
عریشہ اقبال
حیا ہے مرضی میرے خدا کی
حیا ہے تعلیم مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
نبی صلی کا پیغام عام کرنا
حیا کے کلچر کو عام کرنا "
زندگی کی کچھ ضروریات ایسی ہوتی ہیں جو ضروری ہونےکےساتھ ساتھ ناگزیر بھی ہوتی ہیں ۔ اسی طرح جب ہم اپنی زبان سے کہتےاور اقرار کرتے ہیں کہ لا الہ الاللہ محمد الرسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا مطلب ہم ایمان لائے اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے پر اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہونے پر جب ہم اورگہرائی میں جاکر دیکھنے کی کوشش کریں تومعلوم ہوتاہےاوراس کے ساتھ ہی اس بات کا احساس بھی کہ ایمان کےمعنی تو یقین کے ہیں تو سوچنے کی بات دراصل یہ ہے کہ جس بات پر یقین ہوتا ہےتو اس کے تمام تقاضوں کو بھی پورا کیا جاتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا کہ" حیا ایمان کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے " اس حدیث کے مفہوم کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک پودا ہے اور اس کو اگر پانی نہیں دیا جائے گاتو کیا وہ درخت بن سکے گا ؟؟ نہیں ناں اور فرض کیجئیے کہ انسان کی سانس کو اس کا گلا گھونٹ کر بند کردیاجاۓ تو کیا وہ زندہ رہ سکے گا ؟ نہیں ناں ! تو پھر ہم نے ایمان کی شاخ کو فراموش کرکے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہمارا ایمان سلامت رہ سکے گا اور تو اور اس ایمان کی حالت زندہ کی سی ہے اور وہ بھی صرف اس بات کے ڈر سے کہ " لوگ کیا کہیں گے " ان کا رویہ کیا ہوگا یہ سوال آخر ہمارے زہن میں کیوں نہ آیا کہ اللّہ تعالیٰ قیامت کے دن ہمارے سروں پر سے اپنا سایہ ہٹادیں گے۔
نظر عنایت پھیر لیں گے استغفرُللہ !! زرا سی قریبی رشتہ داروں کی تلخ مزاجی ہمیں توڑ کررکھ دیتی ہے تو ہمارا کیا حال ہوتا ہے جبکہ ان رشتوں کو تخلیق کرنے والی ذات حتیٰ کہ ہم تمام انسانوں کو مجھےاور آپ کو تخلیق کرنے والی پاک ذات سترماؤں سے زیادہ محبت کرنے والی مالک عرض و سماں مجھ سے اور آپ سے کیا تقاضا کرتا ہے اس کا احساس تک نہیں خدارا ہوش کریں حیا کو فراموش نہ کریں اسے پروموٹ کریں اسی میں ہمارے نظام کی بہتری ہے۔




















