
روشانہ جمیل
عاشورہ محرم الحرام کی دسویں تاریخ کا نام ہے۔ یہ انبیائےکرام ہی کے زمانے سے بابرکت چلا آیا ہے۔ابتدائے اسلام میں اس دن کا روزہ فرض
تھابعد میں اس کی جگہ رمضان کے روزے فرض ہوئے اور عاشورہ کا روزہ مستحب رہا۔
بہرحال! اس دن کے روزے کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سےکوئی تعلق نہیں جولوگ ماہِ محرّم کے روزوں کو واقعہ کربلا یا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں وہ صریحاً غلطی پر ہیں کیونکہ یہ روزہ تو ان کی پیدائش سے کافی عرصہ پہلے سے چلتا آ رہا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتےہیں کہ میں نے نہیں دیکھاکہ نبی اکرم ﷺ کسی دن روزہ کا ارادہ کرتے ہوں اور اس دن کو کسی دوسرے دن پر فضیلت دیتے ہوں مگر اس دن یعنی یوم عاشورہ کو اور اس مہینہ یعنی ماہ رمضان کو دوسرے دن اور دوسرے مہینہ پر فضیلت دیتے تھے۔ (یعنی عاشورہ کے نفلی روزے اور رمضان المبارک کے فرض روزوں کو بہت توجہ دیتے تھے)(صحیح بخاری)
صحیح مسلم میں حدیث موجود ہے، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عاشورہ کے روزے کے متعلق سوال کیا توآپ نےفرمایا : میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ یوم عاشورہ ا کا روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔(صحیح مسلم)
صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ جس وقت نبی اکرم ﷺ نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ یہ تو وہ دن ہے جو یہود و نصاریٰ کے ہاں بڑا باعظمت ہے اور چونکہ یہود و نصاری کی مخالفت ہمارا شیوہ ہے، لہٰذا ہم روزہ رکھ کر اس دن کی عظمت کرنے میں یہود و نصاریٰ کی موافقت کیسے کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو(دسویں مُحّرم کے ساتھ) نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا۔(صحیح مسلم )
محرم کے کتنے روزے رکھنے چاہئیں؟اس بارےمیں اہل علم حضرات فرماتے ہیں کہ یوم عاشورہ 10 مُحرّم سے پہلے یعنی 9 محرّم کو یا بعد میں یعنی 11 محرّم کو ایک روزہ کا ملانا لازم اور ضروری نہیں بلکہ صرف ایک روزہ بہتر و افضل ہے ۔ فقہاء کرام نے جو تنہا عاشورہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ لکھا ہے، اس سے مراد بھی مکروہ تنزیھی ہے یعنی بہتر بات پہلے یا بعد میں بھی ایک روزہ ملانا ہی ہے اگرچہ لَازم نہیں، لہٰذا جو شخص عاشورہ سے پہلے یا بعد میں ایک روزہ رکھنے کی ہمت و طاقت رکھتا ہو تو وہ پہلے یا بعد میں ایک ایک روزہ ملا کر رکھے اور اولیت و افضلیت اور مزید ثواب حاصل کرے اور جو ہمت و طاقت نہیں رکھتا ۔ وہ تنہا عاشورہ یعنی دس محرم الحرام کا روزہ رکھے۔ اس کو بھی عاشورہ کے روزے کا ثواب مل جائے گا اور اس کا روزہ مکروہ بھی نہیں ہو گا۔





































