
روشانہ جمیل
آج گھروں میں کھانا بنانے والی خواتین سےمخاطب ہوں کہ آپ بہنیں جو کھانا بناتی ہیں ،وہ آپ کے گھر والوں کےجِسموں میں جاتا ہے اور یہی
ان کے جسموں کی غذا بنتا ہےاورآپ کے بنائےہوئےکھانے کےگھرکےلوگوں پر بےحد منفی یا مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیںمگر یہ آپ کے کھانا بنانے کے طریقے پر منحصر ہے۔
اگر آپ کھانا بناتے وقت اپنی مکمل صفائی کاخیال نہ رکھیں، غفلت کے ساتھ کھانا بنائیں،کھانا بناتےہوئےسرپردوپٹہ موجود نہ ہو،کھانا بناتے ہوئے اِدھر اُدھر کی فُضول گفتگوہورہی ہےیا کسی کی چُغلی اور غیبت کر رہی ہیں، شوہر کے ساتھ جھگڑا کر رہی ہیں یا بچوں کو ڈانٹ رہی ہیں یا کسی بھی بات پر منفی رویہ اختیار کیےہوئے ہیں تو واللہ یقین جانیں اس دوران بننے والے کھانے کی تمام برکتیں پہلے ہی اُڑ جائیں گی جو کھانا جسموں میں جا کر نُور پیدا کرتا ہے۔ اب وہی کھانا گھر والوں کے جِسموں میں جا کر ظُلمت پیدا کرے گا اور انہیں مزید بُرایئوں پر اُکسائے گا۔
️لہٰذا کھانا بنانے والی خواتین کوچاہیےکہ اول پہلےوُضو کرلیں،سر پر دوپٹہ رکھ لیں اور ذکر و فِکرکےساتھ کھانا بائیں، مطلب کے کھانا بناتے ہوۓ اپنی زبان کو فضولیات کی بجائے اللہ کے ذکر سے موتررکھیں تاکہ اس کھانے سے مردوں سمیت تمام گھر والوں کے دلوں پر نیکیوں کے اثرات مرتب ہوں اور کئی برائیوں سے دور ہوتے چلے جائیں گے۔کھانا بناتےہوئے اپنی زبانوں کے اللہ کے ذکر میں مشغول رکھیے۔
بڑے بڑے اولیائے کرام کی بیویوں کا بھی یہی طریقہ ہوا کرتا تھا کہ کھانا بناتے ہوۓ نا صرف ہاتھ چلتے تھے بلکہ زبان اور دل بھی اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے تھے۔
عورت کے ان اعمال سے کھانےمیں برکت پیدا ہوتی ہے، کھانےمیں نُورآجاتا ہے اورمیں مکمل یقین کے ساتھ آپ سےکہتی ہوں کہ بچوں کو آپ باوضو کھانا کھلائیں تو بچوں کے اندر آپ کی اطاعت و فرماں برداری کا جوش و جذبہ پیدا ہوگا، یہی کھانا آپ شوہر کو کھلائیں تو رب تعالی کے ذکر کی برکت سے شوہر کے دل میں آپ کے لیے پیار و محبت میں اضافہ ہوگا۔
️شروع میں یہ مشکل لگے گا مگر یہ کام مشکل نہیں۔ شیطان بہکائے گاکہ یہ ممکن نہیں لیکن اگر آپ نے ٹھان لیا تو پھر یہ عادت بن کر بہت آسان ہو جائے گا اور پھر کھلی آنکھوں اس کا اثر دکھنا شروع ہو جائیے گا، بس ذرا سی محنت کرنی ہے، پھر سب آسان ہو جائے گا ۔۔۔ ان شاءاللہ...!!!رب تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔




















