
خالدہ خرم
غزہ کے مکین ۔۔۔۔ ہماری ایک دعا ہےآپ کے لیے،شرمندگی کے ساتھ الفاظ نہیں ملتے، منہ بند ہو جاتا ہے، ذہن خالی ہو جاتا ہے، جب اپنے غزہ کے مجاہد
شہید بھائیوں بہنوں اور فرشتوں جیسے معصوم بچوں کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں اور دل ڈوبنے لگتا ہے اوریہ خیال اور سوچ چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے کہ جب ہم ان کی تڑپتی ہوئی زخمی خون سے آلودہ یا پھر سوئے ہوئے شہیدوں کی تصویر نہیں دیکھ سکتے تو وہ سہہ کیسے رہے ہوں گے ۔
اللہ پاک تو بے شک آپ کی مدد کر رہے ہیں اور پھر ہمارا ایمان ہےکہ اللہ اپنے پیارے بندوں کو آزمائش میں ڈالتےہیں لیکن ہم مسلمان ہونے کے ناطے آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتے ۔مسلمان ایک جسم کی مانند ہے اگر جسم کے ایک حصے کو چوٹ لگتی ہے تو سارا جسم تکلیف سے تڑپتا ہے ہم بہت مجبور ہیں شرمندہ ہیں۔ حشر میں کیسے سامنا کریں گے؟ کیا جواب دیں گے ؟معافی کے طلب گار ہیں ،معاف کر دیجئے۔
اٹھتے بیٹھتے بس یہی دعا ہے کہ یا اللہ مسلمان حکمرانوں کو ہدایت عطا فرما دیجئے،یا اللہ انہیں غفلت کی نیند سےجگا دیجئے،یا اللہ بس بہت ہوا اب اور دیکھا نہیں جاتا سنا نہیں جا رہا میری بہنوں میرے بھائیوں ہم دنیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن آپ کی بھوک پیاس درد اپنوں سے بچھڑنے کا دکھ جو پہاڑ سے بھی بڑا ہے ۔ اپنی بند آنکھوں سےدیکھ رہے ہیں ،ہماری دعا ہے کہ آپ کی صبح شام ہماری طرح ہوجائے اور کل صبح کا سورج آپ کی آزادی کا سورج طلوع ہواور اسرائیل جو انسان نماجانور ہے،اللہ تعالی انہیں نیست و نابود فرما دے ۔ آمین ثم امین




















