
اسماء معظم
قرآن کریم کی سورۃ التحریم کی آیت نمبر6 میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ
قوانفسکم واھلیکم نارا"بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے ۔
حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! کہ،
کلکم راعی وکلکم مسؤل ،ترجمہ!" تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور ہر ایک سے سوال کیا جائے گا ۔۔"
راعی (چرواہا)چلانے والا ۔گلہ کا نگہبان کہلاتا ہے ہے ۔یعنی ہر ایک راعی ہے ،ہر ایک جواب دہ ہے یعنی ذاتی حیثیت کے بارے میں، جب کہ اس کے زیر نظم کوئی نہ تھا ، لیکن اس کی اپنی ذات تھی جس کیےبارے میں بتائےکہ کیا کرتا رہا ؟؟؟
پہلا لفظ ہے بچاؤ ۔۔۔۔۔۔۔کس کو ؟اپنے آپ کو اور دوسرے مرحلے میں اپنے اہل و عیال کو۔۔۔۔اپنے آ پکو بچایا جائے یعنی اپنے آ پ کو بچانا اسی وقت ممکن ہے جب علم ہو اور اس پر عمل ہو۔۔۔ یعنی وہ فائربریگیڈ ہی کیا جس میں پانی نہ ہو۔۔۔۔۔ اپنا آ پ آخرت کی تیاری کرتا نظر آئے ،دو سرا دیکھے تو دوسرے کو خدا یاد آئے ۔ ایسے ہو جاؤ کہ کوئی یہ نہ کہے کہ خود تو کرتے نہیں ہیں اور ہمیں نصیحت کر رہے ہیں۔۔ لم تقولون ما لا تفعلون ۔۔ترجمہ ! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ ۔(ایت سورۃ الصف(
اپنا آپ بچاؤ ۔۔۔۔۔اس سلسلے کی قرآن کریم کی سورۃ الحشر کی آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
ترجمہ! " تقویٰ اختیار کرو اور تم میں سے ھر متنفس دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا سامان کیا ہے؟"اس آ یت میں اپنے انفرادی معاملات کو اختیار اور درست رکھنے کو کہا جا رہا ہے اور یہ بھی کہ ،تم لوگوں کو تو اچھی بات کی نصیحت کر تے ہو اور اپنی ذات کو بھول جاتے ہو ۔
اپنے آ پ کی تیاری ھم اسی وقت کر سکتے ہیں جب ھمیں "علم "ہو یعنی صحیح اور غلط کا پتہ ہو اور یہ اس وقت ہو گا جب ہم دو بنیادی ماخذ قرآن اور حدیث کےروزانہ مطالعہ کو اپنا معمول بنائیں گے۔اور اس سے اصول لے کر اپنی زندگی میں نافذ کریں گے
دوسرے مرحلے میں جو چیز آ تی ہے وہ ہیں اھل وعیال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
وقت اھم ترین دولت ہے جو امیر اور غریب سب میں مساوی تقسیم ہے بچوں میں وقت کا صحیح استعمال کرانا تربیت میں شامل ہے۔۔۔۔ رات جلد سونا ،صبح جلد اٹھنا ہر کام کو اس کے وقت پر کرنا اور منصوبہ بندی سے کرنا ہی وقت کا بہترین استعمال ہے۔ وقت کو بہتر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ہمہ وقت تربیت بہت ضروری ہے۔ پہلے اذانوں کے وقت ٹی وی کی آ واز آ ہستہ کر دی جاتی تھی ۔کوئ تیز آ واز میں یا چیخ کر بات کرتا تو بڑا فورا متنبہ کرتا تھا ۔بڑوں کا احترام کرنا سکھایا جاتا تھا۔ بچیوں کو باپ اور بھائی کے سامنے سر پر دوپٹہ لینے کی تاکید کی جاتی تھی۔ بڑوں کے سامنے پیر پر پیر رکھ کر بیٹھنا یا پیر پھیلا کر بیٹھنے کو برا سمجھا جاتا تھا ۔گھر میں داخل ہونے اور گھر سے باھر جانے پر السلام علیکم کرنے کی تعلیم دی جاتی تھی لباس تمیز تہذیب کے اور ساتر پہنائے جاتے تھےاور آ ج لباس پر مغربی تہذیب نے جو زبردست حملہ کیا ہے اس کو دیکھ کر ہوش ہی اڑ گئے لڑکوں کی پینٹس اور لڑکیوں کے عباے زمین میں گھسٹ رہے ہوتے ہیں ۔ نوجوانوں میں صفائی کا کو کوئ تصور ہی نہیں ۔لڑکیوں کے بنیائین کے تنگ پاجامے ،بڑے چاک کی قمیضیں ،تنگ اور فٹنگ کی قمیضیں کہ شرم سے نظریں نہ اٹھیں ۔
?بچوں کو ماہ رمضان کی بہترین منصوبند بندی کر کے دیں۔ بچے اس سے رمضان جیسا مقدس مہینہ بہتر انداز میں گزار سکیں گے۔سات سال کی نماز کی عادت کے ساتھ نو یا دس سال میں روزہ بھی رکھوائیں ۔ہو سکے تو روضہ کشائی کریں اس سے بچے شوق سے روزہ رکھتے ہیں ۔بچوں کو شروع سے ہی محنتی اور جفاکش بنائیے۔ امتحانات ،گرمی اور نامناسب حالات میں بچے روزے چھوڑ دیتے ہیںں اس کی سختی سے پابندی کروائیے تاکہ یہی بچے بڑے ہو کر بلاعذر شرعی روزہ نہ چھوڑیں ،بچوں کو اللہ کے نبی کی یہ حدیث سنائیں کہ ھمارے نبی نے فرمایا ! "اگر کسی شخص نے رمضان کا ایک روزہ بھی چھوڑا بغیر کسی رخصت (معقول عذر )کے اور بغیر کسی مرض کے تو اگر وہ ساری عمر کے روزے بھی رکھے تب بھی وہ اس کی قضا نہیں ہو سکتے۔"
لڑکے اور لڑکی دونوں کی تربیت الگ الگ انداز سے کی جائے لڑکوں کو اچھی تعلیم کے ساتھ معاش کی ذمہ داری پر خصوصی توجہ دی جائے۔ لڑکوں کو حلال و حرام کی سمجھ گھٹی میں ڈال دی جائے تاکہ وہ معاشی جدوجہد میں حرام زرائع تک نہ جائیں۔ لڑکیوں کو امور خانہ داری ضرور سکھائ جائے تاکہ جب وہ اپنے گھر جائیں تو سب کچھ پہلے سے آ تا ہو۔ قناعت کرنا سکھائیں اور اس مشکل دور میں رزق حلال پر قناعت تب ہی ممکن ہے کہ کمانے والے فرد کو تمام گھر والوں کا تعاون حاصل ہو ۔ لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح نہ دی جائے اولاد کے ساتھ ہمیشہ برابری کا سلوک کیجئے اس سلسلے میں بے اعتدالی سے بچنے کی پوری پوری کوشش کیجیئے۔بچوں کو مخلوط تعلیمی اداروں میں تعلیم نہ دلوائی جائے۔گھر کا سودا سلف لڑکوں سے منگوایا جاے۔ لڑکیوں کو دکانوں میں نہ بھیجا جائے۔
ان سب باتوں میں اہم بات وہ یہ کہ بچوں کی تربیت کا اصل زمانہ کونسا ہے؟ ایک واقعہ ہے !
شکاگو کے مشہور ماہر تعلیم فرانسس دے لینڈ پارکر باربچوں کی تعلیم و تربیت کے موضوع پر لیکچر دے رہے تھے ، لیکچر سے فارغ ہوئے تو ایک خاتون نے ان سے پوچھا ۔
مجھے اپنے بچوں کی تعلیم وترتیب کا آغاز کب کرنا چاہیے؟
"" آپ کے یہاں ولادت کب متوقع ہے؟" لینڈ پارکر نے کہا
متوقع ؟”عورت حیران ہو کر بولی ۔۔" جناب وہ تو پانچ سال کا ہو چکا" ۔
حد ہو گئی خاتون، آپ یہاں کھڑی باتیں کر رہی ہیں ۔آپ پہلے ہی پانچ بہترین سال ضائع کر چکی ہیں .
یہ حقیقت ہے کہ بچے کی تعلیم و تربیت کی فکر بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی کرنی چاہیے ۔ابتدائی چند سال تعلیم و تربیت کے لیے انتہائی اہم ہیں اور عام طور پر یہی ابتدائی ایام لاپروائی میں ضائع کر دیے جاتے ہیں ۔پیدا ہوتے ہی بچے کے کان میں اذان و اقامت کی بھی یہی حکمت ہے کہ شروع ہی سے خدا کی عظمت اور بڑائی کی آواز اس کے کان میں پہنچے۔
الغرض دنیا کی زندگی جنت بن سکتی ہے اگر سب گھروالے مل کر تقویٰ کی آ ب یاری کریں ۔اور آخرت تو ہے ہی تقویٰ کا انعام۔




















