
عروہ احمد
پاکستان کا 76واں یوم آزادی منایا گیا ۔ پاکستان کو آزاد ہوئے76 سال ہو گئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم سچ میں آزاد ہیں؟؟ 76 سال پہلے ہمارے
آباؤاجداد کی یہ خواہش تھی کہ یہ جو ملک آزاد ہوا ہے، وہ ایک اسلامی فلاحی ریاست ثابت ہو ۔ ایک اسلامی اور خودمختار ریاست ثابت ہو اور مسلمانوں کے لیے ایک ایسا طلوع ہونے والا آفتاب ثابت ہو جو کبھی غروب نہ ہو ۔ 76 سال قبل 14 اگست کے دن پاکستان دنیا کے نقشے پر اس لیے آیا کہ مسلمان وہاں اسلامی اصولوں کے تحت زندگی گزار سکیں ،مگر آج پاکستان کو صرف جہالت کے اندھیروں کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔
یہ ایک ایسا مقصد ہے جس کے ذریعے مسلمانوں سے ان کی اصلی شناخت چھین کر انہیں بربادی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ شاید اتنے سال تک ہم آزاد رہنے کے باوجود بھی کئی پہلوؤں سے آزاد نہیں ۔
یہ ملک اسلامی نظریے کی بنیاد پربنا تھا مگرشاید بہت پہلےہی وہ نظریہ دم توڑ گیا۔ آج تھوڑا غورفکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک ایسی قوم میں بدل چکے ہیں جو غفلت کی دنیا میں کہیں زیادہ آگے نکل چکی ہے ۔ ہمارے آباؤ اجداد نے یہ ملک اس لیے بنایا تھا تاکہ ہم آزادی سے جی سکیں نہ کہ اپنی اسلامی شناخت کو بھلا کراپنی زندگیوں کو جہالت کے حوالے کر دیں۔ کہنے کو تو ہمارے پاس بہت کچھ ہےمگر شاید اسے عمل میں لانا ہم نے پنی زندگی سے نکال دیا ہے۔
نوٹ: ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































