
اسماء معظم / حریم ادب
خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! خدا نے تمہیں بہترین دودن اظہار مسرت کے لیے عطا فرمائے ہیں ایک عید الفطر اور دوسراعید الاضحی ۔
آج عید الفطر کا پہلا دن ہےعنی یکم شوال۔۔رمضان المبارک کے لمحات سعید اور مبارک شب و روز رخصت ہوئے ۔عید کی صبح نمودار ہوئی ،مسلمان عید کی خوشیوں میں سرشار اور مگن ،عید کی تیاریوں اور خوشیاں منانے میں مصروف ہیں۔ یہ عید الفطر کا دن یقینا سب کے لئےہی خوشی کا دن ہے، اظہار مسرت کا دن ہے ۔یہ خدا کا دیا ہوا بہترین تحفہ ہے ۔ایک بہترین تہوار ہے۔۔۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ خوشی و مسرت کس بات کی؟
ہم نے رمضان کے مقدس مہینے کو پایا جو تمام برکتوں رحمتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہوا اگر ہم نے اس ماہ مبارک کو خدا کا انعام سمجھ کر اپنی عاقبت بنانے اور مغفرت و نجات کا سامان کرنے کی فکر کی ہے تو یہ خوشی کی بات ہے اور ہم عید الفطر کا تہوار منانے کے حقیقی مستحق ہیں اور وہ شخص جس نے اس ماہ مقدس رمضان المبارک کو پایا اور پورا مہینہ غفلت و نادانی اور لاپرواہی سے گزار دیا اور سحری اور افطاری کے علاوہ کوئ کام نہ کیا سارا دن پڑےسوتا رہا اور ہر وہ کام کیا جو دین اسلام سے ٹکراتا تھا اور اس کے کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی پورے ماہ جھوٹ پر اسی طرح قائم رہا جس طرح باقی ماہ انتہائی ڈھٹائی سے جھوٹ بولتا تھا
حالانکہ اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ،"جس شخص نے روزہ رکھنے کے باوجود جھوٹ بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ بھوکا اور پیاسا رہتا ہے ۔"
یعنی روزہ رکھو آنے سے اللہ تعالی کو مقصود انسان کو نیک بنانا ہے اور اگر وہ نیک ہی نہ بننا چاہے اور سچائی پر اس نے اپنی زندگی کی عمارت نہیں اٹھائی، رمضان میں بھی باطل اور نا حق بات کہتا اور کرتا رہا۔ رمضان کے باہر بھی اس میں سچائی نہیں دکھائی دیتی تو ایسے شخص کو سوچنا چاہیے کہ وہ پھر کیوں صبح سے شام تک کھانے پینے سے رکا رہا اس حدیث کا مقصود یہ ہے کہ روزہ دار کو روزہ رکھنے کے مقصد اور اس کی اصل روح سے واقف ہونا چاہیے اور ہر وقت اس بات کو ذہن میں تازہ رکھنا چاہیے کہ کیوں روزے میں کھانا پینا چھوڑ رکھا ہے ؟ پھر اس شخص نےغیبتیں کیں ،لوگوں کا حق مارا اور روزہ نہ رکھنے پر ڈھٹائی سے سب کے سامنے کھاتا پیتا رہا اور اس نے رمضان جیسے مقدس مہینے کا بھی کوئ احترام نہ کیا۔ایسے شخص کا روزہ رکھنا یا نہ رکھنا برابر ہے ایسے شخص کے لئے عید کی خوشی کوئ معنی نہیں رکھتی اس کو عیدالفطر کا تہوار منانے کا بھی کوئی حق نہیں ۔عید کی خوشی تو اس کے لئے ھے جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے اور پورا مہینہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے تمام وہ کام کرتا رہا جس کا اس کے رب نے حکم دیا تھا۔تو وہ شخص انتہائی خوش نصیب ھے۔اور عید کا تہوار منانے کا مستحق ہے۔
خوش نصیب شخص نے رمضان کو پانے سے پہلے ہی اس مقدس مہینے کی پلاننگ کی ۔حقوق العباد کے لحاظ سے اس نے تمام جاننے والوں اور اعزاواقرب کی طرف سے دل صاف کرلئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ"لیلۃ القدر کی صبح فرشتے جبریل سے پوچھتے ہیں اللہ نے احمد کی امت کے مومنوں کی حاجتوں میں کیا معاملہ فرمایا ؟جبرئیل کہتے ہیں اللہ نے ان پر توجہ فرمائی اور چار آدمیوں کے سوا سب کو معاف فرما دیا . صحابہ نے عرض کی وہ 4 کون ہیں؟فرمایا شراب کا عادی،والدین کا نافرمان،قطع رحمی کرنے والا اور کینہ رکھنے والا(بہیقی)"
اس خوش نصیب شخص کے تمام کاموں میں نمازیں خضوع و خشوع کے ساتھ ،قرآن مجید جو اس ماہ مبارک کا اصل محورومرکز ھے، اس پر روزانہ غوروفکر دورہ تفسیر قرآن کے ذریعے،صدقہ وخیرات، قیام الیل وتراویح فطرے کی ادائیگی نالہ نیم شب میں دعائیں اور اذکار شامل رہیں ۔
اور نہ صرف اس خوش نصیب شخص نے سب کی طرف سے دل صاف کرلئے بلکہ اپنی پلاننگ اور منصوبہ بندی اس طرح ترتیب دی کہ رمضان المبارک جیسے مہینے میں وہ ہر کام انجام دے سکے جس کا حاصل تقویٰ ہے. رمضان المبارک اپنے تین عشروں کے ساتھ سایہ فگن ہوا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جنہم سے نجات کا ہے۔جس میں اس نے شب وروز عبادتیں کیں قیام الیل صدقہ و خیرات،لیلتہ القدر اور سب سے بڑھ کر قرآن مجید پر غوروفکر۔۔۔۔۔۔ور اس ماہ کی شب و روز کی عبادتوں سے فارغ ہوتے ہی ہم عید کی خوشی مناتے ہیں ۔دو گانا شکر ادا کرتے ہیں ۔اور یہ اس حقیقت کا اظہار شکر ہے کہ خدا کے فضل و کرم سے ہمیں رمضان کی مبارک ساعتیں حاصل ہوئی اور اسی کی توفیق سے ہم نے یہ تمام کام سر انجام دئیے اگر خدا کی توفیق نہیں ہوتی تو ہم یہ کام سر انجام نہیں دے سکتے تھے یہ للہ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے ۔اس کی طرف سے بہت بڑا اعزاز ہے۔
ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے ممبر پر چڑھنے لگے پہلے زینے پر جب آپ نے قدم رکھا تو فرمایا آمین دوسرے زینے پر قدم رکھا تو پھر کہا آ مین تیسرے زینے پر قدم رکھا پھر فرمایا آمین ۔۔۔جب آپ فارغ ہوئے تو صحابہ کرام نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ ج ہم نے یہ ایسی بات دیکھی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔فرمایا ! جب میں خطبہ دینے کے لئے ممبر پر چڑھنے لگا اور ممبر کے پہلے زینے پر قدم رکھا تو جبرئیل امین نمودار ہوئے اور انہوں نے کہا ،"خدا اس شخص کو ہلاک کر دے جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور پھر بھی اپنی مغفرت کا سامان نہیں کیا." اس پر میں نے کہا آ مین۔
خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن کم نصیبوں کو محروم اور تباہ حال کہیں کون کہہ سکتا ہے کہ ان کو بھی عید کی خوشیاں منانے اور مبارکباد لینے کا حق ہے ۔
الغرض عید کی خوشی میں اس بدنصیب کا کوئی حصہ نہیں ہے جو رمضان کی برکتوں سے محروم رہا اور رمضان کے بابرکت شب و روز پانے کے باوجود اس نے اپنی مغفرت کا سامان نہیں کیا ۔یکم شوال کی صبح کا طلوع ہونا ہی پیغام مسرت نہیں ہے یہ صبح تو ہر ایک پر طلوع ہوتی ہے لیکن اس خوشی میں صرف اسی کا حصہ ہے جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہو کر یہ کہہ سکے پروردگار تو نے جو مبارک مہینہ مجھے عطا فرمایا تھا میں نے اسے ضائع نہیں کیا میں دن بھر میں بھی تیری خوشی کے کام کرتا رہا شب میں بھی تیری عبادت میں لگا رہا ۔
اور ایسے ہی لوگ عید کے دن خوشی و مسرت منانے کے حقیقی مستحق ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور کبریائی و عظمت بیان کرنے کے مستحق ہیں۔
علامہ اقبال نے اس سلسلے میں کیا خوب کہا ،
پیام عیش ومسرت ہمیں سناتا ہے
ہلال عید ?ہماری ہنسی اڑاتا ہے





































