
روشانہ جمیل
یومِ آزادی کے موقع پر ہرشخص یہ کہتا نظرآتا ہے جشنِ آزادی مبارک
اور کہنا بھی درست ہے،یہ ملک ہمارے آبا ؤاجداد نےبہت قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے۔ آج جو ہم اس کھلی فضاء میں سانس لے رہے ہیں، اپنی مرضی سے آزادانہ کام کر رہے ہیں، یہ سب ہمارے اباء کی قربانیوں کا ثمر ہے لیکن کیا ہم نے غور کیا ہے۔کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
ایک اسلامی ملک جس کی بنیاد "کلمہِ توحید" لا إله إلا ﷲ پررکھی گئی تھی وہاں آج اغیاروں کا طور طریقے رائج ہیں ۔سرسے پاؤں تک ہم ہر چیز میں غیر مسلموں اور اغیار کی نقالی کر رہے ہیں ۔
ہم کوئی چیز خریدیں توزیادہ تر غیرملکی پراڈکٹس لیتےہیں اوروجہ یہ کہتے ہے پاکستانی پراڈکٹس معیاری نہیں۔اگرہم ہرچیزکو دیکھ بھال کریا گوگل سرچ کریں توپاکستان میں اب بھی بہت سی ایسی مصنوعات ہیں جومعیاری ہیں۔ اس سے پاکستان کی معیشت کو فائدہ ہوگا۔ کوئی شادی بیاہ ہو یادیگر تقریبات ہم ہر چیزمیں اغیار کے طریقے اپناتے ہیں ۔
کیا ہم اپنے بچوں کو آزادی کےدن وہ باتیں بتاتےہیں کہ کس طرح بے شمار قربانیوں کےبعد ہمیں یہ ملک ملا پھر ہمارے بچےاپنے وطن سےکیسے محبت کریں گے؟ کیسے وہ وطن کے لیے کچھ کریں گےجبکہ ہم خود ہرچیزمیں غیر مسلم ممالک کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ سوچیے کیا ہم واقعی آزاد ہیں۔





































