
اسماء معظم /آخری قسط
ثنا نےسوچاوالدین کے حقوق نہ صرف والدین کی زندگی میں ادا کرنے کی اسلام میں تاکید آئی ہے بلکہ اگر والدین انتقال کرجائیں اور ان کے دنیا
سے رخصت ہونے کے بعد ہمارے ذمہ ان کے حقوق رہ جائیں جو ہم ان کی زندگی میں ادا نہ کرسکےہوں تو وہ بھی ہم ادا کرسکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہمیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رہنما ئ دی ھے۔جو ہمیں ان کی احادیث سے پتہ چلتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ماں باپ نے بچے کی پرورش و تربیت میں جو زحمتیں اٹھائی ہیں اور شب و روز خدمت کی ہے۔ اصل اور سچی بات تو یہ ہے کہ اگر ہم ایک خادمہ کی طرح عمر بھر بھی ان کی خدمت کرتی رہیں تب بھی ان کی خدمت کا حق ادا نہیں ہو سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک مومنہ زندگی بھر ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرتی ہے لیکن جب ماں باپ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو وہ یہی سوچتی ہے کہ ہائے میں کچھ نہ کر سکی اور چاہتی ہے کہ کچھ ایسی صورتیں پیدا ہوتیں کہ میں ان کی وفات کے بعد بھی انکی روح کو خوش کر سکتی اور اپنے جذبات کی تسکین کا سامان کر سکتی ۔یہی مومنانہ جذبات سوال کی شکل میں ایک شخص نے پیش کئے اور آپ نے فرمایا تم ان کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ نیک سلوک کر سکتے ہو اور ان نیک سلوک کی چار صورتیں بیان فرمائیں جو درج ذیل حدیث میں ہیں۔
ابو سعید فرماتے ہیں کہ:ہم رسول اللہ ص کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ:ایک آ دمی آ پ کے پاس آ یا اس نے کہا کہ" اے اللہ کے رسول ص ماں باپ کے وفات پاجانے کے بعد ان کا کوئی حق باقی رہ جاتا ہے جو میں ادا کروں؟اپ ص نے فرمایا،ہاں! ان کے لئے دعاواستغفار کرو،اور جو( جائز ) وصیت وہ کرگئے ہیں اسے پورا کرو،اور والدین سے جن لوگوں کا رشتے داری کا تعلق ہے ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو،اور ماں باپ کے دوست اور سہیلیوں کی عزت اور خاطر داری کرو۔"
اسی طرح ایک واقعہ ھے کہ "ایک بار حضرت ابوالدردا بیمار ہوئے اور ان کا مرض بڑھتا ہی گیا یہاں تک کہ بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو حضرت یوسف بن عبد اللہ دوردراز سے سفر کرکے انکی عیادت کو تشریف لے گئے۔حضرت ابوالدردا نے انہیں دیکھا تو تعجب سے پوچھا !تم یہاں کہاں؟ یوسف بن عبداللہ نے کہا! میں یہاں محض اس لئےآ یا ہوں کہ آپ کی عیادت کروں ،کیونکہ والد بزرگوار سے آ پ کے تعلقات بڑے گہرے تھے۔"
اگر زندگی میں خدانخواستہ ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنےاوران کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی ہوگئی ہو تو پھر بھی خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہو ں ۔ان کے مرنے کے بعد ان کے حق میں برابر خدا سے دعائے مغفرت کرتے رہیں۔ اللہ تعالی ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرمائیں گے اور ہمارا شمار اپنے صالح بندوں میں فرما دیں گے۔
حضرت انس کا بیان ہے کہ نبی نے فرمایا !"اگر کوئی بندہ خدا زندگی میں ماں باپ کا نافرمان رہا۔ والدین میں سے کسی ایک کا یا دونوں کااسی حال میں انتقال ہوگیا ،تو اب اس کوچاہیے کہ وہ اپنے والدین کے لئے برابر دعا کرتا رہے اور خدا سے ان کی بخشش کی درخواست کرتا رہے، یہاں تک کہ خدا اس کو اپنی رحمت سے نیک لوگوں میں لکھ دے۔"
ہونا تو یہی چاہئے کہ ہم زندگی بھر ماں باپ کی اطاعت کرتی رہیں،ان کے ساتھ نیک سلوک کرتی رہیں اور انہیں خوش رکھنے کی کوشش کرتی رہیں لیکن ہماری تمام کوششوں کے باوجود ،اور ساتھ ساتھ کوتاہیوں کی وجہ سے اگر وہ ہم سے راضی نہ رہ سکیں اور ناخوش ہی دنیا سے رخصت ہو جائیں تو اب بھی اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلا ہے اور اس کی تلافی ہوسکتی ھے وہ اس طرح کہ آ پ ان کے لئے برابر دعائے مغفرت کرتی رہیں ،اس دعاواستغفار کے نتیجے میں توقع ھے کہ اللہ تعالیٰ آ پ کی غلطیوں سے درگزر فرمائے گا اور آ پ کو اپنے نیک بندوں میں شمار فرمائے۔خدا کے فضل و کرم سے کسی مومن کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔بندے کے دل میں جب بھی توبہ کے جذبات پیدا ہوتے ہیں وہ بڑھ کر اسے قبول کر لیتا ہے۔اور ان جذبات کو بڑھانے اور زندگی پر اثر انداز ہونے کے مواقع فراہم کر دیتا ہے۔
حضرت عبداللہ ابن عباس کا بیان ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، یارسول اللہ ص! میری والدہ وفات پا چکی ہیں اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی ہے، اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کرو ں تو اس سے ان کو کوئی فائدہ پہنچے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں کیوں نہیں ۔
اولاد کے لئے والدین کی وفات کے بعد ان کے ساتھ حسن سلوک کی یہ شکل باقی ہے کہ وہ ان کے کیے ہوئے وعدوں اور وصیتوں کو پورا کریں ان کے کئے ہوئے عہد و پیمان کو نبھائیں اور اس طرح ان کی روح کو خوش کرنے کی کوشش کریں۔ البتہ اس بات کا خیال ضرور رکھیں کہ آ پ صرف انہیں وصیتوں کو پورا کریں جو جائز ہو اور اگر آپ ان کی نا جائز وصیتوں کو بھی پورا کریں گی تو یہ ان کے ساتھ نیکی نہیں برائی ہوگی ۔
ماں باپ نے اگر کسی سے مالی امداد کا وعدہ کیا ہے ،یا وہ کسی کو کچھ ہبہ کرنا چاہتے تھے اور زندگی میں اس کا موقع نہ پا سکے ،یا انہوں نے کوئی نذر مانی تھی اور نذر پوری کرنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے یاان پر کسی کا قرضہ تھا،،یا وصیت کرتے کا انہیں موقع نہ ملا اور آ پ سمجھتی ہیں کہ اگر انہیں موقع ملتا تو یہ اور یہ وصیت کرتے،یاانہوں نے کوئی وصیت نہیں کی اور آپ ان کی طرف سے صدقہ کریں تو یہ سب صورتیں ان کے ساتھ نیک سلوک کی ہیں اور اس طرح ان کی وفات کے بعد بھی آپ زندگی بھران کے ساتھ نیک سلوک کر کے اپنے خدا کو خوش کر سکتی ہیں ۔
حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ" مرنے کے بعد جب میت کے درجات بلند ہوتے ہیں تو وہ حیرت سے پوچھتا ہے یہ کیوں کر ہوا ۔ اللہ کی جانب سے اسے بتایا جاتا ہے کہ تمہاری اولاد تمہارے لئے دعائے مغفرت کرتی رہی (اور اللہ نے اسے قبول فرما لیا)."
حضرت ابوہریرہ ہی کا بیان ہے کہ خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!" جب کوئی آدمی مر جاتا ہے تو اس کے عمل کی مہلت ختم ہو جاتی ہے .صرف تین چیزیں ایسی ہیں جو اسے مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچاتی رہتی ہیں۔ ایک صدقہ جاریہ ,دوسرے اس کا (پھیلایا ہوا وہ )علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں , تیسرے وہ صالح اولاد جو اس کے لئے استغفار کرے۔"
اب ذرا اطراف میں نظر دوڑائیےاوراپنی ماؤں اور اپنے باپوں کے ساتھ بیٹیوں اوربیٹوں کا رویہ دیکھئے ، خصوصا وہ گھرانے جہاں اخلاقی تربیت کا فقدان ہو اور مادیت غالب ہو وہاں بیٹیاں ماؤں کو پیر کی جوتی سمجھتی ہیں اور ان کو ترکی بہ ترکی ایسے جوابات دیتی ہیں جو وہ اپنی دوست کو بھی نہیں دے سکتیں، یعنی وہ مقام و مرتبہ نہیں دیتی ہیں جو ان کا حق ہے۔اسی بات کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمثیلی انداز میں اس طرح بیان فرمایا تھا کہ "وہ وقت آنے والا ہے جب لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی."
یعنی ماں کو حضور نے" لونڈی" سے تشبیہ دی ہےاور صاحبزادی کو ان کےرویئے کی بناء پر "مالکن "کہا تھا۔
اسی طرح ایک واقعہ میں بتایا جارہا ہے کہ بیٹوں کے رویئے اپنےباپ کےساتھ کیسے ہونا چاہئیں؟ بیٹے کے مال میں باپ کا کتنا حق ہے۔اس سلسلے میں نبی کریم ص نے کیا رہنمائ دی۔۔۔ملاحظہ فرمائیں واقعہ۔۔۔۔۔!ایک بار نبی کریم ص کے پاس ایک آ دمی آ یا اور اپنے باپ کی شکایت کرنے لگا کہ وہ جب چاہتے ہیں میرا مال لے لیتے ہیں۔رسول ص نے اس آ دمی کے باپ کو بلوایا۔لاٹھی ٹیکتا ہوا ایک بوڑھا کمزور شخص حاضر ہوا۔اپ نے اس بوڑھے سے معلومات حاصل کیں تو اس نے کہنا شروع کیا."خدا کے رسول ص !ایک زمانہ تھا جب یہ کمزور اور بے بس تھا،اور مجھ میں طاقت تھی،میں مالدار تھا اور یہ خالی ہاتھ،میں نے کبھی اس کو اپنی چیزیں لینے سے نہیں روکا۔اج میں کمزور ہو ں اور یہ تندرست و قوی ہے،میں خالی ہاتھ ہوں اور یہ مالدار ہے،اب یہ اپنا مال مجھ سے بچاتا ہے۔"
یہ باتیں سن کر رحمت عالم ص رو پڑے۔اور فرمایا! "تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ھے۔تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے ۔"
اسی طرح حضرت عبداللہ ابنِ عمرو سے روایت ہے،فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ص کا ارشاد ہے،"اللہ کی رضا والد کی رضا میں ھے اور اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔"
اب ان تمام باتوں کے بعد کس بات کی گنجائش رہ جاتی ہے کہ بیٹے اور بیٹیاں ماں باپ کی زندگی میں ان کی قدروقیمت نہ جان سکیں اور خدمت کر کے جنت کے حقدار نہ کہلائیں اور نہ صرف ان کی زندگی میں بلکہ ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے بہت سے مواقع فراہم کر رہا ھے جس کو حاصل کر کے ہم اپنے والدین کے باقی رہ جانے والے حقوق باآسانی ادا کر سکتے ہیں۔ یہ اللہ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔اور یاد رکھیئے ماں باپ کا کوئی نعم البد ل نہیں۔ لہذا انکی زندگی میں یی ان کی انتہائی خوش دلی سے خدمت کیجئے ان کی دل وجان سے قدر کیجئے اور اگر وہ دنیا سے چلے گئے ہیں یعنی انتقال کر گئے ہیں پھر بھی مایوس نہیں ہوں ان کے جانے کے بعد کے جتنے احکامات ہم نےپڑھے ہیں ان پر عمل پیرا ہونے میں دیر نہ لگائیں اللہ تعالیٰ ہمیں ضرور جنت عطا کرے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔
ثنا نے اس پوری تحریر کو لکھ کر قلم رکھ دیا اور سوچنے لگی کہ بہت سارے وہ لوگ جن کے والدین اب حیات نہیں ہیں ،کیا عجب کہ وہ اس تحریر سے رہنمائی حاصل کر لیں۔ اپنے مرحوم والدین کو اپنی دعاؤں کا مستقل حصہ بنا لیں، اور کیا عجب کہ یہ تحریر میرے( ثنا کے)لئے بھی صدقہ جاریہ بن جائے۔اور پھر ثنا نے اپنی کمر کرسی کی پشت سے ٹکا دی۔





































