قر ۃالعیں
کسی بھی قوم کی ہم خیالی کےلیے ایسے رابطے کی ضرورت ہوتی ہےجو پوری قوم کو ایک رشتہء وحدت میں پرودے۔اس
کے لیئےانسان کو زبان کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔زبا ن قدرت کی ایک
بہت بڑی نعمت ہے۔زبا ن خیال کے اظہا ر کا ذریعہ ہے۔اگر زبان کو فوقیت نہ دی جائے تو ثقا فت کا رنگ ،اور شناخت کا رنگ پھیکا پڑ جا ئیگا۔
بحیثیت پا کستا نی ہما ری قو می زبا ن اردو ہے ۔یہ دنیا کی معر وف ترین زبانوں میں سے ایک ہے ۔اردو نے تقر یبا چار سو سا ل میں ترقی کی،اردو کی ابتدا بریصغیر کے شہر دہلی سے ہوئی ۔
اردو کے پا کستان کے ہر حصے میں رہنے والےلوگ آسا نی سے سمجھ سکتے ہیں۔اٹھا رویں صدی کی ابتدا کو ادب کے فروغ کا زمانہ کہا جا تاہے۔
مسلما نوں کے دور حکومت میں سرکا ری زبا ن فا رسی تھی۔انگریزوں کی حکومت قا ئم ہوئی توتو انھوں نے فا رسی کی جگہ اردو کو سرکا ری زبا ن بنا یا۔اور انگلستا ن سے آنے والے افسر وں کواردوسکھا نے کے لئیے اردو کتا بیں سکھائیں اورچھپوائیں ۔ اس طرح اردوکی ترقی دن دگنی اور را ت چگنی ہونے لگی۔
اردو کی اھمیت سے انکا ر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مسلمانو ں کے تشخص کا نشا ن بن گئی ہے۔قیا م پاکستا ن کے محر کات میں اردو کو اہم مقام حا صل ہے۔ہی تما م منزلوں سے گز ر کر اس قا بل ہوگئی ہے کہ اس کا شما ر دنیا کی ترقی یا فتہ قومو ں میں ہوتا ہے۔




















