
رشیدہ صدف/ گجرات
ہر سال پوری دنیا میں ماؤں کا دن منایا جاتا ہے۔ بھلا ماں کا بھی کوئی دن ہوتا ہے۔ شاید دن مقرر کرنے اور منانے کی ضرورت ان کی ہوگی جو
سال میں ایک بار “اولڈ ہومز " میں ماں کو یا بوڑھے باپ کوملنےجاتے ہیں جن کی ماں مصروف ترین زندگی میں ایک “شے “ بن گئی ہو ۔
ہماری ماں تو ہماری جنت ہے،سارے رشتے، سارے سلسلے ہی تو ماں سے ہی منسوب ہیں۔ ماں تو ایک پر سکون سامان ہے ۔ ماں کو اگر میں ٹھنڈی میٹھی لوری کہوں تو بھی حق ادا نہ ہو۔ ماں تو شجر سایہ دار ہے ۔ وہ ماں ہی ہے جو نو ماہ اپنی کو کھ میں بچے کو بخوشی اُٹھائے پھرتی ہے۔ ہر درد، ہر دکھ برداشت کرتی ہے ۔ اپنے وجود کو نچوڑ نچوڑ کر اک خون کے لوتھڑے سے ایک پورا وجود تخلیق کرنے اور پھر دنیا کی سب سے بڑی تکلیف درد زہ سہہ کر ایک ننھے وجود کو جنم دیتی ہے۔ پھر دو سال اپنا دودھ پلاتی ہے ، کیسی خوش نصیب ہستی ہے جس کی اس تکلیف کا تذکرہ خود رب کعبہ کرتا ہے ۔ حوصلہ دینے کے لیے اپنے فرشتہ بھیجتا ہے جو ماں کو حوصلہ دیتا ہے۔ ماں اور بچے کا رشتہ بڑا عجیب ہے ۔ جس کا دل کے ساتھ تعلق ہے ۔
بڑا ہی انمول ، بڑا بے لوث،بڑا ہی میٹھا رشتہ ، ماں کی محبت و مؤدت، ماں کی ممتا کا کیا عالم ہوگا کہ الفاظ میں اظہار ممکن ہی نہیں۔ دین اسلام میں بندوں میں جس کےحق کو سب سے اوپر رکھا وہ ماں باپ ہی ہیں جو اولاد کے لیے کامیابی و ترقی کا زینہ ہیں،جو جنت ہیں یا جہنم ہیں۔ زندگی کےسفر میں ایک لحاظ سے یہ دشوار ترین کھائی صرف اور صرف وہ عبور کر سکتے جن کے پاس صحیح شعور ہے علم ہے ،منزل واضح ہے۔
قابل رشک میں وہ ایمان والے جو ماں باپ کو دیکھنا سعادت اور خدمت کرنا عبادت سمجھتے ہیں۔ہر دن ماں کا ہر دن باپ کا سمجھ کر گزارتے ہیں کہ چاہے والدین زندہ ہیں یا دنیا سے جا چکے ہیں ۔
رسول رحمت نے فرمایا تباہ ہو گیا وہ شخص ، ناک خاک آلود ہو گئی اس کی جس کو والدین میں سےایک یا دونوں ملے تو اس نے جنت نہ کمائی ۔ باپ جنت کا دروازہ ہےتو ماں باغ عدن جنت تو یہ ہے “ماں" کے بارے لکھنا بہت مشکل ہے ۔ یہ ایسا باب ہے جو کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایسی کہانی جو انجام تک نہیں پہنچ پاتی ۔ ماں پر لکھنا تو سمندر کو کوزے میں بند کرنا ہے ۔ آخر میں اپنے جذبات
بجھ گیا روشن سویرا، ماں تیرے جانے کے بعد
چھا گیا ہر سو اندھیرا، ماں تیرے جانے کے بعد
دم گھٹتا جاتا ہے، مالی تیرے جانے کے بعد




































