اسکی سب سے ماڈرن دوست تھی۔
"سنو سارہ کل فلس 3 مارچ میں چلو گی ہم سب سہیلیاں جارہی ہیں"
شانزہ کے منہ سےایسی بات سن کےاسے شدید حیرت ہوئی۔
"اس کا کیا فایدہ ہے کیا یہاں مارچ کرنے سے وہ لوگ آزاد ہوجائیں گے"
اس کے منہ سے وہ بات نکلی جس کی توقع وہ اپنی سہیلیوں سے رکھتی تھی.
"کیا ہوگیا سارہ تم بھی وہ ہی سوچ رکھتی ہو جو ہماری کچھ محدود بیمار ذہنیت والے لوگ رکھتے ہیں۔ یہ بحث تو بہت لمبی ہے کہ ہمارے مارچ کرنے سے ان کو کیا فایدہ ہوگا لیکن یہ یقین ہے کہ ہم کو بےحد فائدہ ہے وہ بیت المقدس کی حفاظت میں شہید ہو کے جنت کے سفر میں گامزن ہیں ہم اپنی استطاعت کے مطابق اپنی ذرا سی کوشش کرکے جنت میں انکے ساتھی بننا چاہتے ہیں"
شانزہ کی بات سن کے سارہ کی پیشانی ندامت سے عرق آلود ہوئی۔ جو بات اس کے گھروالے نہ سمجھا سکے تھے وہ شانزہ کی بات سن کے اسے پل بھر میں سمجھ آگئی تھی۔"
"تو کیاتم نے بائیکاٹ بھی کیا ہے؟"
"ہاں بالکل میں نےاس بارصرف پاکستانی مصنوعات ہی خریدی ہیں کیا تم نے نہیں کیا بائیکاٹ" شانزہ نےقدرے حیرت سے پوچھا۔
کیوں نہیں کیا، میں آج ہی امی جان کے ساتھ گروسری کرکے آئی ہوں اور ہم نے ایک بھی چیز امپورٹڈ نہیں لی۔ سارہ نے فخرسےبتایا تو شانزہ خوش ہوکے بولی "یہ تو اچھی بات ہے اب تم کل مارچ میں چل رہی ہو یا نہیں"
بالکل چلوں گی تم اکیلےاکیلے جنت کے راستے پہ چل پڑو اور میں تمہاراساتھ نہ دوں ایسا ہوسکتا ہے کیا۔ سارہ کے کھلکھلا کے کہنے پر دونوں ہنس پڑیں۔




















