
صبا احمد
یہ غازی یہ تیرے پراسرا ر بندے
جنہیں تونے بخشا ہے ذوق خدائی
فلسطین کی موجودہ صورت حال تشویشناک ہے. سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک شخص مٹھائی بانٹ رہا تھااور نعرہ تکبر بلند آوازمیں
کہہ رہا تھا.اس کے بچے بمباری میں شہید ہوگئے تھے، فلسطین کی آزادی کے لیےاور حماس مجاہدین کی تنظیم کے کے ترجمان اسامہ حمدان کے بیٹا اور بیٹی شہید ہوگئے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھا، آنسو آنکھوں میں تھےمگر دوسرے دن وہ زخمیوں کو ایمبولینس میں لانے والوں کےساتھ زخمیوں لے کر جارہے تھے۔ شہادت پر اللہ کےشکر گزارمگرمسجد اقصی اور فلسطین کی آزادی کے لیے کوشاں۔۔۔دوسرےفلسطینیوں سے زیادہ بلندحوصلے وہمت سے کام کر رہے تھے۔ وہ ہرقربانی سے گریز کرنے والے نہیں ۔ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح. یہ ایمان کی کیفیت انہوں نے غلامی میں پائی اور اب غزہ مشک کی خوشبو سے معطر ہےجو شہید کے جسد خاکی سے ہی آتی ہے۔
بچوں کی نسل کشی نے فرعون کے دور کی یاد تازہ کی ہے۔ جیسے وہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو مار دیتے تھے لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے مگر یہودیوں نے تو سب بچوں، نومولود بچوں کو اسپتال میں انکیوبیٹر میں گیس و بجلی کو معطل کر کے درندگی وبربریت میں ہلاکو خان اور چنگیز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ مگر فلسطینی نہتے جو پتھروں سے صیہونی دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہیں مگر ان کا جذبہ جہاد اوراقصی کی بازیابی جہاں سے نبی کریم صہ معراج پرگئے اور انبیاء کی امامت فرمائی۔پوری دنیاکی نظریں اس وقت فلسطین میں جاری بمباری سےنسل کشی پرہیں، سلسلہ چالیس دنوں سےجاری ہے اور تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔اسرائیل نےزمینی فضائی بحری حملوں کی صورت میں سلسلہ رکھا ہے۔ اس کےعزائم غزہ سے فلسطینیوں کا مکمل انخلاء ہے۔
ممنوع سلفر بم کی بمباری جاری ہے۔چار ایٹم بموں کے برابرمواداس نے فلسطین میں بےدریغ برسایا ہےجس سے 14سے 15 سال تک بچے متاثر ہوئے بلکہ شہید ہو رہے ہیں۔ یہ پریشان کن بات ہے اب تک 5ہزار سے زائد بچوں کو شہید کیا جا چکا ہے.
یہ اسرائیل کی سازش ہے، 75 سال سے وہ زبردستی قبضہ کرکےصہیونی ریاست بنائے بیٹھا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہےامریکہ برطانیہ اور فرانس کے اتحادی ہیں۔ اسے ہر طرح کی ہمدردی اوراسلحہ فراہم کر رہے ہیں اور ہمدردی صرف مسلمان حکمران کی نہیں ۔
اسرائیل فلسطین پر اندھادھند بمباری دن رات کررہاہے۔غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ کوئی اسکول،اسپتال محفوظ نہیں ۔ اسرائیل تمام تنصیبات پر حملے کررہا ہے۔ اشیائے خورونوش ، ادویات ، پانی اور ایندھن ناپید ہو گیا۔ ٹارچ کی روشنی میں آپریشن ہورہے ہیں۔ فلسطینی مدد کی اپیل کر رہے ہیں ۔عرب وعجم سےکے ہمارے بچے نوجوان مرد اورعورت شہیدہورہے ہیں ۔ اسلامی دنیا مردہ ہے،غائبانہ نمازجنازہ نہ پڑھیں۔ ہمارے شہداء زندہ ہیں.
آپ عربوں عجم کے ایمان زندہ نہیں رہے کیونکہ ہم قبلہ اول کی حفاظت کے لیے زندہ ہیں۔ مسجد اقصی اورفلسطین ہمارا ہے اورحماس اورحزب اللہ کے مجاہدین کہ رہے ہیں، ہمیں خوراک یامالی امداد نہیں دشمن کے ساتھ لڑنے کے لیے اسلحے کی ضرورت ہے.مجاہدین بلند حوصلہ ہیں اور اسرائیل کم اسلحے اور بغیرتربیت کےباوجوداسرائیل کےتربیت یافتہ فوجیوں کومشکل میں ڈالا ہے . وہ جو دہشت گرد ہیں انہیں ناکوں چنےچپوادیے ہیں مگر اسلامی دنیا خاموش تماشائی ہیں ۔ سپر پاور کےسامنے چپ سادھے بیٹھے ہیں مگر عوام اور پاکستان کی جماعت اسلامی مالی اور انسانی ہمدردی اور حوصلےسے ان کے مقصد کی کامیابی کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ ساری دنیا کے لوگ فلسطین میں اسرائیل کی جنگ بندی کا کہہ رہے ہیں اورنسل کشی کےمذمت کر رہے ہیں کہ اسرائیل نےغاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور فلسطین کو آزادی ملنی چاہیے۔ فلسطین فلسطینیوں کاہے، بہت فلطینیون کا خون بہہ چکا۔
اسرائیل کے حملوں میں بچے یتیم والدین بےاولاد ہوگئے ہیں۔ان کے بچے کہتے ہیں کے ہم بڑے نہیں ہوتے کسی وقت بھی ہم شہید ہوجاتے ہیں۔ ہم اپنے ایمان کی طاقت سے اسرائیلی فوجیوں سےلڑتے ہیں۔شدید زخمی حالت میں آپریشن کے دوران لوگ اوربچے تلاوت کرتے ہیں بیہوشی کی دوائی کے بغیر وہ تلاوت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں یہ ہماری تھیرپی ہے،ان کاایمان اورقرآن سے تعلق مضبوط ہے۔
سترہ سال پہلےغزہ کی ناکہ بندی کےدوران میں لوگ بھوکے پیاسے قرآن پاک حفظ کرتے رہےاوریہ سلسلہ جاری ہے، وہ مرنے کےقریب کلمہ اور تلاوت کرتے ہیں ۔نوجوان اور والدین شہادت کی تمنا کرتے ہیں۔ ہر حال میں صبر کا دامن نہیں چھوڑتے اور القدس اورمسجد اقصی کی بازیابی ان کی زندگی کا مقصد ہے۔وہ اسی لیےجیتے ہیں اوراسی لیے مرتے ہیں ۔ فلسطینی علامہ اقبال کے شعر کی عکاسی کرتے ہیں
مری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سربلندی
میں اسی لیے مسلمان اسی لیے نمازی
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































