
اسماء معظم
دعوہ اکیڈمی مرکزبرائے خواتین کی جانب سے سرٹیفکیٹ (اعزازی سند) کا ملنا میرے لئےانتہائی خوشی کا باعث ہے، جس میں پوری دنیا سےمرد
وخواتین قلم کارشریک تھے۔یہ پروگرام بین الاقوامی سطح پرمنعقد کیا گیا تھا۔یہ پروگرام چھ لیکچرز پر مشتمل تھا ،جس کے روح رواں نامور صاحب طرز اور ایوارڈ یافتہ ادیب احمد حاطب صدیقی صاحب تھےاور اس پروگرام کی نگران انچارج دعوہ مرکز براۓ خواتین محترمہ ڈاکٹر فریال عنبرین تھیں۔
دعوہ اکیڈمی کی یہ تمام کلاسز فوراً بعد نمازمغرب زرم ہر منعقد ہوتی رہیں اور ہر جمعہ کو بعد نمازمغرب ہی یہ کلاس شروع ہو جاتی تھی۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے گھر کھانا بھی بعد نماز مغرب کھایا جاتا ہے،لہٰذا اس کلاس کی منصوبہ بندی میں رات کے کھانے سے لے کر لیکچرز سننےتک اگرچہ مجھے کئی مراحل سے گزرنا پڑا لیکن گھروالوں کا تعاون بھی خوب رہا۔ اس تعاون کی وجہ سے میں تمام لیکچرز لینے میں کامیاب ہوگئی جو اللہ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے۔ رب العالمین کا اس پرجتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
دعوہ اکیڈمی کی یہ کلاس 18فروری سے شروع ہو کر 25 مارچ تک تسلسل سے جاری رہیں۔ یہ تمام 6 لیکچرزچھ ہفتوں پر مشتمل تھے،جو میں نے باقاعدگی سے لئےاور ہر لیکچر کو میں نے دوبارہ بھی سنا،کیونکہ یہ لیکچرز ریکارڈ تھےاور نہ صرف یہ تمام لیکچرز سنے بلکہ 6 فیڈبیک فارمز بھی پر کر کے بھیجے۔ ہر لیکچر سے ایک فیڈ بیک فارم (سوالنامہ )بھی منسلک تھاجو مقررہ تاریخ تک پر کر بھیجنا ہوتا تھا۔ان سوالات سے یادداشت کے حوالے سے اور اپنے فہم کو جانچنے کے حوالے سے بھی سہولت ہو جاتی تھی ،بعد میں لیکچر کی ریکارڈنگ بھی مہیا کی جاتی تھی ۔ شرکاء کے تبصروں سے کچھ تحریری نکات بھی مل جاتے تھے ۔
دعوہ اکیڈمی مرکز برائے خواتین کے زیر اہتمام چھ ہفتوں اور چھ لیکچرز پر مشتمل اس کورس سیریز میں مندرجہ ذیل چھ موضوعات پر عام فہم انداز میں سیر حاصل گفتگو کی گئی تھی ۔
پہلا لیکچر: ادب اور صحافت میں فرق۔۔۔
دوسرا لیکچر:چند اصناف سخن کا تعارف
تیسرا لیکچر:موثر بلاگ نویسی کیسے؟
چوتھا لیکچر:شعر کے فنی محاسن
پانچواں لیکچر:ادب اور آداب کی ضرورت
چھٹا لیکچر:تحریر کو کیسے اشاعت کے قابل بنایا جائے؟
اس پروگرام کے ریسورسس پرسن \مربی احمد حاطب صدیقی صاحب تھےجن کی تیاری اور لیکچر بہت معلوماتی تھے۔۔۔انداز بیان خوبصورت ،دلکش اور واضح تھا۔ انداز تکلم آسان،رواں اور لب و لہجہ ایسا کہ کم وقت میں اور جلد ان کی بات بخوبی سمجھ آجاتی تھی۔ انہیں مشکل باتیں بھی آسانی سے سمجھانے کے ہنر سےآتا تھا ۔
ان لیکچرز کے بعد سوال و جواب کا سیشن بھی ہوتا تھاجس میں کوئی بھی شریک فرد اپنا مائیک آن کر کے سوال پوچھ سکتا تھا۔اس سے دیگر شرکاء کو بھی فائدہ ہوتا تھا۔اس سوال و جواب کے سیشن میں شرکاء کی دلچسپی قابل ذکر ہے ۔ شرکاء نے اس سیشن سے خوب فائدہ اٹھایا اور کورس سے متعلق سوالات کئے۔اور احمد حاطب نے انتہائی تحمل سےسارے سوالوں کے جوابات بھی دئیےجس سےشرکاء کو مفید معلومات ہوئیں،بعد میں حاضری بھی لگانی ہوتی تھی فیڈ بیک فارم بھی بھر کر دینا ہوتا تھا ۔
اختتامی پروگرام بھی بہترین تھا ۔اس پروگرام میں پروفیسرڈاکٹر نجیبہعارف ( ڈین فیکلٹی آف لینگویجز اینڈ لٹریچر)پروفیسر ڈاکٹر محمد الیاس اورڈائریکٹرجنرل دعوہ اکیڈمی کے خطابات بہترین اور معلوماتی تھےاور دعوت و تبلیغ میں اپنا عمل تقریری و تحریری کردار ادا کرنے کے لئے متوجہ کرنے والے تھے۔
بیترین پروگرام کے انعقاد پر منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ خصوصا ڈاکٹر فریال عنبرین کو اتنے عمدہ پروگرام کی میزبانی ہر مبارک ہو۔
اللہ تعالیٰ استاد محترم اور دعوہ اکیڈمی کی پوری ٹیم کو جزائے خیرعطا فرمائے۔ان سب کے رزق ،عمر،مال و اولاد اور زندگی کے تمام شعبوں میں کامیاب کرے اور ان پر اپنی رحمتیں اور برکتیں عطا فرمائے اور تمام شرکاء کو تاحیات اس پروگرام کی برکتوں اور فوائد سےبہرہ مند فرمائے اور اسے آگے پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے ۔





































