
تنویر رؤف
پاکستان کی زمین اللہ پاک کی رضا سےبہت زرخیز ہے اورسورہ رحمان میں جتنی نعمتیں ذکرہوئی ہیں ، وہ سب یہاں موجود ہیں۔ دنیا بھر سے جوقبیلے
چاہےاپنا مذہب پھیلانے جیسے گوتم بدھ کے پیروکار، یا فتوحات حاصل کرتے سکندراعظم ، جنگجو، آریان، ڈریویڈینز یامہاجرین آئےوہ اپنے ساتھ اپنی زبان، تہذیب، مذہب، معاشرتی اقدار کےساتھ آئےاور یوں تہذیبوں کا ایک بہت خوبصورت گہوارہ بن گیا۔
کسی نے کسی کو چھیڑا نہ اپنے اطوار چھوڑے مگر۔۔۔ ایک کمی رہ گئی جو آج شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ یہاں ایک قوم نہ بن سکی۔ کوئی نہ دنیاوی راہنما رہا نہ دینی رہبر۔ سب اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں مقید ہوگئے۔ انگلی
دوسروں پر اٹھائی ۔ اپنے گریبان میں کسی نے جھانکنے کی زحمت نہ کی۔ منہ دیکھے کے دوست مگر ایک دوسرے سے بد گمان رہے۔ اگلے کی بات یا مسئلہ نہ سنا، نا سمجھنے کی کوشش کی ۔ فرقے بن گئے۔ ہرمسلک ، فرقہ خود کو حق پر، دوسرے کو غلط سمجھتا رہا۔ نذرو نیاز والے دین سے دور سمجھے گئے تو مجلس ماتم والےغیر مسلم، پگڑیوں کے رنگ مختلف ہو گئے۔
لہٰذا دل بھی دورہوگئے۔ اگرآپس میں بچوں کے رشتے کرتےتو دل قریب اورفاصلے کم ہوتے۔مسجدوں کی بہتات توہو گئی مگر برداشت، اخلاص، معاملہ فہمی ، محبت یک جہتی مفقود ہے ۔اذان ایک ہی ہےمگر مسجدیں قریب ہونے سے ایک وقت میں کئی اذانیں ہوتی ہیں تو میرے جیسے کمزور ایمان والے ہر ازان کا جواب نہیں دےسکتے۔ اپنے تئیں دکھی ہوجاتےہیں ۔
بقول شاعر مشرق علامہ اقبال :
مسجد تو بنادی شب بھرمیں
ایمان کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی تھا
برسوں میں نمازی بن نہ سکا
مختلف قباوں میں ملبوس آدمی تونظرآتے ہیں،لیکن مسلمان نجانےکہاں کھو گیا!حالانکہ اسی سر زمین پر ایسے ایسے نایاب ہیرے پیدا ہوئے جن کی مثال نہیں مثلاً: قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، لیاقت علی خان، ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی، ڈاکٹرعبدالسلام، ڈاکٹرعبد القدیر خان، ڈاکٹرادیب
رضوی، عبدالستار ایدھی، حکیم محمد سعید،بابا بلھےشاہ، سچل سرمست، رحمان بابا،چیف جسٹس میاں رشید، مفتی اعظم رفیع عثمانی، علامہ طالب جوہری، جاوید میانداد، جہانگیر خان ،میجر عزیز بھٹی اور دیگر بے شمار دیانتدار، سخی، فنکار، محقق، محب وطن ،صاحب کردار اور حسن و جمال کے پیکرپیدا ہوئے اور زمانے میں نام پیدا کیا۔
مسلم سائنسدان ابو ریحان الفارابی نے صرف ایک چھڑی سےضلع جہلم کے پنڈ دادن خان کے ایک پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ کر ٹرگنو میٹری کے اصول سے زمین کا قطر اورمحیط معلوم کیا۔جو نئی تحقیق کےمطابق صرف 200 میل کم ہے۔ یا اللہ ہمارے دلوں کو صاف کردے۔ہم آہنگی محبت بھائی چارہ پیدا کردے۔
ہمیں ایک قوم بنا دے۔ آمین۔




































