
عریشہ اقبال
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کےلیے کچھ کم نا تھے کرو بیاں
( اقبال)
زندگی یقیناً بہت قیمتی ہے اور اس کے قیمتی اور نایاب ہونےکی اس سے بڑی کوئی دلیل نہیں ہوسکتی کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کی ہمارے سپرد کی گئی امانت ہے اور قرآن پاک میں اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ " امانت اہل امانت کے سپرد کرو"
امانت میں خیانت کرنے خواہ اس امانت کا تعلق کسی بھی شے سے ہو اور اس کی صورت چاہے کسی راز کی ہی کیوں نا ہو رکھتی وہ محض ایک امانت کی حیثیت ہی ہے جس کا حق ادا کرنا اس کی حفاظت کرنا ہے اور بحثیت مسلمان ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ہم ہر اس غلط بات کو جو معاشرتی اور شرعی لحاظ سے غلط ہے اس کو غلط قرار دیں اور اگر صحیح ہے تو اس کے حق بجانب ہونے کو دل و جان سے قبول کریں ۔
اسی طرح امانت کا تعلق انسان کے پورے وجود سے ہے جس میں اہم کردارادا کرنے والاعنصر احساس ہے اورجسے احساس کے حقیقی معنی سمجھ آگۓ تو گویا اس نے رحم کو پالیا یہ دنیا تعلقات کا محور ہے ہر فرد کسی دوسرے فرد سے صرف اسی بنا پر واقف ہے کیونکہ کہیں نا کہیں کسی نا کسی توسط سے اس کا اس فرد سے رابطہ ہےاب ہمارے ذہن میں ایک سوال آیا کہ امانت ،وجود ،احساس اور رحم یہ تمام ایک دوسرے سے مختلف تو ہیں اور ان کا کام بھی بہر حال مختلف ہے مگر کیا اس بات پر کبھی غور کیا گیا کہ انسانیت بطور صفت ہی میں پائی جاتی ہے اگر انسان کی ہئیت کو جانور کی طرح تخلیق کیا جاتا تو کیا۔ ہم اسے انسان کے نام سے موسوم کرسکتے تھے بھلا بلکل اسی طرح اگر انسان کے دل میں رحم کا جزبہ ہی نا ہوگا تو وہ پھر انسانیت سے خالی ہے لا محالہ اسے حیوان کہنا ٹھیک ہوگا کیونکہ حیوان اور انسان میں جو واضح فرق اللّٰہ تعالیٰ نے بنایا ہے وہ عقل ہی کا تو ہے اگر انسان کے پاس عقل جیسی نعمت نا ہوتی تو وہ اپنے معاملات کو کس طرح سے سمجھ کر اپنی زندگی میں آگے کی منازل طے کرتا یہ بات ثابت ہوئی کہ انسان کا وجود عقل کے بغیر نا گزیر ہے بلکل اسی طرح انسان کا وجود ہونا اس کے دل کے بغیر نا ممکن ہے یہی ربط دل اور رحم کا بھی ہے۔
اگر انسان کے دل کے اندر رحم کا احساس موجود ہے تو وہ بہت سی اخلاقی برائیوں نیز منفی اثرات سے محفوظ رہے گا اپنے ہر معاملے میں سرخرو رہے گا اب چاہے ان معاملات کا تعلق سیاسی پہلوؤں سے یا پھر معاشرتی و سماجی پہلوؤں سے وابستہ ہو ۔ اگر ہمیں اس فانی زندگی سے گزر کر ابدی زندگی کا آغاز ہوجائے گا اور یہی ہمارا ایمان ہے اس کے بغیر ہمارا ایمان مکمل ہونا نا ممکن ہے، لہذا اگر لا فانی حیات کو گل و گلزار دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے اندر زیادہ سے زیادہ رحم کا جذبہ پیدا کریں اور اس حدیث کو یاد رکھئیے کہ مفہوم: جنت میں جانے والے لوگوں کے دل چڑیوں کی طرح نرم ہوں گے "
مفہوم حدیث: نمبر 2 خبردار تمہارے جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ خراب ہوگیا تو سارا جسم خراب ہوجاے گا اور اگر وہ صحیح رہا تو تمہارا پورا جسم ٹھیک رہے گا اور وہ ٹکڑا تمہارا دل ہے "
حقوق اللّٰہ کی ادائیگی کے ہمراہ حقوق العباد کی ادائیگی کے لیے بھی سب سے اہم کردار میری اور آپ کی زندگی میں رحم ہی ادا کرسکتا ہے جو ہمارے دل میں پوشیدہ ایک راز کی مانند ہے اگر اس راز تک پہنچ گئے تو منزل تک پہنچنا دشوار طلب نا ہوگا ان شاء للّٰہ




































