
روشانہ جمیل
جب آپ کا کہیں رشتہ طےہوتا ہےنا تو اپنی شخصیت کی خوبصورتی ، میچورٹی اور گریس قائم رکھا کریں ۔اس فیزمیں اخلاق اچھارکھیں، دل سے عزت اوراحترام دیں اورچہرے پر ہمہ وقت مسکراہٹ سجائےرکھیں ۔۔۔ بس!
بہت زیادہ باتونی ہونا، شوخ اوربرجستہ ہونا،مستقبل کےرشتوں سےحد سے زیادہ بےتکلفی ،ہربات کا جواب دینا،خود پرفرض سمجھنا یا رشتوں میں بڑے افراد کی موجودگی میں لاپروا سا رہنا۔۔۔ یہ تھوڑاسا نامناسب ہوجاتا ہے۔
کم ازکم ہم لڑکیوں کو یہ سمجھنا چاہیےکہ " شخصیت کو پراعتماد رکھنا اورچیزہےاور اوور کانفیڈنٹ ہوجانا بالکل الگ چیز!"اعتدال اختیار کیجیے ۔۔۔۔ نہ ڈوپٹے کے کونے منہ میں ڈال کرہیروئنوں کی طرح شرما شرما کرآدھ موا ہونا ہے۔ نہ خوامخواہ کا کانپ کانپ کرسرپراگلی زندگی کا خوف سوارکرنا ہےاورنہ اتنا حد سے بڑھ جانا ہے کہ قہقہے بھی لگ رہےہیں اور بات بے بات ہنسا بھی جارہا ہے۔
گریس فلی سامنا کیجیےہر چیزکا ۔۔۔ بالکل اپنےاصل کے ساتھ ، جو آپ ہیں وہی رہیے۔اس دور میں بناوٹ بھی نقصان دیتی ہے ۔۔۔مستقبل میں ہم اپنے اصل کے ساتھ سامنےہوں گےتو بناوٹی عادات کا حوالہ دے کرشرمندہ کیا جاسکتا ہے کہ " پہلے تو ایسی تھیں ، اب ویسی ہوگئیں۔"بہتر ہے نہ ایسا ہوا جائے، نہ ویسا ہوا جائے ۔۔۔ مکمل شفاف رہا جائے۔ ہاں مزاج ، طبیعت یا عادت میں کوئی خامی و خرابی ہےتو اسے بدلنے کی کوشش کرتی رہیے ۔ اس سے کہیں بہتر ہے اس دور میں معاملہ فہمی ،سمجھداری اورحقیقت پسندی سیکھی جائے ۔اردگرد موجود زندگیوں کو جانچا پرکھاجائے ، ان کے احوال سے سبق لیا جائے ، خود پر ہر لحاظ سے محنت کی جائے اور سب سے بڑھ کر دعاؤں کی ڈوز بڑھا لی جائے ۔
کوئی شک نہیں لڑکیاں شوخ اورچنچل اچھی لگتی ہیں لیکن وہیں پر لڑکیاں سنجیدہ اورمیچور بھی ہونی چاہییں۔کوئی بھی رشتہ ہو جب تک مکمل شرعی طریقے سےآپ کےنام نہیں لگا تب تک ہر لحاظ سےآپ کے لیے وہ نامحرم ہے ۔ قبل از وقت اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کرنا ۔۔۔چاہے براہ راست ، میسیجز ، واٹس ایپ اسٹیٹس یافیس بک پوسٹس کےذریعے ہی سہی ،یہ خود کو دوسرے کی نظر میں ارزاں کرنے والی بات ہے ۔
اپنا مقام ذہن میں رکھا کریں ۔آپ بہت قیمتی ہیں ،جب تک مکمل کسی کےساتھ نکاح کی صورت رشتہ نہ جڑجائے تب تک اسے پانے کی حسرتیں کرنا،اس کے متعلق الٹے سیدھےلطائف شییرکرنا ،عیدوں اور شبرات پر اس کے نہ ہونے پراداس ہونےکی پوسٹس لکھنا یا کسی بھی طرح وقار سےعاری اظہار ۔۔۔ ہر لحاظ سےغلط ہے۔
ہرشےاپنے وقت پراچھی لگتی ہے ۔محبت بھی اوراس کا اظہاربھی،تعلق بھی اور اس کے تعلق میں شامل لوگ بھی ۔۔۔لیکن تب بھی ایسے کہ شخصیت کی خوبصورتی ،حیا اورگریس ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔





































