
اسماء معظم /حریم ادب
ماریہ ابھی رمضان کا سودا لکھ رہی تھی کہ امی کی آواز آئی ۔۔۔۔۔۔بیٹا کھانے کا سوڈا ضرور لکھ دینا پکوڑوں کے لیے سودے کے پرچے میں ،امی نے
ماریہ سے کہا اور باورچی خانے کی طرف روانہ ہوگئیں ۔
سلمہ یہ سودے کا پرچہ مکمل ہوگیا ہے؟ اب دےاؤں جنرل سٹور میں؟ سلمہ کے شوہرنے سلمہ سے کہا
ابھی ٹھہر جائیں تھوڑا سا سودا لکھنا رہ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ بیٹا ماریہ اس میں چاٹ مصالحہ کی چیزیں تو جلدی جلدی لکھ دو۔۔۔۔۔۔ماریہ کی امی نےپیار سے ماریہ سے کہا ۔
جی اچھا ۔۔۔۔۔۔ماریہ نے کہا اور باقی سودا لکھنے لگی ۔
لکھو, ثابت دھنیا ،سونف ،ثابت سرخ مرچیں ،کالا نمک ،سفید زیرہ۔۔۔۔۔۔ ماریہ نے جلدی جلدی لکھ کر سودے کا پرچہ اپنے ابو جان کو تھما دیا جو اسی انتظار میں کھڑے تھے۔
ماریہ کی امی یہ سوچ کر کہ کام کی زیادتی ہے اور وقت کم جلدی جلدی کاموں کو نمٹانے لگیں۔۔ ان کی ذہن میں کاموں کی ایک طویل فہرست تھی ۔فریج کی صفائی،کپڑے دھونا۔۔۔۔ لہسن، ادرک پیس کر رکھنا، کباب، سموسے،رول بنا کر رکھنا، املی کی چٹنی اور ماش کی دال کےبڑےغیرہ بنانا ۔۔۔۔۔ابھی وہ ذہن میں لمبی چوڑی کاموں کی فہرست بنا ہی رہی تھیں کہ فون کی بیل بجی۔
جی کون۔۔۔۔۔۔۔؟ سلمی نے فون ریسیو کیا ۔
میں عظمیٰ بول رہی ہوں سلمی۔۔۔۔۔عظمی نے کہا
ہاں ۔۔۔۔۔ہاں عظمیٰ خیریت ۔۔۔۔کیسے یاد کیا۔۔۔؟
ہاں خیریت ہے، کل استقبال رمضان کا پروگرام رکھا ہےسوچا تمہیں بھی کہ دوں
ارےعظمی میں کیسے آؤنگی۔۔۔۔۔ چاروں طرف کام ہی کام رکھے ہیں صرف 15 دن رہ گئے ہیں رمضان المبارک کی آمد میں ۔۔۔۔۔میرا آنا تو عظمیٰ ناممکن ہے۔
ارے سلمہ تم یہ کیا کہہ رہی ہو میرے گھر کوئی تقریب ہو اور تم اس تقریب میں نہ آؤ یہ کیسے ہو سکتا ہے دیکھو اگر ایسا کیا تو کان کھول کر سن لو میری تمہاری دوستی ختم ۔
ارے ۔۔۔۔۔ارے۔۔۔۔! یہ کیا کہہ رہی ہو تم ۔۔۔۔۔۔تم تو واقعی ناراض ہو گئیں۔۔۔ اچھا دیکھو میں ضرور آؤں گی ٹھیک، اب تو خوش ہو نان۔۔۔۔؟
سلمہ سے عظمی کی ناراضگی نہ دیکھی گئی اورجھٹ وہ تیار ہو گئی اس کے گھر استقبال رمضان کے پروگرام میں جانے کے لیے ۔
ٹھیک ہے اب تم نے خوش کیا ناں۔۔۔۔۔۔ ورنہ میں تو اب کبھی بھی فون نہ کرنے کے خیال سے فون بند کرنے والی تھی۔
نہیں نہیں چلو میں ضرور آ نے کی کوشش کروں گی ۔۔۔۔ اور پھر دوسرے دن سلمی عظمی کے گھر استقبال رمضان کے پروگرام میں پہنچ گئی ۔
درس قرآن جاری تھا ۔۔۔تمام خواتین بڑی محویت سے درس سننے میں مصروف تھیں۔۔۔۔ بہنو! بڑی برکتوں ،رحمتوں اور فضیلتوں کا مہینہ ہےاس کا استقبال ہمیں شاندار طریقے سے کرنا چاہیے۔ جس طرح ہم اپنے گھر میں آ نے والےمہمان کا کرتے ہیں اس کی پسند و ناپسند کا خیال کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے کسی بھی طرز عمل سے مہمان کو تکلیف نہ ہواور اپنے ظاہر وباطن سب کی صفائی کرتے ہیں رمضان المبارک جس کا پہلا عشرہ رحمت ،دوسرا مغفرت اور تیسرا دوزخ سے نجات ہے۔ اس میں زیادہ سے زیادہ رحمتیں سمیٹنی ہیں اپنی بخشش کروانی ہےاور ایسے تمام چھوٹے بڑے کام کرنے ہیں جن سے ہمیں دوزخ سے رہائی نصیب ہو اور جنت اس کا حصول ہو۔ ا س ماہ مبارک میں قرآن پاک نازل ہوا قرآن پاک کو اس ماہ میں اولیت دیں اور اس کو نہ صر ف ناظرہ سے پڑھیں بلکہ اس کا ترجمہ تفسیر بھی پڑھیں اس کو سمجھ کر پڑھیں گے تو ہم قرآن کا حق بھی ادا کر سکیں گےقران کو اولیت دیں ۔
سلمہ سوچنے لگی کہ میں نے پتہ نہیں کن کن کاموں کو اپنی فہرست میں اولیت دی ہوئی ہے اور نہیں دی تو قرآن پاک کو نہیں دی اس کا دل غم سے بھر گیاوہ بے چین و مضطر ب ہو گئ سو چنے لگی میں نے اپنی تمام پچھلی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق تو گزاری نہیں پتہ نہیں میرا اللہ تعالٰی کے ہاں کیا حشر ہو گا میں ضرور قرآن پاک کو اپنی تمام کاموں میں سرفہرست رکھوں گی سلمہ نے دل ہی دل میں کہا۔۔۔۔اور پھر اسے یاد آیا اس کے محلے میں پچھلے سال دورہ قرآن بھی تو ہوا تھا یکم تا 20 رمضان المبارک تک۔۔۔۔۔اور میں اپنے کاموں میں ایسی جکڑی ہوئی تھی کہ اس عظیم نعمت سےمحروم رہ گئی تھی کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا ۔۔۔!
نہیں ۔۔۔۔نہیں اب ایسا نہیں ہوگااس کا ضمیر ملامت کرنے لگاروزے کا مقصد تو ہماری بہن "تقویٰ "بتا رہی تھیں میں اس کے حصول کے لیے ضرور کوشش کروں گی اب جو ہوا سو ہوا اللہ مجھے معاف کر ے آ مین۔
اور پھر ۔۔۔۔سلمہ نے مصمم ارادہ کرلیا کہ یہ رمضان پچھلے رمضان سے بہتر انداز میں گزاروں گی یہ سوچ کر اپنے دل میں بے انتہا خوشی محسوس کر رہی تھی کہ رب نے مجھے استقبال رمضان پروگرام کے ذریعے ہدایت دی اوروہ مسرت و شادمانی کے ساتھ اپنے گھر کی طرف رواں دواں ہوگئ۔





































