
اسماء معظم
ہرسال 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے ۔عورت خاندان کی بنیاد ی اکائی ہے۔اسلام نے اس کےجو حقوق متعین کیے ہیں وہ اس کوپورے ملنے
چاہئیں۔عورت بہن، بیٹی ،بیوی اور ماں کی روپ میں آ تی ہے۔وہ خواہ کسی حیثیت میں ہو بہن، بیٹی، بیوی اورماں، اس کے تمام حقوق اسلام نے متعین کر دیے ہیں اور یہ حقوق وہ ہیں جن میں سے بعض کی گرد تک جدید دنیا نہیں پہنچ سکی۔ جدید مغربی معاشروں میں عورت کو ان میں سے بعض حقوق کہیں سولہویں صدی،کہیں سترہویں، کہیں اٹھارہویں ،کہیں انیسویں اور کہیں بیسویں صدی میں ملے ہیں اورامریکا جو جاہلی تہذیب کا امام ہے وہاں آ ج بھی عورت بعض جگہوں پرمعاوضے کے لحاظ سے مرد سے پیچھے ہے ۔میجر جنرل کے عہدوں تک پہنچ جانے والی خواتین کو جنسی ہراسگی کا سامنا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
یہی وہ سارا عالمی منظر ہے جس سے نام نہاد آ زادی نسواں کی تحریک ابھری ہے جو درحقیقت خاندان کو تباہ کرنے کی سامراجی سازش ہے ،جس کا سارا زور جنسی آ زادی، مادر پدر آ زادی پر پے .یہی وہ عالمی منظر نامہ ہے جس میں مقابلے کے لئے جماعت اسلامی پاکستان خواتین اور دنیا بھر میں ہماری ہم خیال تنظیمیں کاوش کر رہی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ خواتین کے اصل حقیقی مسائل کو اجاگر کیا جائے اور ان کا حل نکالا جائے۔
آٹھ مارچ عالمی یوم خواتین کے موقع پر ہم اپنے عزم کو دہراتے ہیں کہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی جدوجہد پاکستانی خاتون کے لئے ایک باعزت اور محفوظ زندگی کی جدوجہد ہے۔ ہم اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ عورت کی خوشیاں اس کے خاندان سے منسلک ہیں اور ایک پرسکون زندگی کے لیے خاندان کی بقا کی ضرورت ہے ۔عورت کا حق ہے کہ عورت اور اس کے بچوں کی کفالت کی جائے اوراگر ضرورت پڑے تو اس کو باعزت روزگار کےمواقع بھی فراہم کیے جائیں۔ ہماری ورکنگ وومن کے لیے سہولتوں کا فقدان ہے۔ بچےکی پیدائش اور پرورش کے لیے عورتوں کو جس طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے، ہمارے گاؤں، دیہاتوں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین اس سے محروم ہیں۔ ان کو یہ تمام طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور ہمارے دین اسلام کی ہدایت بھی ہے۔ اس کے باوجود بہت سے پسماندہ علاقوں کے جاگیر دارانہ نظام میں لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں،جبکہ ان علاقوں کی نمائندے ہمارےپارلیمنٹ میں بھی موجود ہیں۔ ہم پاکستانی خواتین کو تمام سماجی، سیاسی اور معاشی حقوق دلوانا چاہتے ہیں جو اسلام ان کو دیتا ہے ،مگر ہمارا موجود ہ معاشرہ یا قانون ان کی فراہمی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں عورت ایسے رسوم و رواج اور روایات کی پابند ہے جو بحیثیت انسان اس کی حق تلفی کا باعث ہیں اور ہمارے دین کے بھی منافی ہیں ۔اس رسم و رواج کے خاتمے کے لیے اصلاح معاشرہ کے ساتھ ساتھ قانونی جدوجہد بھی ہمارے پروگرام کا حصہ ہے۔
ہم معاشرے کی عورت کو مضبوط ہی نہیں بلکہ مشرقی اقدار کا پابند بھی دیکھنا چاہتی ہیں۔ ہم معاشرے کی عورت کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں اور اس کے لیے حقیقی رشتوں اور چار دیواری کے تقدس کےسمجھوتے پر ہرگز قائل نہیں ۔ہم اس موقف کی بھی تائید کرتے ہیں کہ ماں ،بہن ،بیٹی اور بیوی ہر روپ میں محترم ہے اور اس کا مقام ومرتبہ جو خالق کائنات نے خود اسے عطا کیا ہے،اس پر کوئی دو رائے نہیں ہیں۔عورت پرنہ ظلم ہونا چاہیے اور نہ ہی اسے ظالم ہونا چاہیے ۔حقوق و فرائض کو میدان جنگ بنانے کے بجائے انہیں خوش اسلوبی سے ادا کرنا چاہیے۔ہم خود عورت ہیں ۔ ایک زبردست قوت ہیں ۔ہمارے ہاتھ ہی دوسری عورت کو تحفظ دیں گےاور معاشرے کو وہ مرد بھی دیں گے جو سربراہی کی ذمہ داری خوش اسلوبی سے ادا کرسکے۔کمزور مقدمہ اور ناکافی شہادتوں والا ڈرامہ جس کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 86 سال قید کی سزا دی گئی ہے ۔ یہ حقوق نسواں کا راگ الاپتے مغربی معاشرے کے منہ پر عالمی یوم خواتین کے موقع پرایک زبردست طمانچہ ہے۔
یوم خواتین کے اہم موقع پر ہم چاہتے ہیں کہ آ پ تمام خواتین بھی اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں ۔سپاہ حق کا ساتھ دیں۔ جس کاہر فرد کھلی کتاب ہے۔ اس کے لیے اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہمارا ساتھ د ے کر نہ صرف دنیا میں بھلائیاں سمیٹیں بلکہ آ خرت میں بھی سرخروئی کا باعث بنیں۔
یہ حقیقت ہے کہ عورت وہ مبارک ہستی ہے جس کی گود میں قومیں پلتی ،بڑھتی اورترقی کرتی ہیں۔ اسی کے دم سے دنیا کی رونق ہے۔زندگی کی ساری خوشیاں عورت ہی کے ذات سے وابستہ ہیں۔یہ کہا جائے کہ تصویر کائنات میں رنگ، وجود زن سے ہی عبارت ہے تو بے جا نہ ہوگا۔۔۔۔
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کادر مکوں
مکالمات افلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
(علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ)





































