
اسما معظم (دوسری قسط)
ثناکو شدت سےخدا کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر و قیمت کا احساس ہونے لگا ۔والدین خدا کا دیا کتنا بڑا تحفہ ہیں اور کتنی عظیم نعمت بھی ۔اس احساس اور جذبے کو لئے وہ اپنے
بچوں اور آ نے والی نسلوں کو یہ پیغام دینا چاہ رہی تھی اور اس نے بغیر کسی تاخیر کے اس موضوع پر لکھنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
حقوقِ اللہ کے بعد حقوق العباد میں سب سے زیادہ اور اولین حق ماں باپ کا ہے۔ماں باپ کے حقوق کی اہمیت اور اس کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ قرآن پاک نے جگہ جگہ ماں باپ کے حق کو خدا کے حق کے ساتھ بیان کیا ہے ۔۔۔۔۔!سورہ بنی اسرائیل آ یت نمبر 23 تا 24 میں فرمایا کہ۔۔۔۔۔"والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہواور دعا کیا کرو پروردگار ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا ."
اللہ کے بعد انسانوں میں سب سے مقدم حق والدین کا ہے .اولاد کو والدین کا مطیع،خدمت گزاراور ادب شناس ہونا چاہئے۔ معاشرے کااجتماعی اخلاق ایسا ہونا چاہئے جو اولاد کو والدین سے بے نیاز بنانے والانہ ہو بلکہ ان کا احسان مند اور ان کے احترام کا پابند بنائے اور بڑھاپے میں اسی طرح ان کی خدمت کرنا سکھائے جس طرح بچپن میں وہ اس کی پرورش اور نازبرداری کر چکے ہیں ۔
نیز اسلامی معاشرے کی ذہنی اور اخلاقی تربیت میں اور مسلمانوں کے آداب تہذیب میں والدین کے ادب اور اطاعت اور ان کے حقوق کی نگہداشت کو ایک اہم عنصر کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے ۔ان چیزوں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہ اصول طے کر دیا کہ اسلامی ریاست اپنے قوانین اور انتظامی احکام اور تعلیمی پالیسی کے ذریعے سے خاندان کے ادارے کو مضبوط اور محفوظ کرنے کی کوشش کرے نہ کہ اس کو کمزور بنائے .
حضرت معاویہ بن جاہمہ فرماتے ہیں کہ میرے والد (جاہمہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا!" اے اللہ کے رسول میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں حاضر ہوا ہوں ،مشورہ حاصل کرنےکے لئے ،آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں موجود ھے؟انہوں نے کہا ہاں وہ زندہ ہیں۔اپ نے فرمایا!" پھر تو تم ان کی خد مت میں لگے رہو تمہاری جنت ان کے قدموں میں ہے۔" ......اب دیکھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہے کہ ان کی ماں زندہ ہیں اور یہ بھی معلوم تھا وہ ضعیف ہو چکی ہیں .بیٹے کی خدمت کی محتاج ہیں اور بیٹے کو جہاد میں شرکت کی تمنا تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ "تمہارے جہادکا میدان تو تمہارے گھر میں ہے جاؤ اور ماں کی خدمت میں لگے رہو."
اس حدیث میں حضور نے جہاد جیسی عظیم عبادت پر ماں باپ کی خدمت کو ترجیح دی۔ اور وہ صحابی جو دل میں جہاد جیسی عظیم عبادت کو کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے ان کو واپس گھر لوٹا دیا ۔
ایک آدمی نے نبی سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟آپ نے فرمایا! تیری ماں ۔اس نے کہا پھر کون؟ آپ نے فرمایا! تیری ماں ۔اس نے کہا پھر کون ؟ آپ نے فرمایا! تیری ماں۔ اس نے کہا پھر کون؟ آپ نے کہا پھر تیرا باپ۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ ماں کا درجہ باپ سے بڑھا ہوا ہے یہی بات قرآن مجید سے بھی معلوم ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ سورہ لقمان میں اللہ تعالی فرماتا ہے !"ہم نے انسان کو والدین کی شکر گزاری کا تاکیدی حکم دیا ہے" اوراس کے فوراً بعد یہ بھی فرمایا کہ "اس کی ماں نے اس کو تکلیف پرتکلیف جھیل کر نومہینے تک اسے شکم میں اٹھایا،پھر دو سال تک اپنے خون سے اس کو پالا۔"....ادب و تعظیم کا جہاں تک سوال ھے باپ اس کا زیادہ مستحق ہے لیکن حدیث کی روشنی میں ماں کا درجہ بڑھا ہوا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !"اس کی ناک خاک آلود ہو( یعنی ذلیل ہو)یہ بات آپ نے تین مرتبہ دہرائی. لوگوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول کو ن ذلیل ہو؟( یعنی یہ جملہ کن لوگوں کے حق میں آپ فرما رہے ہیں ؟)آپ نے فرمایا کہ ,"وہ شخص جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پایا یا ان دونوں میں سے ایک کو یا دونوں کو پھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا ۔"..... اس حدیث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ خدمت والدین کا صلہ درحقیقت جنت ہے اور بدنصیبی و ذلت و رسوائی ہے اس شخص کے لئے جو اپنے والدین کو پائے ان میں سے ایک یا دونوں کو اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت کا حقدار نہ ٹھہرے ۔ایک اورحدیث میں والدین کا حق اس طرح بیان ہوا ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اس نے کہا! اے اللہ کے رسول میں نے اپنی ماں کو یمن سے اپنی پیٹھ پر لاد کر حج کرایا ہے ،اسے اپنی پیٹھ پر پر لیے ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا ،صفا مروہ کے درمیان سعی کی ،اسے لئے ہوئے عرفات گیا، پھر اسی حالت میں اسے لئے ہوئے مزدلفہ آیا اور منی میں کنکری ماری ،وہ نہایت بوڑھی ہے ذرا بھی حرکت نہیں کر سکتی۔ میں نے یہ سارے کام اپنی پیٹھ پر لئے ہوئے انجام دیے ہیں تو کیا میں نے اس کا حق ادا کر دیا ؟ آپ نے فرمایا !"نہیں, اس کا حق نہیں ادا ہوا "اس آدمی نے پوچھا "کیوں"؟ آپ نے فرمایا!" یہ اس لیے کہ اس نے تمہارے بچپن میں تمہارے لئے ساری مصیبتیں جھیلیں اس تمنا کے ساتھ کہ تم زندہ رہو اور تم نے جو کچھ اس کے ساتھ کیا اس ذہن کے ساتھ کہ یہ اب کتنے عرصے رہے گی۔"
اسی طرح نہ صرف ماں بلکہ رضاعی ماں کی تعظیم کے لئےحسن سلوک کی تعلیم دی گئی ہے ۔۔۔۔۔!
ابو طفیل فرماتے ہیں کہ، میں نے حضور کو مقامی جعرانہ میں دیکھا کہ آپ گوشت تقسیم فرما رہے تھے کہ اتنے میں ایک عورت آئی اور حضور کے قریب گئی ،تو آپ نے اپنی چادر بچھا دی۔ جس پر وہ بیٹھ گئی ،میں نے پوچھایہ کون ہیں؟ لوگوں نے مجھے بتایا کہ "یہ آپ ص کی ماں ہیں ۔جنہوں نے آپ ص کو دودھ پلایا ہے۔"
اسلام میں والدین کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ نہ صرف مسلمان والدین کےساتھ حسن سلوک کی تاکید آئی ہےبلکہ اگر والدین مشرک ہو ں تو ان کے ساتھ بھی مہربانی کا سلوک کرنے کو کہا گیا ہے ۔
حضرت ابوبکر کی بیٹی حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ اس زمانے میں جب کہ قریش اور مسلمانوں کےدرمیان صلح ہوئی تھی (صلح حدیبیہ) ,میری ماں(رضاعی ماں ) میرے پاس آئیں اور وہ ابھی اسلام نہیں لائی تھیں بلکہ شرک کی حالت پر تھیں،تو میں نے حضور سے پوچھا کہ ،میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ میں انہیں کچھ دو ں تو کیا میں انہیں دے سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا !"ہاں تم ان کے ساتھ مہربانی کا سلوک کرو ."
والدین کی نافرمانی کو حرام کہا گیا ہے. رسول نے فرمایا !"اللہ تعالی نے تم پر حرام کی ہے ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی ۔"
ثنا مضمون لکھ کر جب فارغ ہوئ تو اس نے سوچا ،والدین سے متعلق یہ وہ احکامات ہیں ان پر عمل تو اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب والدین حیات ہوں ۔۔۔۔اور یہ سوچتے ہی اس کا دل غم سے بھر گیا ۔کیونکہ اب اس کے والدین اس دنیا میں نہیں تھے۔ وہ سوچنے لگی ان باتوں پر کیسے عمل کیا جائے؟۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔اور پھر اس نے وہ باتیں جان لیں جن پر عمل کرکے اس درجے تک پہنچا جاسکتا ہے اور والدین کے فرمانبردار اولاد کی فہرست میں نام لکھوایا جاسکتا ھے ۔۔۔۔وہ باتیں کیا ہیں؟؟؟اس بارے میں بھی رسول اللہ نے رہنما ئ دی ھے (۔جاری ہے)





































