
صبا احمد
ساری دنیا میں اس ٹیکنالوجی نےخوف وہراس پھیلارکھا ہے۔ اےآئی سے بے روزگاری کا خوف ہے،دیگر قوموں کی طرح پاکستانی عوام بھی خوف کا شکار
ہیں ۔یہ ربورٹ کی ہی قسم ہے جب ہم نےبچپن میں سنا تھا کےانسانوں کی جگہ اب یہ رپورٹ کام کریں گے، دنیا میں انسان کم ہوجائیں گے مگر تین چار دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ دنیا اورانسان اپنی جگہ قائم و دائم ہیں۔ ربورٹ شازونادرہی نظرآتے ہیں،تو حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی کےحکم کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ اس نے انسان کواشرف المخلوقات بنایا ہے۔اس کی جگہ کسی نے اب تک لی ہے نہ کوئی لےسکتا ہے۔
اسی طرح اب اےآئی آرٹیفیشل اینٹیلیجنس آیاہے۔ دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے ۔ جاپان اس کاموجد ہے، وہاں بہت سےاے آئی کام کررہےہیں۔جہاں آبادی کم ہے مگرتھرڈ ورلڈ میں پاکستان میں انسانی ہاتھ بہت ہیں۔نوجوانوں کی 60 فیصد آبادی ہے۔ بیشک کووڈ کےبعد بے روزگاری بڑھی ہے۔معاشی بحران پیدا ہوا تو پوری دنیامیں مگراےآئی کوکس نے بنایا، انسانی دماغ اور ہاتھوں نے تو پھر کیسا ڈرنا انسانی تخلیق اس کی انگلیوں کی جنبش کےبغیرکام نہیں کرسکتی۔
بٹن توانسان دبائے گا۔ اس کے دماٖغ میں تمام میسج وہ ڈالےگا۔ وہ کام جلدی کرسکتا ہےمگرماسٹر مائنڈ اس کابنانےوالا انسان ہے۔
اس لیے افواہوں پریقین نہ کریں کہ اس نےبہت کم وقت میں مشکل آپریشن کیا۔ وہ سیٹ اپ سائنسدان نےبنایا ان کا کام ایجادات ہے،مگرموجد بھی انسان ہے۔ ناکارہ بھی وہ خود کرے گا۔انسان کانعم البدل مشین نہیں۔ پرزوں سےبنی مشین اور اورزار ہیں۔ جاندار ہے سانس لیتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں انسان بائیا لوجیکل لیونگ بینگ اور یومن بینگ ہے۔ پودے یا جانور بھی جن میں سیل ڈویژن اورریپروڈکشن ہوتی ہے،وہ اپنے جیسےانسان، جانوریا پودے پیدا کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں اورلونگ بینگ پیدا کرتےہیں یہ حقیقت ہے مزید اےآئی کو انسان بنائے گا ۔




































