
عالیہ عثمان/ حریم ادب
اے راہ حق کے شہیدوں وفا کی تصویروں ،ننھے بچےاپنے ایک شہید ساتھی بچے کی کفن لپٹی لاش کوآگے رکھےشہید شہید کا کھیل،کھیل رہے تھے۔
جہاں کےبچے بچےکے دل میں شہید ہونے کی امنگ بچپن سےراسخ کر دی جاتی ہے بڑے ہونےتک سب کے دل اللہ کی محبت سےمعمور ہوچکے ہوتے ہیں فلسطین کے لوگوں کے دلوں میں قرأن محفوظ ہوتا ہے، انہیں بچپن سے قران حفظ کرا دیاجاتا ہے۔
سات اکتوبرسےغزہ مسلمانوں کی جائے پناہ، یہودیوں کی بربریت کا شکار ہےتین ہفتے گزرچکے ہیں مسلمانوں پر ظلم بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے بدترین اور خطرناک دشمن اسرائیل پرتین چارسال بعد مسلمانوں کے خون سے اپنی پیاس بجھانےکا عادی ہو چکا ہے۔ یورپ امریکہ جو جانوروں کے حقوق دنیا کو سمجھاتے ہیں، انہیں اسرا ئیل کی خون ریزی اور فلسطین کے مسلمانوں خصوصاً بچوں کا بے دردی سے قتل عام نظر نہیں آرہا۔ غز ہ میں اب تک 5ہزارسےزائد بچے شہید ہو چکے ہیں اور تقریبا چھ ہزارمرد و عورتیں شہادت کا درجہ پا چکےہیں۔ غزہ میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کی چیخیں مسلم امہ کو جھنجوڑرہی ہیں ، جس طرح مقبوضہ کشمیر کے مسلمان اپنی بقا کی جنگ سالوں سے لڑرہے ہیں، اسی طرح فلسطین پر 1948 سے اسرائیل نے ظلم کے پہاڑ توڑرکھے ہیں ۔ روس اور یوکرائن جنگ میں بچوں کے قتل عام پر شور مچانے والوں کو غزہ نظر نہیں آتا۔
اسرا ئیلی فوج نےہسپتالوں اورآبادی پر گولہ باری کر کے ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔
فلسطینی مسلمان اس وقت سخت آزمائش سے گزررہے ہیں۔ انہیں کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور کپڑوں کی سخت ضرورت ہے، تمام مسلم امہ کوچاہیے اس مصیبت کی گھڑی میں سب ایک ہوکراپنےمسلمان بھائیوں کی مدد کریں۔
جان سے زیادہ قیمتی ،ایمان ہوتا ہے،اس لیے دعاؤں کی ضرورت فلسطینیوں سے زیادہ ان57 مالک کو ہے کیونکہ فلسطینوں کی تو صرف جان جارہی ہے۔ جبکہ57 اسلامی ممالک کےتو ایمان پر سوالیہ نشان قائم ہو گیا ہے کہ وہ کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔؟




































