
سلمیٰ نور
خوف کےنوکیلےپنجے رگوں میں پیوست تھے۔چاروں طرف اندھیراراستہ روکےکھڑا تھا۔ نہ کوئی آس تھی، نہ کوئی پاس تھا کہ سنبھال لے۔
اندھیرے میں ٹٹولتے،کوئی چیز ہادیہ کی انگلیوں سےٹکرائی۔ اس نےفوراًہی اسے تھام لیا۔اسی لمحے کہیں سے ایک جگنووہاں آنکلا اورروشنیوں کےکئی
قمقمے ہرطرف جگمگانےلگے۔
دل کو ڈھارس ملنے لگی
ڈگمگاتے قدموں کو ہموار راستہ مل گیا
اب تو صرف چلنا تھا
مضبوط قدموں سے
اس نے دیکھا
اس کے ہاتھوں میں نورتھا
جس پر ”القرآن الکریم“ کےسنہرے حروف چمک رہےتھے۔





































