
عریشہ اقبال
زندگی دراصل نام ہےتجربات کا مشاہدات کا اور اس کے ساتھ ہی مجموعہ ہے لمحات کا،اس بات سے تو یقیناً آپ بھی اتفاق کریں گے کہ جیسے جیسے ہماری
زندگی گزر رہی ہوتی ہےہم ویسے ویسے مراحل طے کرتے جاتے ہیں ۔ ان مراحل کی نوعیت کبھی غم کی ہوتی ہےاورکبھی خوشی کا سا احساس لیے ہمارے ہمراہ چلتی جاتی ہے۔
خوشی کا سبب کیا ہے؟ یہی ناں کہ زندگی تونام ہی اتار چڑھاؤ کا ہے نیز یہی اتار چڑھاؤ ہمیں بہت سے سبق دے جاتے ہیں جن کو میں اور آپ تجربےکا نام دیتے ہیں ۔مجھ میں ، آپ میں اور اس دنیا کے تمام لوگوں میں ایک چیز یکساں ہے اوروہ ہے "کامیابی" ، کامیابی کی طلب کس شخص کو نہیں ہوتی ؟ فرق فقط صرف اتنا ہے کہ کسی کے دل میں صرف ایک ننھا سا چراغ روشن ہوتا ہے اور کسی کے دل میں ایک الاؤ بھڑکا ہوتا ہےکہ وہ جس بھی شے کی خواہش یا تمنا کرے وہ اس تک رسائی بھی حاصل کرلے!! ان تمام باتوں سے ایک چیز تو واضح ہوگئی کہ انسان کامیابی کا حریص ہے۔ نیز اس کے سامنے کوئی نہ کوئی منزل ہےجس کے حصول کے لیے وہ ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے اور یہ منزل مختلف اوقات میں مختلف نوعیت کی ہوسکتی ہے۔
کبھی کسی کواچھا رزلٹ درکارہےوہ شخص دن رات ایک کرکے اول آنا چاہتا ہے تو کبھی کوئی عزیز بیمار ہو جائے اورآپ کو اس سے بے انتہا محبت ہو ! آپ یہی چاہیں گے ناں کہ وہ بس صحت یاب ہوجاۓ چاہے اس کے لیے آپ کے پاس جتنا اور جس صورت میں سرمایہ موجود ہو وہ سب اس کے علاج پر لگ جاۓ اور ساتھ ہی اللّٰہ تعالیٰ سے دعائیں بھی مانگی جائیں گی کیونکہ میں اور آپ اس بات سے واقف ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی بھی کام ہونا نا ممکن ہے نیز آپ کی دعاؤں میں اتنی شدّت ہوگی لا محالہ یہ بات تو سچ ہے کہ کمان کو جتنا زورسے کھینچا جاتا ہےتیراتنا ہی دورجاتا ہےجتنا یردورجائےگا اتنا ہی اس کے نشانے پرلگنے کے امکانات زیادہ ہوں گےتو جتنی شدت سے آپ اللّٰہ تعالیٰ سےدعا کریں گے اتنا ہی اس کی قبولیت کا یقین مجھے اورآپ کوہوگا ۔ اس بات کی سب سے بڑی دلیل قرآن کریم کی اس آیت کا مفہوم ہے " کہو کہ مجھے پکارو میں تمہاری پکار کو سنوں گا اور جواب بھی دوں گا " ، اور تم مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا "۔ جب بھی ہمیں کوئ خاص کام کرنا ہوتا ہے اور وہ کام ہمیں نہیں آتا تو میں اور آپ کوئ ایسا فرد تلاش کریں گے جو ہمیں وہ کام سکھا سکے اس سکھانے والی اصطلاح کو ہم "تربیت" کے نام سے جانتے ہیں ۔
تربیت ہی وہ واحد عنصرہے جس پر ہماری شخصیت، کردار،اندازگفتگو اور ہمارے علم کا انحصارہےجیسی میری اور آپ کی تربیت ہوگی ویسی ہی ہماری سوچ ہوگی ۔ سوچ جتنی پختہ اور وسیع ہوگی اتنا ہی گہرا اور مثبت اثر معاشرے پر چھوڑے گی ۔ نیز تربیت عروج کا ذریعہ بھی ہے ۔ کون سا ایسا شخص ہے جسے کامیابی کے بجاۓ ناکامی درکار ہو مزید یہ کہ عروج کے بجائے اس کی عقل زوال کو تسلیم کرنے پرآمادہ ہوجائےمگر میں یہاں عروج ،کامیابی کی اصطلاح کسی عام صورت حال کے لیےاستعمال نہیں کررہی ہوں بلکہ میرا مدعا یہ ہےکہ تربیت معراج ہے اور کس طرح ہے آئیے یہ بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بالفرض ایک ایسے شخص کی مثال لے لیجیےجس کو نویں منزل پر چڑھنا ہےمگر لفٹ بند ہےسیڑھیاں ہیں نہیں کیونکہ وہ عمارت ابھی مکمل طور پرتیار نہیں ہوئی ۔ اس نےسوچا کہ چلو رسی کی مدد سے نویں منزل تک پہنچ جاؤں گا ، وہ رسی کو پکڑ کردیوار پر دونوں پیر رکھنے کی سعی کرتے ہوئے چڑھنے لگا مگر واپس گر گیا ۔کیوں گرا؟؟ وہ اسی لیے گرا کیونکہ اس نے یہ تو سوچ لیا کہ رسی کی مدد سے اوپر پہنچا جاسکتا ہے لیکن اس نے رسی کو کسی ایسی چیز سے باندھا ہی نہیں جس سے وہ اوپر چڑھ سکے اسی وجہ سے وہ ایک حد تک اوپر جاسکا اور پھر گر گیا کیا سمجھ آیا ؟؟
یہی ناں کہ سوچ درست تھی مگرعمل غلط تھا بلکل اسی طرح جب ہم اس دنیا کو دائمی منزل سمجھ کر اسی کے حصول کی خاطر اپنا پورازورلگا دینا اور اپنی حقیقی منزل سے واقف ہوکراس سے غفلت برتنا یہ کونسی عقل ہے اور کہاں کی سمجھ داری ہے!! بات صرف اتنی ہے کہ دنیا کی رنگینیوں میں اتنا نہ ڈوب جائیں کہ اصل کامیابی و فلاح حاصل کرنےکی تربیت کی فکر کوغفلت کے پردے میں چھپادیں یایہ کہنا چاہیے کہ شاہ راہ (صراط مستقیم) اور سواءالسبیل کو گم کردیں جیسےبنی اسرائیل نے اور دوسری مجرم اقوام نے کیا تھا۔اس تربیت کی اہمیت کو سمجھنےکےلیے ہمارے ربّ نے جو ذریعہ ہمیں عنایت فرمایا تھا اس کو صرف تعویذ گنڈے کی سی صورت میں استعمال کرنے اور زندگی کے کچھ مخصوص پہلوؤں کی نظر کردیا گیا ہے۔ شدید افسوس کا مقام ہے کہ جو کلام ہماری رہنمائی و تربیت کے لیےنازل کیا گیا ہے۔ اس کواس کے اصل مقصد وجود سے نہ صرف مبرہ سمجھا جاتا ہےبلکہ اس سیرت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم جس کےاصول ،جس میں موجود حکمتیں کفار کو متاثر کرجاتی ہیں اوریہ مسلمان کے دل ہیں !! اورزبان یہ کہتی نہیں تھکتی کہ ہم کہاں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ان کے جلیل القدر صحابہ رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کی طرح ہوسکتے ہیں ہم تو ان کے پیروں کی دھول کے برابر بھی نہیں ہیں یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے جتنا جلدی تسلیم کرلیا جائے میرے آپ کے اور پوری امت مسلمہ کے حق میں اتنا ہی بہتر ہوگا ان شا ء اللّٰہ۔




































