
اسماء معظم
رمضان المبارک کا مہینہ ہے وہ مہینہ ہے جسےبحیثیت مجموعی پوری قوم کے لیے نیکی کاموسم قراردیا گیا ہے۔ساری قوم بیک
وقت روزہ رکھتی اور افطار کرتی ہے۔سب ایک ہی وقت میں جاکرتراویح پڑھتے اور دوسری عبادات انجام دیتے ہیں۔اسی طرح پوری قوم کے اندر نیکی کرنے کا ایک ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔اس لیے اس زمانے میں نیکی خوب پھلتی پھولتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح بارش کے زمانے میں فصل عام زمانے کی بہ نسبت خوب پھلتی پھولتی ہے ۔چنانچہ رمضان کے دنوں میں آدمی جو نیکی کرتا ہے وہ اکیلے اسی کی نیکی نہیں ہوتی بلکہ بے شمار نیکیاں اس کو مل کر بڑھا رہی ہوتی ہیں ،چونکہ رمضان نیکیوں کا عام موسم ہے اس لیے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا فیضان بھی عام ہوتا ہے ۔ ایک آدمی جو نفل نماز بھی پڑھے ،کسی کے ساتھ بھلائی کرے ،جوخیرات بھی کرے اسے ان پر اتنا اجر ملے گا جتنا عام دنوں میں فرض ادا کرنے پر ملتا ہے۔ اسی طرح رمضان المبارک کے زمانے میں اگر کوئی شخص فرض ادا کرتا ہے، خواہ وہ زکوٰۃ ہو یا نماز یا روزہ تو اسے اس کا اتنا اجر ملے گا جتنا اس کو عام دنوں میں ستر گنا زکوۃ نکالنے، سترنماز یں پڑھنے یا ستر روزے رکھنے کا ملتا ہے ۔
گویا رمضان المبارک وہ مبارک مہینہ ہے جس میں نیکیاں فروغ پاتی ہیں اور شیاطین کی کارفرمائی رک جاتی ہے۔اس ماہِ مبارک میں آدمی جس قدر روحانی ترقی کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ کیونکہ اس میں ہر آدمی کی نیکی دوسرے کیلئے مددگار ثابت ہوتی ہے، ہر آدمی دوسرے کے روزے میں مددگار ہوتا ہے۔ عام دنوں میں روزہ رکھ کر دیکھیں تومعلوم ہوگا کہ اس میں کتنی شدت پائی جاتی ہے اور یہ کام رمضان کے مقابلے میں مشکل محسوس ہوتا ہےکیونکہ کوئی آدمی بھی روزے میں دوسرے کا مددگار نہیں ہوتا۔لیکن رمضان المبارک میں یہ کیفیت نہیں ہوتی کیونکہ پورا معاشرہ مخصوص حالات میں ہوتا ہے۔ اس طرح ایک آدمی کو لاکھوں آدمیوں کے روزے سے مدد پہنچتی ہے اور ان کے تقویٰ اورنیکوکاری سے تقویت ملتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ رمضان میں انسان کی روحانی ترقی اور سیرت و کردار کی اصلاح اور تعمیر کے بے شمارمواقع پیدا ہو جاتے ییں ۔
ہم آج اس بگڑے ہوئے ماحول میں بھی دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رمضان المبارک کے مہینے میں گالم گلوچ کررہا ہوں یا کھا پی رہا ہو یا کوئی خلاف اسلام بات کر رہا ہوتو کہا جاتا ہے کہ بھائی اس رمضان میں یہ کیا حرکت کر رہے ہو ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کو اب تک اس بات کا احساس ہے کہ رمضان کا احترام کیا معنی رکھتا ہے اوراس ماہ میں ہر آ دمی کو اچھائی کی طرف رغبت بہت بھلی لگتی ہےاور بدی سے وہ نفرت کرتا ہے ۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبات جمعہ میں جو ہدایات فرمائی ہیں ان ہدایات کے مخاطب وہ سچے اہل ایمان ہیں جو نہایت صالح اور متقی تھے۔اللہ تعالیٰ سے ڈر کر زندگی بسر کرنے والے اور ان کی ہدایات کی پیروی کرنے والے تھے ان سے یہ فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں یعنی جنت اور رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ،اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ رمضان کی آمد کے بعد جتنی نیکیاں کرسکتے ہو کرتے چلے جاؤ، جنت کے سب دروازے تمہارے لیے کھلےہیں،اگر صدقہ و خیرات کے دروازے سے جنت میں پہنچ سکتے ہیں تو صدقہ و خیرات کے دروازے سے پہنچواورروزے کے دروازے سے پہنچ سکتے ہو تو روزے کے دروازے سے پہنچو،اگر تلاوت قرآن کےراستے سے پہنچ سکتے ہو تو اس راستے سے پہنچو،اگربرائیوں سے اجتناب کے ذریعے سے پہنچ سکتے ہو تو اس ذریعے سے پہنچو۔ الغرض جنت میں پہنچنے کے لیے تمام دروازے پوری طرح تمہارے لئےکھلے ہیں اور اب یہ تمہارا کام ہے کہ خود کو جنت کے قابل بنا لو ۔
ماہ رمضان المبارک ایک عظیم ماہ مبارک ہے، یعنی بزرگی والا اور بڑی برکت والا مہینہ ،ماۃ رمضان کے بزرگ یا برکت ہونے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اس کے دنوں، گھنٹوں یا منٹوں میں کوئی ایسی برکت شامل ہےجو لوگوں کو خود بخود حاصل ہوجاتی ہےبلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالی ہمارے لیے ایسے مواقع پیدا کردیتا ہے جس کی بدولت ہم اس کی بے حدوحساب برکات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس مہینے میں ایک آدمی اللہ تعالی کی جتنی زیادہ عبادت کرے گا اور نیکیوں کے جتنے زیادہ کام کریگا وہ سب اس کے لیے زیادہ سے زیادہ روحانی ترقی کا وسیلہ بنے گیں۔اس لیے اس مہینے کے بابرکت ہونے کا مطلب در حقیقت یہ ہے کہ اس کے اندر ہمہارے لیے برکتیں سمیٹنے کے بے شمار مواقع فراہم کر دئیے گئے ہیں کہ ہم جتنی نیکیاں سمیٹنا چاہیں سمیٹ سکتے ییں۔۔یہ اب ہمارا ظرف ہے کہ سمندر کے چند قطرے لیتے ہیں یا پورا کا پورا سمندر۔
ماہ رمضان المبارک میں تمام مسلمان بیک وقت روزہ رکھتے ہیں اور ایک آدمی الگ الگ روزہ نہیں رکھتا اس لیے بیک وقت روزہ رکھنے سے پوری قوم کے اندر اللہ تعالی کی طرف رجوع کا ایسا ماحول پیدا ہو جاتا ہے جو دوسرے دنوں میں نہیں ہوتا۔ اسی لیے رمضان وہ مہینہ ہے جس میں آدمی کے اندررجوع الی اللہ کی ایک مسلسل کیفیت جاری و ساری رہتی ہے کیونکہ جو آدمی بارہ چودہ گھنٹے روزے سے ہوتا ہے اسے گویا ہر وقت یہ یاد ہوتا ہے کہ میں روزے سے ہوں اور میں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے روزہ رکھا ہوا ہے ،لہٰذاجب اسے پیاس لگے گی تو وہ پانی نہیں پئے گا کیونکہ اسے یاد ہوگا کہ وہ روزے سے ہے جب اسے بھوک لگے گی اور کھانے کی خواہش ہوگی تو یاد ہوگا کہ روزے سے ہے اس لئے کھانے سے مجتنب رہے گااس طرح رمضان المبارک کے پورے مہینے میں آدمی کا رجوع مسلسل اللہ تعالیٰ کی طرف رہتا ہے،وہ پھر جب افطار کرتا ہے تو گویا وہ خود محسوس کرتا ہے کہ یہاں تک تو میرے رب نے مجھے باندھ رکھا تھا اب اس نے مجھے اجازت دے دی ہے تو وہ روزہ افطار کررہا ہوتا ہے اس کے بعد کھانا کھاتا ہے پھر تراویح کے لیے چلا جاتا ہے جس سے پھر رجو ع اللہ کی نوبت آتی ہے اس طرح مسلسل چوبیس گھنٹے اللہ تعالیٰ کی طرف اس کا رجوع رہا ۔اور پھر یہ رجوع ایک آدمی کا نہیں ہوتا ہےبلکہ پوری قوم کا ہوتا ہے۔
گویا ماہ رمضان اس بات کی ٹریننگ کراتاہے کہ میں بندہ ہوں اللہ تعالیٰ میرا مالک ،خالق اور حاکم ھے مجھے اسی کے حکم پر سر تسلیم خم کر ناہے وہ جب جس کام کا حکم دے مجھے بغیر کسی چون وچرا کےبجا لاناہے۔اور جس طرح رمضان المبارک میں رجوع الی اللہ کی کیفیت ہوتی ہے ہمیں رمضان المبارک کے بعد بھی زندگی کے ہر شعبے میں رجوع الی اللہ کی اس کیفیت کو برقرار رکھنا ہے۔ انشاء اللہ





































