
اسماء معظم
عیدالاضحی میں دنیا بھر کے مسلمان خدا کےحضور اپنےجانوروں کی قربانی کر کےحضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کوتازہ کرتے ہیں۔ ایک بار صحابہ
کرامؓ نےاس قربانی کے بارے میں نبی کریم سے پوچھا۔
ما ھذا الا ضاحی؟یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
یہ قر بانی کیاہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا
سنتہ ابیکم ابراھیم صلوة اللہ وسلامہ
یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ الصلوة والسلام کی سنت ہے۔
حضرت ابراہیم کو پہلے آگ میں ڈال کرآزمایا گیا پھر حضرت ابراہیم کو خواب نظر آیا جس میں اللہ نےانہیں حکم دیا کہ اپنے لخت جگراسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کرو،
حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل سے کہا،
یبنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا
”اے میرے پیارے بیٹے!میں نےخواب میں دیکھا میں تمہیں ذبح کررہا ہوں تم ا س بارے میں کیا کہتے ہو؟“
اس بات پر حضرت اسما عیل جو اپنے باپ کےانتہائی لاٸق فرزند تھے کہا۔
”ابا جان !آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے فوراً کر ڈالیے ، آپ انشاءاللہ مجھے صابروں میں سے پاٸیں گے۔“
حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو زمین پرلٹا یااور آنکھوں میں پٹی باندھ لی تا کہ بیٹے کی محبت اللہ کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے اور اپنے رب کےحکم پر بیٹے کو قربان کر نے کے لیے ان کی گردن پر چھری چلا دی۔
حضرت ابراہیم کی اطاعت و فرمانبرداری کا یہ منظر دیکھ کا رحمت خدا وندی کو جوش آیا اور ندا آٸ !
سورہ الصف آیت نمبر 104 سے آیت نمبر 106
ترجمہ!” اور ہم نے ندا دی کہ اے ابراہیم !تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا، ہم وفاداربندوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں،یقیناً یہ ایک کھلی آزماٸش تھی۔“
اورپھر فرشتے نے حضرت ابراھیم کے سامنے ایک مینڈھا پیش کیا تاکہ وہ اس کےگلے پر چھری پھیر کررہتی دنیا تک انسانوں کے لیے ایک مثال قاٸم کر دیں جسے دنیا” سنت ابراھیمی کے نام سے جانتی ہےاور دنیا بھر کے مسلمان ھر سال 10ذی الحجہ کوعیدالالضحی کےموقع پرجانور ذبح کر کےاس سنت کو دہراتے ہیں۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یہ بے مثال داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ کی کامل اطاعت، مکمل سپردگی اورسچی وفاداری کا بہترین نمونہ پیش کیا ہمیں بھی زندگی کے ہر موڑ پرا سی طرح ہمیں اپنے رب العالمین کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کر دینا ہوگا ۔
ان صلوتی ونسکی ومحیای و مما تی للہ رب العالمین لاشریک لہ وبذالک امرت وانا اولالمسلمین
ترجمہ! میری قربانی میرا مرنا اور میرا جینا سب کچھ اللہ ربالعالمین کےلیےہے(میں گواہی دیتا ہوں) اس کا کوئی شریک نہیں،اس کا مجھے حکم دیا گیا ہےاور میں (سرتاپا)فرمانبرداروں میں سے ہوں۔(۔القرآن)
گویاقربانی کی روح اور اس کا مقصد صرف اور صرف تقوی ہےاورہم الله کی راہ میں ہر سال قربا نی کرتے ہوئےقرآن کی اس آیت کوضرور سامنے رکھیں۔
) سورہ الحج آیت نمبر 37 (
”اللہ کو نہ ان جانوروں کے گوشت پہچتے ہیں اور نہ ان کا خون ،اسے تو صرف تمہارا تقوی پہچتا ہے۔“
یعنی اگر ہمارے اندر قربانی کامقصد اوراس کی روح نہ ہو اورخدا کی مکمل اطاعت اورسب کچھ اسکے حوالے کر دینے کاعزم اورحوصلہ نہ ہو بیکار ہے یہ جانوروں کا خون بہانا گوشت کھانا اور اس کی تقسیم کرنا۔اور یہاں قربانی سے مراد صرف جانور کی قربانی ہی نہیں ہے بلکہ اس قربانی میں ہمارے نفس کی قربانی، جان ومال کی قربانی ،مزاج کی قربانی، وقت کی قربانی اور صلاحییتوں کی قربانی سب شامل ہیں ۔لہذا ہم اپنا جاٸزہ لیں اور جوہمیں اپنے اندر کمی لگے،اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کریں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم قرآن و حدیث کے ذریعے حضرت ابراہیم اورحضرت اسماعیل کی زندگیوں کا مطالعہ کریں اور پھرا س پر عمل کرنےکی کوشش کریں ۔اللہ ہمیں زندگی کے ہر ہرموڑ پر اپنی مکمل اطاعت کرنے والااوراپنی راہ میں عزیز سےعزیز شے قربان کرنے والا بنائے۔آمین.





































