
روشانہ جمیل
پاکستان شدید مہنگائی کی زدمیں ہے، یہ ایک حقیقت ہے جس نےانکار ممکن نہیں اوریہ مہنگائی ابھی دن بدن مزید بڑھےگی ،فی الحال ہم سب کو
چاہیے کہ ضرورت اورخواہش کا فرق جانیں۔ اپنی زندگی کو دیکھیں کہ جوچیزیں ہم خریدتےہیں وہ زندگی کی ضروریات میں سے ہیں یا خواہشات میں سے۔
پہلے وقتوں میں کوئی انسان اگراپنی معاشی کمزوری کی وجہ سےاپنی بنیادی ضرورت پوری نہیں کرسکتا تھا تو اسےغربت کا نام دیا جاتا تھا مگر اب یہ حال ہے کہ ہم اکثر اپنی بےجا اور مادی خواہشات پوری نہ ہونے پر بھی خود کو مجبور اورغریب تصور کرتے ہیں ۔ ہم شُکر سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
برتن ضروری ہیں کھانے کے لیےلیکن مہنگا ترین ڈنرسیٹ جواستعمال بھی زیادہ نہ ہوتاہوکہ کہیں خراب نہ ہوجائے۔ ضرورت نہیں خواہش ہے۔
لباس ضروری ہےمگر ایسالباس جو بہت مہنگا ہےاوربار بار پہننا بھی نہیں، شاید زندگی میں دو تین بارہی پہننا ہو، یہ ضرورت نہیں خواہش ہے۔
جوتا پہننا ضروری ہےمگر ایسا جوتا جو کافی مہنگا اور خوبصورت ہےمگر نہ تو آرام دہ ہے اور نہ ہی پہننے کا باربار موقع ملے گا ،یہ ضرورت نہیں خواہش ہے۔
موبائل کا نیا ورژن آگیا ہے،ابھی اپنا موبائل بالکل ٹھیک ہےاور درست کام کررہا ہےمگر نیا موبائل اس لیے خریدنا ہےکہ موبائل کا ہر نیا ورژن مجھے لینا ہے،تو یہ ضرورت نہیں خواہش ہے۔
ایسی بہت سی چیزیں جوغیر ضروری اوربس خواہشات ہیں۔ ان کو ہم نے اپنے لیے ضروری بنا لیا اورہمارے آس پاس جن لوگوں کو بنیادی چیزوں کی واقعی ضرورت ہے ان کے لیے پیسہ ہی نہیں بچتا تو کچھ بھی لیتے وقت ایک بار ضرورسوچیں کیا کہ واقعی یہ میری ضرورت ہے یا بس خواہش ہے؟





































