
ڈاکٹر فرحت حبیب
امی امی!! میرا بی بی اے ہوگیا ہےاور میں نےاسکالر شپ کے لیے مختلف ممالک میں نے درخواستیں جمع کرادی ہیں۔
میرا چاند!! تیرے بغیرمیرا دل نہیں لگےگا۔ ہم روکھی سوکھی کھا لیں گےمگر دکھ سکھ میں تیرے بغیرزندگی نہیں کٹ سکتی۔
شہروزمستقبل سنوارنےکے لیے باہر جانے کا خواہاں تھا۔تین بہنوں کا اکلوتا بھائی اور بیوہ ماں کا واحد سہارا، اپنے وطن سے مایوس تھا۔ بیٹا ایک تم ہی میری نسلوں کےامین ہو ،باہرجاکرتو تمہارے لیے یہ دین بھی اجنبی ہوجائے گا "امی بولتی جا رہی تھیں۔
میرے دیس کی مٹی کی سوندھی خوشبو ساری زندگی میرے قدم جکڑے رہی ہم نے کبھی باہرجانے کا نہیں سوچا تھا"
امی!! بڑی غلطی کی ابو نےاگر آپ لوگ بھی چچا کی طرح باہرشفٹ ہوجاتے تو میرا مستقبل سنورجاتا۔"شہروزاپنی ہی سوچوں میں گم تھا۔
"تم میرے بیٹے ہو تمہارادل بھی نہیں لگنا تھاپردیس میں ۔"امی روہانسی ہو گئیں
"آپ خود بھی تو مہنگائی کا رونا روتی رہی ہیں ۔یہاں زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ "
شہروززچ ہو کر بولا۔
"حمید صاحب کا ڈاکٹربیٹا وطن کی خدمت کرنے کے لیے امریکہ سے واپس آگیا ہے۔اگر سب تعلیم یافتہ لوگ چلے جائیں گےتو جاہل لوگ حکمرانی کریں گے۔ بیٹا!سب تمہاری طرح سوچتے تواس دیس کی محبت میں کوئی واپس نہ آتا ۔باہرمسلمانوں سے نفرت بڑھتی جا رہی ہے ۔ کینیڈا میں اسلاموفوبیا کے نام پر تشددمعمول بنتاجا رہا ہے ۔"امی سنجیدگی سے بتارہی تھیں۔اسی وقت شہروز کی چھوٹی بہن اقصیٰ نے 'میرے پیارے بھیا' کہتےہوئےدلار سے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔
"بھائی کہاں ہےمیری آئسکریم!!جائیں میں آپ سے ناراض ہوں"۔دس سال کی اقصیٰ کے پھولےگالوں کو دیکھ کر وہ کھلکھلا کرہنس پڑا۔
" تم ایک کام کرو،مجھ سے ناراض ہو لویہ مجھےمنالو۔۔۔ شہروزنے اس کےبال بکھیرتےہوئےدوڑلگا دی۔ ورنہ اقصیٰ کی فلائنگ ککس بھی اسی کو کھانی پڑتیں جن کی آجکل وہ پریکٹس کررہی تھی۔
نفیسہ بیگم یہ محبتیں دیکھ کرمحظوظ ہوتی رہیں۔اوربیٹے کی باہرجانے کی ضد کو یاد کرکےٹھنڈی آہیں بھرنےلگیں ۔کم و بیش ہر گھر کی یہی صورتحال ہے ۔حمید صاحب نفیسہ بیگم کی روداد سن کر بولےمگر بہن شہروز کو آپ سمجھاتی رہیں ۔ میرا بیٹا بھی باہر کی مشینی زندگی کو خیرباد کہہ آیا ہے۔
رشتے ناطے،تہوار سب پیسہ کمانے کی نظر ہو جاتے ہیں اورملتا کیا ہے ؟ایک سیکنڈ سیٹیزن کی حیثیت۔
جس کی ہرچیز رہن ہوتی ہے۔۔۔۔ یعنی اس کی زندگی بھر کی کمائی کے بدلے ہر چیز مارٹگیج پر ہوتی ہے ۔بیچارا مشین بن کےرہ گیا تھا۔ یہاں آکر بہت خوش ہے اسے اپنی زندگی کا مقصد بھی مل گیا ہے۔ اپنےوطن کی خدمت۔اپنے دیس کی مٹی کا قرض ،اپنے کھوئے رشتوں کی مٹھاس
اب اس کا کوئی تہوارپھیکا اوربے رنگا نہیں ہوگااورنہ ہی کسی غم کواکیلےسہناپڑےگا۔حمید صاحب بولتےجا رہےتھےاورپیچھےکھڑا شہروزان کی باتیں سمجھ گیا تھا ۔ اس دفعہ شہروزچودہ اگست کوشاندار طریقےسےمنانا چاہتا تھا،اس کی آنکھوں پر چھائی دھند چھٹ چکی تھی ۔ وہ جھنڈیاں خریدنےبازارکوچل دیا۔نفیسہ بیگم اتنی جلدی بارگاہِ خداوندی میں دعائیں قبول ہوتی دیکھ کر سجدہء شکر اداکرنے دوڑیں۔آخر اندھیرے چھٹ گئے تھے۔




















