
روشانہ جمیل
میرا دل خون کےآنسو روتا ہے،جب میں تڑپتے بچوں کی حالت دیکھتی ہوں ۔ میں امت مسلمہ کے حکمرانوں کویہ کہتی ہوں کہ اے حکمرانو! امت مسلمہ اب
تو خواب غفلت سےجاگ جاؤ دیکھو تو سہی ننھے منے بچوں کی لاشیں کیسےزمین پر بارود کےشعلوں میں بکھری پڑی ہیں ۔ تم اتنے بزدل تو نہ تھے تاریخ اٹھا کر تو دیکھو تمہارے آباؤواجداد نے کافروں کے دلوں پر کس قدرخوف جمائے رکھا تھا۔ یہود و ہنود کے اندراتنی جرأت پیدا نہ ہوتی کہ وہ کسمی مسلمان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔آج تمہیں کیا ہوگیا، کہاں گئی آج تمہاری جرأت وشجاعت انبیا اکرام کی سرزمین پر امت کےنونہالوں کاخون بہایاجا رہا ہے ۔
ماٶں کی گودیں اجڑچکیں۔آہیں بھرتی بیٹیاں تمہیں مدد کوپکارتی ہیں یاد رکھنا اہل فلسطین مرجاٸیں گے،نام و نشاں تک ان کا مٹ جائےگامسجد اقصٰی کی جگہ ہیکل سلیمانی بھی بن جائے گا لیکن روز محشرتمہارے ساتھ جوانجام ہوگاوہ ناقابل بیان ہے۔ اسراٸیلی بارود میں جھلستی مسلمانوں کی یہ لاشیں تمہیں میدان محشرمیں مجرم بنا کررب کی بارگاہ میں پیش کریں گی۔
تم صرف پہلی اورآخری دفعہ ہتھیاراٹھا لو۔ رب کعبہ کی قسم دشمن پرلرزہ چھا جائے گا۔ تمہارے بےحسی تمہاری بزدلی کا فاٸدہ اٹھاتے ہوئے دشمن اہل فلسطین کا خون بہائےجا رہا ہے۔اان سے زیادہ قیمتی ایمان ہوتاہے، اس لئے دعاؤں کی ضرورت فلسطینیوں سے زیادہ 57 اسلامی ممالک کو ہے۔ کیونکہ فلسطینیوں کی تو جان جا رہی ہے۔ 57اسلامی ممالک کے تو ایمان پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے..!!
وقت ہے بیدار ہو جاو
نکلو خواب غفلت سے
نوٹ : ایدیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو)





































