
روشانہ جمیل
میں نے جب حضرت مریم علیہ السلام کا قصہ پڑھا اور مجھے اُن کی برداشت پررشک آیا
پھر اُسے اپنے اوپر سوچا کہ اگر یہ سب میرے ساتھ ہوتا؟ تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ جو لوگ ان پر باتیں کرتے تھےاگر میرے اوپر ہوتیں تو؟
*ناقابل برداشت!
میں نے حضرت آسیہ علیہ السلام کا قصہ پڑھا جو کہ فرعون کی زوجیت میں تھیں تو اُن کے صبر پر رشک آیا۔
اگرآج ہماری کسی بہن کا شوہر انہیں کچھ کہہ دے تو بول بول کر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش ہی بت تراش کے گھر ہوئی۔ گھرسےنکالےگئے، آپ کاچچا آزرآپ کوجلانے کے لیے لکڑیاں اٹھا اٹھا کرلاتا تھالیکن امتحان میں کامیاب ہوئےتو ویران بیابان میں اکلوتی اولاد کو چھوڑا۔
اللّٰہ اکبر
پھر قربانی دینے کا حکم
آج کسی مرد میں ہے اتنا حوصلہ؟؟؟
کبھی نہیں
حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری سب کچھ چلا گیا اولاد،مال،بیویاں،سب کچھ لیکن آزمائش پر صبر کیا، آج ہے کسی میں ہے اتنا صبر؟؟؟
بالکل نہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام کو بچپن میں ان کے والد سے بھائیوں نے دور کر کےکنویں میں پھینکا، پھر غلام کے طورپر قیمت لگائی گئی، قید کاٹی لیکن صبر کیا اور آج اگرایسا کسی کے ساتھ ہو تو شکوہ شروع کہ اللّٰہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟؟؟
رسول اللّٰہﷺ نے یتیمی میں آنکھ کھولی، پھر ماں بھی چھوڑ گئیں اور مختلف آزمائشوں سے گزرتے نبوت کے مقام تک پہنچے، غزوات، بھوک، دشمنوں سے مسلسل آزمائش کی زندگی، کیا آج کوئی کرسکتا ہے یہ سب برداشت؟ بالکل نہیں۔
*تو کیا یہ مثالیں ہمارے لیے کافی نہیں کہ مسلمان کی زندگی آزمائش ہوتی ہے
اور ہمیں بھی زندگی کا ایسے ہی امتحان دینا ہے اور اسی طرح صبر کرنا ہے،
دشمنوں کو معاف کرنا ہے، صلہ رحمی کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔
ہاں واقعی
یہ زندگی گرم صحرا کی تپتی دھوپ کی مانند ہےاور ہمیں گرم ریت پر لیٹ کرسینے پر بھاری بھرکم پتھرکا بوجھ اٹھا کر، کبھی کچھ اس سے بڑی آزمائش ہو، سلگتے کوئلوں پر لیٹ کرچمڑی جلا کرامتحان دیتے ہوئے بس احد، احد، احد پکارنا ہے۔
جنت ایسے ہی نہیں مل جانی، مومنوں کی سنت پرچلنا ہو گا، صبر کے ساتھ آزمائش پر پورا اترنا ہو گا۔
*اللّٰہ مُشکلات، تکالیف، پریشانیوں اور آفات میں آپ کا، میرا اور سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین ثم آمین یا ربّ العالمین





































