
سلمیٰ نور
اگست کی انیس تاریخ کودنیا انسانی ہمدردی کا عالمی دن مناتی ہے۔اس دن اوراس جیسے کئی اور دنوں کی بابت پڑھیں تو سوال
اٹھتا ہے کہ یہ انسانی ہمدردی کا عالمی دن ہے یا عالمی بےحسی کا؟
انیس اگست دوہزار تئیس کوعراق کےشہر بغداد کےکنال ہوٹل میں قائم اقوام متحدہ کےہیڈ کوارٹرپر بم حملہ ہوا جس میں اس کے بائیس کارکنان مارے گئے۔ یقیناً یہ ایک تکلیف دہ واقعہ ہے لیکن جس ملک کی سرزمین پر صرف دو ہزار تئیس سے دوہزار گیارہ تک دس لاکھ جیتےجاگتے بےگناہ بچے، بوڑھے، خواتین اور مرد بموں سے راکھ کا ڈھیر بنا دیے گئے ہوں، جن کو سپرد خاک کرنے کے لیے سواۓ راکھ اورخاک کے کچھ نہ بچا ہو۔اس سرزمین پرصرف 22 لوگوں کی موت پرعالمی دن چہ معنیٰ دارد؟
آئیے اسی تناظر میں انسانی المیوں کےمہینے اگست اور اقوام عالم کی انسانیت کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔
انسان اورانسانیت لازم وملزوم ہیں۔ دوسری مخلوق خصوصاً کسی دوسرے انسان کے لیے محبت، ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبات رکھناانسانیت ہےلیکن کیا کیجیےکہ جورسم قابیل نےڈالی تھی، انسان اپنی تمام تر تعلیم و تہذیب، معاملہ فہمی اور شعور کے باوجود اس سے جان نہیں چھڑاپایا۔ وہ رسم آج بھی اپنی پوری سفاکی اور ہولناکی کے ساتھ قائم و دائم ہے۔
انسان اگرمعمارہےتو تخریب کاربھی یہی انسان ہے۔ یہ ایک طرف کائنات کی ہر چیز مسخر کرتا اپنے اور اپنوں کے لیے آسائشوں کے سامان کرتا نظر آتا ہے تو دوسری طرف اپنے جیسے انسانوں کا خون بہاتا اور ان پر زندگی کی راہیں تنگ کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو اگست کےمہینےکی ہرسطرلہولہان نظرآتی ہے۔ماضی قریب کو دیکھیں تو “خاک میں لتھڑے ہوۓ خون میں نہلاۓ ہوۓ“ انسانی اعضاء چاروں طرف بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔ چھ اور نو اگست انیس سو پنتالیس انسانی تاریخ کےوہ سیاہ ترین دن تھےجب امریکہ نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گراۓ جس میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ سےدو لاکھ چھیالیس ہزارلوگ لقمۂ اجل بن کے صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ اسی مہینے کی چودہ اور پندرہ کو برصغیر کو آزادی نصیب ہوئی لیکن تقریباً بیس لاکھ لوگ بےدردی سے خون میں نہلا دیےگئے۔ افغانستان میں خونی کھیل اسی مہینے کی پندہ کو اپنے انجام کو پہنچا . “واٹسن انسٹیٹیوٹ براؤن یونیورسٹی“
دا کوسٹس آف وار پروجیکٹ "کےمطابق اس جنگ میں دو لاکھ اکتالیس ہزار لوگ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ بوسنیا اور سربیا اجتماعی قبروں میں دفن کر دیے گئے۔
کشمیر کی ہواؤں میں بارود کی بو رچی بسی رہی۔ روہنگیا مسلمانوں کی لاشیں سمندر اپنےسینے پر سجا کر ہمیں طمانچے رسید کر رہا ہے۔ فلسطین کی سرزمین کئی نسلوں سے بموں اور راکٹوں کی آواز سن کر سوتی اور گولیوں کی بوچھاڑ میں جاگتی ہے۔ انبیاء کا یہ مقدس خطہ سالوں سے سلگ رہا ہے اور زندگیاں خاک تلے دفن ہوتی جا رہی ہیں کہ جن کے اعداد و شمار بھی اب شمار میں نہیں آتے۔ اسے قسمت کی ستم ظریفی کہیں یا دنیا کی منافقت کہ جس مہینے میں تاریخ کے مختلف ادوار میں انسانوں کے ساتھ ساتھ انسانیت کے بھی پرخچے اڑا دیے گئے، اسی مہینے میں صرف بائیس لوگوں کی موت پر انسانی ہمدردی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
جی! انسانی ہمدردی کا عالمی دن اور ایٹم بم کا نوحہ ایک ہی مہینے میں ایک ساتھ ہوتا ہے۔
افسوس اس بات پر ہے کہ یہ دن نہ تو ہیروشیما، ناگاساکی اور برصغیر کےانسانوں کے غم میں منایا جاتا ہے نہ عراق، افغانستان، کشمیر اور فلسطین کی راکھ ہوتی نسلوں کے لیے بلکہ یہ دن تو ان بائیس لوگوں کی یاد مناتا ہے جو ایک عالمی ادارے کےکارکن تھے۔
یہ دن بذات خود عالم انسانیت کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے.اس دن نےعالمی اداروں اور انسانی ہمدردی کا واویلا کرنے والوں کے چہروں سے نقاب نوچ ڈالے ہیں کہ جن کی انسانی ہمدردی صرف اپنے بائیس ملازمین کے لیے جاگتی ہے اور باقی خاک ہوتےانسان ان کے لیے محض ایک خبر ہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ اس دن کو دنیا کے ہر خطے کےان انسانوں کے نام کیا جاۓ جن کےجیتے جاگتےزندہ جسموں کے چیتھڑے اڑا دیے گئے۔ وہ جو تاریخ میں گمنام ضرور ہیں لیکن ان کے خون کا حساب ایک دن ہونا ہے۔ ان کے نام یہ دن کر کے دنیا میں اختیار اور قوت کےنشے میں بدمست لوگوں کو یہ جتا دینا چاہیےکہ ان کا سفاک کردار ایک نہ ایک دن اپنے انجام کی سیاہی ضرور دیکھے گا۔ ہمیں اس دن ظلم دیکھ کرچپ رہنے والے جمود زدہ ذہنوں کوجھنجھوڑنا چاہیے۔ ان کے دلوں میں بلا تفریق رنگ و نسل ہمدردی و غمگساری کے جذبات ابھارنے چاہئیں تاکہ انسانیت کے رِستے زخموں پر کچھ مرہم رکھنے والے بیدار کیے جا سکیں۔




















