
اسماء معظم/ حریم ادب
سلمیٰ نے اس رمضان میں مصمم ارادہ کرلیا تھا کہ یہ رمضان پچھلے رمضان سے بہتر گزارےگی۔ استقبال رمضان کے پروگرام سےاس کورمضان بہتر
انداز میں گزارنے کی پلاننگ بھی تو مل گئی تھی ۔اس رمضان میں ،میں قرآن کو زیادہ وقت دونگی ۔اس کو روانہ پڑھونگی اور اس پر غورو فکر بھی کروں گی ۔گلی میں ہونے والے دورہ قرآن میں بھی ضرور شریک ہوں گی ۔اس نے مختصر حواشی والا ترجمہ قرآن مولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا خرید لیا تھا۔ یہ صرف چھ سو روپے کا تو ہے، میں تونہ جانے کہاں کہاں کتنے ہزار روپے خرچ کر ڈالتی ہوں ۔کل کی شاپنگ میں ہی کتنے ہزاروں روپے خرچ ہوگئے تھے۔ اگر ایک چھوٹی سی رقم اس میں خرچ کردی تو کیا حرج ہے، یہ تو نیکی کا کام ھے اللہ تعالیٰ اس کا اجر بھی بہت دے گا اس نے کہا۔
اور پھر عظمیٰ کے گھر پر صبح گیارہ بجے دورہ قرآن طےہو گیا ۔جس میں ایک بہن روانہ قرآن کریم کا فہم دیا کریں گی ۔وہ روزانہ دو گھنٹے اس شدید گرمی میں بھی دورہ قرآن لیتی رہی ، سو چتی یہ تودنیا کی گرمی ہے آخر ت کی گرمی تو کہیں اس سے زیادہ سخت ہوگی اور جیسے جیسےقرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر سے گزرتی جاتی ویسے ویسے دل کے دریچے اللہ کی رحمت سے کھلتے جاتے،، آنکھیں بھی نم ہو جاتیں کہ پروردگار اے رحیم وکریم مولا ! اس قرآن کو ہم اپنی زندگی میں کتنا کم وقت دیتے ہیں، جب کہ یہ تو ہماری زندگی کا ساتھی ہے ،پل پل کا ساتھی ،لمحے لمحے کا ساتھی ۔ایک عظیم ضابطہ حیات ہے اور ہم نے تو نہ جانے کیا کیا مصروفیات پالی ہوئی ہیں ۔اور اس میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں۔اور بہت غافل ہیں۔
وہ جیسے جیسے دورہ قرآن لیتی جاتی ساتھ ساتھ بہت اچھا محسوس کرتی اور کہتی یہ تو میری اشدضرورت ہے۔ دنیا اور آخرت کا علاج و کامرانی کا بہترین سامان ہے ۔اورمیں اس دورہ قرآن میں چند قدم کے فاصلے پر ہونے کے باوجود اپنی کم نصیبی کے باعث اب تک شریک نہ ہو سکی اور اس عظیم نعمت سے محروم رہی۔ اور وہ سوچتی اس پر غور و فکر ھی تو اصل چیز ہے ۔میں نے تو کتنے رمضان صرف ناظرہ قرآن پر ہی اکتفا کیا ،ہر سال بہن بھائیوں میں دوڑ لگتی کہ کون کتنے قرآن ختم کرے گااور اس غوروفکر کی دوڑ میں پیچھے ہی رہی ،بہت پیچھے ، وہ افسوس سے سوچتی۔ اس کا دل بھر آ تا۔
سلمیٰ نے سوچا کہ میں اب ترجمہ و تفسیر سے فیض یاب ہو رہی ہو ں۔ یہ سب اسی پروردگار کی عطا ہے ۔یہ اس رب العالمین کا مجھ ناچیز بندی پر بہت بڑا احسان بھی ہے اور اعزاز بھی۔اگر میں ترجمہ و تفسیر نہ جانوں گی تو مجھے اللہ کے دیے ہوئے احکامات کا کیسے علم ہو گا اور جب علم ہی نہیں ہوگا تو عمل تو دور کی بات ہے۔۔۔۔۔
آخر ہم مسلمان کس زعم میں ہیں کہ یونہی بخش دیئے جائیں گے۔ہم تو وہ لوگ ہیں جونبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شفا عت کے امیدوار ہیں؟اور ان کے ہاتھ سے جام کوثر پینےکے دعویدارہیں۔؟اگر ایسا ہے تو ہمیں ترجمہ وتفسیر کے ساتھ قرآن مجید کا مطالعہ کرنا ہوگا اور پھراس کے احکامات سمجھنے ہوں گے اور اس کو پڑھنا ہوگا اور پڑھ کر اس پر عمل بھی لازمی ہے ۔عمل کے بغیر پڑھنا بیکار ہے۔ ہم سب آخرت کے دن عمل کے آئینے میں ہی پر کھے جائیں گے اور یہ رمضان تو ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ پلٹنے کا مہینہ۔ اور میں اپنے گناہوں سے توبہ کرتی ہوں اللہ تعالی مجھے اس رمضان میں بہترین محاسبہ کے ساتھ روزے رکھنے والابنائے لیلۃ القدر عطا کرے۔ اس نے عہد کیا کہ وہ ہر سال گلی میں ہونے والے دورہ قرآن کو ضرور لے گی۔ اور وہ سوچنے لگی دورہ قرآن میں جا کر میں نے قرآنِ کریم کا نہ صرف ترجمہ پڑھا بلکہ اس پر غوروفکر بھی کیا ۔اور یہ دورہ قرآن،حقیقتاقران مجید کو سمجھنے کے لئے شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے ۔۔۔۔۔اور وہ یہ سوچ کر انتہائی مطمئن ہو گئی ۔





































