
سلمیٰ نور
پرندوں کا ان کے قدرتی مساکن میں بطور مشغلہ مشاہدہ کرنا برڈنگ کہلاتا ہے۔ بہت سے ممالک میں اسے باقاعدہ اپنایا جاتا ہے اور اس
کے لیے اچھی خاصی رقم خرچ کر کے دور دراز علاقوں کے سفر بھی کیے جاتے ہیں۔
کوسٹاریکاکو پرندوں کے مشاہدہ کےلیےکرہ ارض پر بہترین مقامات میں سےایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ ملک وسط امریکہ میں واقع ہے اور زمین پر سب سے زیادہ حیاتیاتی تنوع والے مقامات میں سے ہے۔اس میں نو سو سے زیادہ پرندوں کی اقسام اس کے برساتی جنگلات بادل کے جنگلات پہاڑی علاقوں اور ساحلی مینگرووزمیں رہتی ہیں۔
فی الحال ہم نے اپنی چھت کو ہی کوسٹا ریکا کے جنگلات تصورکرکےبنا کچھ خرچ کیےبرڈنگ کا اہتمام کیا۔ پرندوں کے لیے پانی اور کچھ دانہ دنکا برتن میں رکھا اور انتظار کرنے لگی کہ کوئی آۓ اور میں اسے چونچ میں پانی بھرتا اور دانے چگتا دیکھوں۔ چند ہی لمحوں میں جیسے سب کو خبر ہو گئی۔ چار پانچ چڑیاں ایک ساتھ منڈیر پر آ بیٹھیں اور لگیں باری باری اپنی پیاس بجھانے۔ جھک کر چونچ میں پانی بھرتیں پھر سر بالکل اوپر کر کے اسے حلق میں اتارتیں جیسے اچھی طرح رگِ جاں بنا لینا چاہتی ہوں۔ کچھ پیاس بجھانے کے بعد پیٹ بھرنے کی طرف متوجہ تھیں۔ باقی زورو شور سے کوئی لا ینحل مسئلہ سلجھانے میں مصروف تھیں۔ جیسے کسی معاملے میں بحث و تکرار ہو گئی ہو اور کوئی گتھی سلجھ ہی نہ رہی ہو۔ یہ چیخ و پکار تھی یا چہچہے، میں سمجھ نہ سکی اور پھر یکدم لالیوں ( مینا) کی آمد پر پُھر سے اڑیں اور یہ جا وہ جا۔
لالیاں جن کا کتابی نام تو شارق ہے لیکن مینا اور لالی کےنام سےجانی پہچانی جاتی ہیں، ان کا جسم بھورا، سر سیاہ، آنکھوں کے گرد نارنجی مائل پیلے حلقوں کے ساتھ ساتھ چونچ اور ٹانگیں بھی پیلی ہوتی ہیں۔ ان میں کسی حد تک بد تہذیبی والا عنصر نمایاں تھا۔ کھانے کے آداب سے بھی کوئی سروکار نہ تھا۔ بہت ہی جارحانہ قسم کا مزاج تھا۔ جیسے ہی دیوار پر بیٹھیں ڈانٹ ڈپٹ کر ساری چڑیوں کو بھگا دیا۔ مستقل بے ڈھنگے انداز میں چونچیں مارتیں، پانی کی چھینٹے اڑاتیں دانے بکھیرتیں اور چیختی چلاتی رہیں۔ یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ انہیں کہیں جانے کی جلدی ہے یا کھانا پانی دیر سے ملنے پر غصہ۔
چڑیاں اور چڑے تو بہت معصوم اور پیاری سی مخلوق ہیں۔ نازک اندام سی چڑیاں ادھرادھر پھدکتی بہت بھلی لگتی ہیں۔ کھا پی کر فضا میں ایسے اڑان بھرتیں جیسے کوئی بچہ خوشی سے اچھل رہا ہو۔
کہتے ہیں کہ بعض علاقوں میں پرندوں کا مشاہدہ کرنے والے شائقین نےاپنے ہی گھر کے صحن میں پرندوں کی 210 سے زیادہ اقسام کی شناخت کی ہیں لیکن مجھے تو اپنی چھت پر یہ دو ہی ملے۔ دور سے کبوتر اور باز یا چیل جیسے بڑے پرندے بھی نظر آئے لیکن انہوں نے فی الحال ہماری ضیافت کو شرف قبولیت نہیں بخشا۔ شاید ہمارے چھت سے غائب ہونے کا انتظار کر رہے ہوں۔
ان پرندوں کے متعلق کچھ خاص باتیں بھی میں نےمحسوس کیں
پرندے بہت زیادہ مستعد اور پھرتیلے ہوتے ہیں۔
ان میں خطرے کو بھانپنے کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔
یہ بہت زیادہ محتاط بھی ہوتےہیں، یہاں آپ نےذرا اپنی جگہ سےاٹھنے کا ارادہ کیا،وہاں فوراً کسی انجانے خطرے کو بھانپ کر پُھر سے اڑ جاتے ہیں۔
ان کے اندر بہت زیادہ تجسس بھی پایا جاتا ہے۔ ہر چیز کو بذات خود ٹٹول کر،دیکھ کر تسلی کرتے ہیں۔
اس سرگرمی کے دوران مندرجہ بالا معلومات و احساسات کےعلاوہ کچھ مختلف قسم کے سوالات بھی میرے ذہن میں ابھرے کہ جن کے بارے میں اب میں مستقل اور سنجیدگی سے سوچتی ہوں۔ مثلاً
میرے گھر کے آس پاس کون کون سے پرندے مستقل طور پررہائش پذیر ہیں؟
کون سے ایسے اڑنے والے پرندے ہیں جو کبھی کبھی نظر آتے ہیں؟
کون کون سے پرندے موسمیاتی سفر میں ہجرت کرنے کے دوران یہاں سے گزرتے ہیں؟
ان نقل مکانی کرنے والے پرندوں میں سے ہو سکتا ہے کہ بعض خوراک حاصل کرنے یا آرام کی غرض سے ہمارے گھر کے قریب بسیرا کرتے ہوں۔
خیر! اس سرگرمی کے بعد مجھے اندازہ ہوا ہے کہ پرندوں کا مشاہدہ کرنا ایک صاف ستھری، خوشگوار اور صحت مندانہ تفریح ہے اور اس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ سال کے کسی بھی حصے میں کہیں بھی کی جا سکتی ہے۔





































