
صائمہ عبد الواحد
قیامت کا سماں تھا بیشک قیامت کا سماں تھا چاروں طرف لاش اور خون کا منظر ۔۔۔۔اتنا شور کے کان پڑی آوازسنائی نہ دے رہی تھی۔ کراچی سے پنڈی جانے
والی ٹرین حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ کہیں سسکیاں کہیں آہیں ۔۔۔۔ اپنے پیاروں کی لاشے دیکھتی آنکھیں اس اندوہناک واقعے کو دیکھ کر دل ہی ہار بیٹھی۔
نوین اپنی دس سالہ بیٹی ربیعہ اور اپنے شوہرکے ہمراہ کراچی سےپنڈی اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کرنے جا رہی تھی ٹرین میں کس قدر خوشی کا سماں تھا۔ جیولری کپڑے ایک دو ماہ سے گھر میں شادی کی خریداری و تیاری چل رہی تھی شرافت صاحب نے ہر ممکن کوشش کی کہ شادی میں شرکت سے قبل تیاری میں کوئی کسر باقی نہ رہے سب رشتہ داروں کے لیے تحفے تحائف خریدے گئے۔ آخر کو تین سال بعد پنڈی جا رہے تھے وہ بھی اپنے اکلوتے سالےصاحب کی شادی میں شرکت کرنے۔ نوین بھی اپنےوالدہ کی اکلوتی بیٹی تھی انٹر کے امتحانات کے بعد شرافت صاحب کی طرف سے رشتے کا پیغام آیا جو والدین نے نوین کی رضامندی سے قبول کیا یوں نوین دلہن بن کر کراچی رخصت ہوگئی۔
شرافت صاحب کی کاروباری مصروفیات کےباعث پنڈی کبھی کبھار ہی چکر لگتا کبھی والدین آکر کراچی نوین سےملتے تو گھر میں عید کا سماں ہوتا مگر اس بار بھائی کی شادی میں شرکت کیلئے نوین نے بھرپور تیاری کی تھی ۔ شادی کے بعد نوین نےکراچی میں اپنی پڑھائی جاری رکھی نوین کی تربیت جس ماحول میں ہوئی تھی وہاں لڑکیوں کی تعلیم کو بڑی اہمیت دی جاتی اوپر سے شرافت صاحب کے ساتھ نے اسے مزید اعتماد دیا وہ اپنی پڑھائی مکمل کر کے کالج میں لیکچرار بن گئی، ساتھ ہی ربیعہ کی پیدائش اور اس کی تربیت میں بھی کوئی کسر نہ رکھی میکے سے دور رہی مگر اپنے خواب کو تکمیل دے کر ملک کی خدمت کے خواب کو نوین نے مکمل کیا۔ وہ خواب جو اس کے آباؤ اجداد نے اس ملک کو بناتے وقت دیکھا تھا ایسا پاکستان جس میں موجود ہر فرد اپنے فرائض ادا کرتا جانتا ہو۔ اپنی صلاحیت اپنے ملک کے لیے صرف کرے۔
کچھ عرصے قبل شرافت صاحب کو بزنس کے سلسلے میں بیرون ملک جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں عوام کو ملنے والی سہولتوں کو دیکھ کر دل میں یہ خواہش جاگی کہ ہم بھی بیرون ملک شفٹ ہو جائیں مگر نوین کی وطن سے محبت اور بچپن کی تربیت ان کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ۔ شرافت صاحب ہم اس ملک کو چھوڑ کر نہیں جا سکتے ہمارے آبا و اجداد نے اس لیے تو یہ قربانیاں نہیں دی تھیں کہ ہم اس ملک کو برا بھلا کہہ کر دوسرے ملک جا بسیں۔ نہیں یہ بالکل نہیں ہوگا میں اپنی تعلیم کا فائدہ اپنے ملک کے نوجوانوں تک ہی پہنچانا چاہتی ہوں۔ اپنی تعلیم کے ذریعے اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔ آخر شرافت صاحب نے بھی اس خواہش کے اگے ہتھیار ڈال دیے۔
اپنی بیٹی اور شوہرکی لاش کے پاس بیٹھی نوین کےسامنے اپنی زندگی کی تصویر گھوم رہی تھی حادثےکو کئی گھنٹے گزرچکے تھےجائے حادثہ کے قریب رہنے والے افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمی اور میتوں کو ہسپتال لے جانے کا بندوبست کیا۔ بیل گاڑی اور ہاتھ گاڑی کے ذریعے میتوں اور زخمیوں کو ہسپتال لے جایا جا رہا تھا اپنے شوہر اور بیٹی کی لاش کو اس قدر کسمپرسی کے عالم میں دیکھ کر نوین اپنا دل ہار بیٹھی اور لاشوں کی تعداد میں ایک اور لاش کا اضافہ ہو گیا ٹی وی پر خبر چل رہی تھی ٹرین حادثے کے شہداء کی تعداد چوبیس سے پچیس ہو گئی وہ ایک لاش نہیں تھی بلکہ مخلص پاکستانی کی روح تھی جو اپنے پاکستان کے اداروں کی کرپشن اور اس کو لوٹ کر کھانے والوں کی وجہ سے جسم سے روح میں تبدیل ہو گئی تھی۔
کیا پاکستان اس لیے حاصل کیا تھا کہ پچھتر سال گزرنے کے باوجود عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہیں۔ سینکڑوں جانیں ہر روز کرپشن کے باعث لاشوں میں تبدیل ہو جائیں اور اس ملک کے اداروں سے مایوس نوجوان ملک چھوڑ کربیرون ملک ہجرت کر جائیں۔ عجیب کرب ومایوسی کا سماں ہے۔ بچپن میں اپنے ملک کیلئے ملی نغمے گانے والے اور اسے جھنڈیوں سے سجانے والے آج ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔




































