
اسما معظم / پہلی قسط
ثناء کی والدہ انڈیا میں مقیم تھیں ۔ان کی طبیعت کئ ماہ سے خراب تھی ۔ثنا ابھی چھ ماہ پہلے ہی ان سے مل کر آئی تھی لیکن اب پھر ان کی طبیعت
کی پہلے سے کہیں زیادہ خرابی کی اطلاعات مل رہی تھیں۔ ثنا نے یہ سن کر کہ امی کی طبیعت زیادہ خراب ہے ۔دوبارہ وہاں جانے کے لیے ویزے کی درخواست دے دی تھی اور اب تو اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح اپنی والدہ کے پاس پہنچ جائے ۔
وہ انڈیا جانے کے لیے انتہائی بے چین ومضطرب تھی۔ وہ ویزے کے ملنےکا انتظار بڑی شدت سے کررہی تھی۔۔۔ لیکن اب حالات بہت بدل گئے تھے ویزا اتنی آسانی سے نہیں ملا کرتا تھا ۔دن پر دن گزرتے جا رہے تھے ۔لیکن ثنا کو ویزا نہیں مل رہا تھااور امی کی بیماری طول پکڑتی جارہی تھی بار بار ان کی خرابی طبیعت کی خبر سن کر اس کا دل ہلکان ہوئے جا رہا تھااور ثنا کو ماں کی بیماری کی خبر تڑپائے دے رہی تھی ۔ان کی دوری اس کو ہلکان کے دے رہی تھی۔۔۔۔ کہ اسی اثنا اس کویہ خبر ملی کہ"............ ماں اس دنیا سے چلی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
ثناکو یہ سنتے ہی ایسا لگا جیسے اس پر پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو۔وہ شدت غم سے نڈھال ہو کر گر پڑی۔ ماں ۔۔۔میں ۔۔۔تجھے ۔۔۔دیکھ ۔۔۔نہ سکی ۔۔۔الفاظ جیسے اس کے حلق میں اٹک کر رہ گئے ۔۔۔۔۔کاش امی میں آخری وقت میں آپ کی خدمت کر سکتی۔ آپ کی تیمار داری کرتی۔ آپ کے سر میں تیل ڈالتی ،کنگھا کرتی، آ پ کو کھانا کھلاتی ،آ پ کی خدمت کرتی وہ زاروقطار رودی۔۔۔۔۔کاش
چوم لوں تیرے پاؤں پلکوں سے ماں
اشکوں سے آنکھوں کو با وضو کر لو ں
ثناکو جب بھی ماں کا خیال آتا اس کا دل غم سے بھر جاتا وہ سوچتی میری ماں ۔۔۔عظیم ہستی۔۔۔ اس دنیا سے چلی گئی۔ باپ تو جب یہ چھوٹی سی تھی دنیا سے جا چکے تھے ۔ماں نے اس کو کس کس جتن سے پالا تھا ۔کتنی تکلیفیں اٹھائی تھیں۔لکھا پڑھا کر جوان کیا اور پاکستان سے ایک اچھا رشتہ آتے ہی بیٹی کے ہاتھ پیلے کر دیے۔ اور آج بیٹی ماں کے دنیا سے چلے جانے پر انتہائی غمگین اور اداس ھے ۔حالاننکہ اس نے بھی اپنے والدین کی خدمت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی ۔شادی سے پہلے شادی کے بعد وہ ماں کے پاس گئی اورکئی دفعہ وہ ان کے پاس جا کر رہی اور ان کی خدمت کی لیکن والدیں کا حق کتنی خدمت کرتی کبھی ادا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ لیکن آخری وقت اس کے نصیب میں جانا نہ تھا اور وہ دل مسوس کر رہ گئی۔۔۔۔۔!! اس کے والدین نے بچپن سے ہی اس کی گھٹی میں یہ بات ڈال دی تھی کہ انسان پر سب سے زیادہ حق اس کے والدین کا ہی ہے اور ماں اور باپ سے اچھے سلوک کی توفیق کو اپنے لئے سعادت سمجھنا چاہئے اس پر شکر گزار ہونا چاہیے ۔یہ سوچتے ہوئے۔۔۔ اس کا دل چاہا کہ اپنے بچوں اور آئندہ آنے والی نسلوں کو ضرور والدین کے حقوق کی اہمیت اور ان کی قدروقیمت سے آ گاھ کروں ۔ اور سب سے کہو ں کہ حقوق العباد میں سب سے زیادہ اور اہم ترین حق" والدین"کا ھے۔یہ سوچتے ہوئے اس نے قلم اور کاغذ سنبھال لیا اور اپنے بچوں اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے اس کو مضمون کی شکل دیدی وہ کہتی میں بھی ان حقوق کو ادا کر سکوں تاکہ صحیح معنوں میں والدین کے لئے صدقہ جاریہ بن سکوں اس نے مضمون کو عنوان دیا "والدین شجر ہائے سایہ دار "......اور پھر وہ مضمون لکھنے بیٹھ گئی.۔۔۔۔
اس مضمون کو اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں ۔





































