
اسماء معظم
تقریبات تو ہم نے بہت سی اٹینڈ کیں لیکن رنگ نو کی تقریب ایوارڈز 2022 ایک منفرد اور خوبصورت تقریب لگی۔
تقریب کا آغاز محمد حسان کی تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔اس کے بعد محمد ابوبکر نےبارگاہ اقدس میں خوبصورت ہدیہ عقیدت پیش کیا۔
میزبانی کے فرائض محترم میزبان زین صدیقی صاحب انجام دے رہے تھے۔افتتاحی خطاب میں انہوں نےمہمانان گرامی کو خوش آمدید کہا اور مہمانوں کی آ مد پر شکریہ ادا کیا۔۔۔۔۔ چند کلمات ادا کرنے کے بعد محترمہ عالیہ صارم برنی جو کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں ۔معروف سماجی رہنما ہیں اور یاسمین شوکت صاحبہ جو زین صدیقی صاحب کی اھلیہ ہیں،کو اسٹیج پر آ نے کی دعوت دی۔۔
میزبان زین صدیقی صاحب نے رنگ نو کا تعارف،اس کے مقاصد اور اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ رنگ نو کیسے قائم ہوئی؟کس نے قائم کی؟،اور اس کو قائم کرنے میں کس کس کی کاوشیں شامل ہیں۔۔۔۔۔؟
انہوں نے کہا ہم چند دوست تھے صحافت میں تھے۔۔۔۔۔۔ہم سب دوستوں نے مل کر رنگ نو کا آ غا ز کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد اردو زبان کی ترویج و ترقی ہے۔۔ معاشرے میں جس بری طرح انگلش بولنے کا مرض بڑھ گیا ہے وہ میرے آ پ کے سامنے ہے۔اکثر مائیں یہ چاہتی ہیں ان کے بچے کسی طرح انگلش سیکھ لیں اور بولیں، لیکن ہم نے کہا کہ اردو زبان کو فروغ حاصل ہو ،ہم نے معاشرے میں اردو کی پہچان کرائی۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے کہا کہآ ج رنگ نو کی کامیابی میں حریم ادب کراچی کا بہت بڑا حصہ ہے ۔جس کی نگران محترمہ عشرت زاہد صاحبہ ہیں ۔جنہوں نےبہت سی خواتین کو رنگ نو سے متعارف کروایا اور مجھے خوشی ہے کہ یہ حریم ادب کی خوا تین امور خانہ داری کے فرائض کے ساتھ معاشرے کی اصلاح کا کام بھی سرانجام دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا ہمارے 3 چینل ہیں رنگ نو چینل کے نام سے helth کے نام سے اور یاسمین کا دسترخوان
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 5 ممالک رنگ نو سے جڑے ہوئے ہیں ۔جن میں پاکستان،امریکہ سعودی عرب،انڈیا وغیرہ شامل ہیں۔
تمام سامعین زین صدیقی صاحب کا پروگرام بڑی دلچسپی سے سن رہے تھے اس پروگرام کے بعد ان کی دلچسپی رنگ نو سے اور بڑھ گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور سامعین رنگ نو سے جڑنے کا سوچنے لگے۔
اب وقت تھا بچیوں کے تقریری مقابلے کا۔۔۔۔جس کے ججز کے فرائض محترم سعید حسن قادری صاحب نے انجام دئیے۔تقریر کا عنوان تھا "سچا پاکستانی کون۔۔۔۔؟تقریری مقابلے میں مریم مصباح،خولہ خان،زویا احمد،ماہم مصباح اور قرتہ العین حیدر شامل تھیں۔ بچیوں نے اپنی جوشیلی تقاریر سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔۔۔۔۔۔۔اور زور تالیاں داد کی صورت میں حاصل کیں۔
اور پھر جب تک رزلٹ کی تیاری کا عمل سامنے آ تا اس وقت تک کے لئے رنگ نو سے متعلق تعارفی اور معلوماتی ویڈیو، اسکرین پر دکھائی گئ جو کراچی حریم ادب کی رکن اور رنگ نو کی ممبر فرح مصباح نے تیار کی تھی۔ سب نے فرح مصباح کی اس خوبصورت ویڈیو کو بہبت سراہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور انتہائی پسندیدگی کا اظہار کیا۔
یاسمین شوکت ای میڈیا گروپ کی رہنما(زین صاحب کی اھلیہ) کو اسٹیج پر دعوت خطاب دی گئ ۔انہوں نے کہاکہ،رنگ نو ایک بہترین چینل ھے ۔آ پ اس کو سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائیں ۔ اس چینل کو لائیک شیئر کریں۔ اور یاسمین شوکت صاحبہ نےیہ بھی کہا کہ ،یہ ایک مثبت چینل ہے ۔اس میں تمام سرگرمیاں مثبت ہیں ۔اپ سب اس سے جڑیں۔ لوگوں کو بتائیں اس کو آ گے بھی پھیلائیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ، اس میں زین صاحب جو میرے شوھر ہیں ان کی دن ورات کی محنت اور دوڑدھوپ شامل ہے۔۔۔۔۔اور حاضرین میں سے بھی ھر فرد نے یہ محسوس کیا کہ زین صاحب کے گھر کے ھر فرد نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی۔۔۔جو قابل تعریف و تحسین ھے۔اب تقاریر کا رزلٹ تیار ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔تقاریر کے رزلٹ میں زویا احمد ۔۔۔۔اول انعام کی حقدارقرار پائیں قرتہ العین حیدر ۔۔۔۔دوسرا انعام ،مریم مصباح کو تیسرا اور چوتھا انعام ماہم مصباح کو ملا۔حاصرین کی زوردار تالیوں کی گونج میں یہ تقریری مقابلہ اختتام پذیر ہوا۔
انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔۔۔۔۔۔جی ہاں آ پ صحیح سمجھے اب وقت تھا مقابلہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انعامات کی تقسیم کا ۔۔۔۔پہلا انعام عالیہ زاہد بھٹی، دوسرا انعام عدنان علی اور تیسرے نمبر پر سمیرا غزل نے حاصل کیا ۔اور ان کو فردا فرداًایوارزڈ ز اور اسنادسے نوازا گیا۔مہمان صاحب نے پوزیشن ہولڈرز کے مضامین پر اپنے خوبصورت تبصرے بھی کئے ۔ قلمکار کے لئے تبصرے والی بات بہت خوش آ ئیند تھی۔۔۔۔۔۔ان پوزیشن ہولڈرز کے اعزاز میں بھرپور تالیاں بجیں اور وہ اپنے تمغے سنبھالے شاداں وفرحاں اپنی اپنی سیٹوں پر جا بیٹھے۔
اس کے فوراً بعد 10 بہترین رائٹرز ایوارڈز 2022کی تقسیم کی باری تھی ۔زین صاحب نے کہا کہ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی تقریب ہے۔قلم کار بہنوں نے مجھے زبردست تحریریں بھیجیں اور یہ سب رنگ نو سے جڑی ہوئ ہیں۔ ان بہترین رائٹرز ایوارڈز میں شھلا خضر ،فرح مصباح،افروز عنایت،اسماء معظم ،نازش مرتضیٰ،ثروت اقبال،نزہت ریاض،نادیہ احمد،شگفتہ وسیم اور شبانہ حفیظ شامل ییں۔تالیو ں کی گونج میں ان کو ایوارڈ ز تقسیم کئے گئے۔جو ان کے حوصلوں کو اور بلند کر گئے۔
ایوارڈز کی تقسیم کے بعد اب باری تھی پروگرام" رنگ نو سے متعلق رائٹرز کی رائے "کی۔زین صاحب نے کہا ،جو رنگ نو سے منسلک بہنیں رنگ نو سے متعلق اپنی رائے دینا چاہیں ہاتھ اٹھائیں ۔اس میں حصہ لینے والی بہنوں افروز عنایت، فرح مصباح، عالیہ زاھد ،اسماء معظم ،طاہرہ فاروقی صاحبہ وغیرہ نے اپنےاپنۓ خیالات اور رائےکا اظہار کیا۔ ان سب کی رنگ نو سے متعلق مجموعی طور پریہ رائے سامنے آ ئ کہ،"رنگ نو ایک منظبط چینل ہے۔ جو ایک ٹیم ورک کی صورت میں کام کر رہا ہے۔ بہت فعال کردار ادا کرتا ہے کہ، اگر کوئی تحریر دی جائے تو فوراً پبلش ہو جاتی ہے۔ حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ جس سے قلمکار ایک نئ تحریر کے لئے تازہ دم ہوجاتا ہے۔مثبت سرگرمیاں نظر آ تی ہیں ۔دین کی سربلندی اور اس کی عظمت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور یہ معاشرے کے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر چل رہے ہیں جو قابل ستائش ہے۔"اس پروگرام کے آ خر میں رنگ نو سے متعلق رائے دینے والی بہنوں کو انعامات سے بھی نوازا گیا۔
مہما نان گرامی کو وقتاً فوقتاً پروگراموں سے پہلے اور بعد میں بلایا جاتا رہا۔ جنہوں نے بہت مفید باتیں کیں ۔مہمانوں کی باتوں کو سب نے بہت غور سے سنا۔اور تمام خواتین و حضرات ان کی باتوں سے بہت مستفید ہوئے۔مہمانان گرامی میں رانا خالد محمود صاحب،عبدالستا جو کھیو صاحب ، سبیل الرحمن صاحب :سعید حسن قادری صاحب،معروف یو ٹیوبر وغیرہ شامل تھے۔اس کے علاوہ نعمان لودھی صاحب اور راؤ رفعت اعوان صاحب جو الخدمت کراچی سے تھے انہوں نے پس پردہ رہ کر رنگ نو کے اس پروگرام کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔جو قابل تعریف ھے ۔ محترمہ عشرت زاہد صاحبہ کو ایوارڈ،تحفہ اور چادر پیش کی گئ جس کو عشرت زاہد صاحبہ نے بہت سراہا۔رنگ نو سے جڑے بہت سارے شعبوں میں خدمات انجام دینے والوں کو انعامات ،ایواڈز سے نوازا گیا چادریں بھی پہنائے گئیں جو ان سب کے لئے خوشی کا باعث تھی۔رنگ نو سے منسلک تمام قلمکار وں کو اسناد بھی پیش کی گئیں ۔لذت کام و دہن میں لذیذ بریانی اور مزیدار چائے پیش کی گئ ۔تمام خواتین و حضرات نے اس سے خوب لطف اٹھایا۔ آ خر میں زین صدیقی صاحب کی دعا کے ساتھ اس پروگرام کا اختتام ہوا ۔اور تمام لکھاری یہ عزم لئے واپس لوٹے کہ ہم رنگ نو سے جڑ کر قلم کا حق ادا کرتے رہیں گے تاکہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو اور ہم سب آخرت میں سرخرو ہوں ۔





































