
ثنا خلیل / بہاولپور
دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ یہ جملہ زبان زد عام ہے ۔عموماً اس جملے سے یہ مطلب لیا جاتا ہےکہ دین پرچلنا ہرانسان کا ذاتی مسئلہ ہے، کسی کو حق
حاصل نہیں دوسرے کو دین پر چلنے کے لیے مجبور کرے۔۔۔ یہاں سب کی بات بجا ہے۔ مجبور توکسی معاملے میں کوئی کسی کو نہیں کر سکتا ۔ ناں ہی کسی کو یہ حق حاصل ہے مگر ۔۔۔ کیا امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہمارا فرض نہیں تھا؟؟؟
کیا ہمیں وہ حدیث یاد نہیں ؟؟؟ ’’ جوشخص برا کام ہوتا دیکھے ،وہ اسے اپنے ہاتھ سے ختم کر دےاور اگرطاقت نہ ہو تو زبان کےساتھ روکےاوراگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل سے براجانےاور یہ درجہ ایمان کا ( آخری درجہ) کمزورترین درجہ ہے ۔ سنن نسائی#5011
تو پھرہم طاقت اور اقتدار کے ہوتے ہوئےکمزور ایمان والے درجے پر اکتفا کیسےکرسکتے ہیں ؟؟؟ کیا ہمارا فرض نہیں تھابچے کو پیارومحبت سے نماز کی تلقین کریں لیکن اگر پھر بھی وہ نماز نہ پڑھے تو سرزنش کریں ۔
کیا ہمارا فرض نہیں تھا اپنی عورتوں ،بچیوں کو پردہ کروائیں۔۔ کیا یہ دہرامعیارنہیں بچہ سکول نہ جائے تو پیار کے بعد مار کا سہارا لیا جاتا ہے،لیکن اگر کوئی باپ یا ماں اپنے بچے کو نماز کے لیے ڈانٹ دے تو وہ معاشرے کی نظر میں ظالم ہے ۔۔۔ سکول سے چھٹی نہیں ، نماز کے لیے زبردستی نہیں۔۔۔ مجھے اس بات سے اختلاف نہیں کہ دین میں کوئی سختی نہیں۔۔۔ مگر اس کا جو ہم مطلب لیتے ہیں اس سےاختلاف ہے۔۔۔ہم زبردستی کسی کو اسلام میں داخل نہیں کرسکتے اور نہ ہی اسلام پرچلا سکتے ہیں لیکن امر بالمعروف تو فرض تھا ہمارا۔
کیا ہم بچپن سے پڑھی ہوئی یہ حدیث بھی بھول گئےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا:تم میں ہر کوئی نگران ہےاوراس سے اس کی رعایا کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ حکمران ذمہ دار ہے۔ اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا، مرد اپنے اہل وعیال کا ذمہ دار ہے، اس سے اس سے متعلقہ افراد کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے، اس سے اس کی ذمہ داریوں کے متعلق سوال وجواب ہوگا۔خادم اپنے آقا کے مال پر نگران ہے، اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ الفاظ تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےسنےہیں اورمیراخیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ انسان اپنے والد کےمال کا ذمہ دار اور نگران ہے۔ پس اس سے اس کے بارے میں بھی پوچھ گچھ ہوگی غرضیکہ تم میں سے ہر آدمی نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا۔ مسند احمد#12048
اسلام میں داخل ہونے کے بعد ہماری مرضی کیسے چل سکتی ہے ؟؟؟ وہ معاملہ ہمارا ذاتی کیسےہوسکتا ہے جس سے معاشرے کو فرق پڑے ؟؟؟ معاشرے ،اپنے ملک ، اپنے گھروں اور اپنے نفس میں برائیوں کو پروان چڑھتے دیکھ کر ہم خاموش کیسے بیٹھ سکتے ہیں ؟؟؟ہم نے ذاتی معاملہ سوچ کر دوسروں کو سیدھی راہ پرچلنے کی نصیحت کرنا چھوڑ دی ہے ۔۔۔
ہمیں فرق نہیں پڑتامعاشرے میں اور ہمارے اپنے گھروں میں کیا بے حیائی پھیل رہی ہے ۔۔۔یہی وجہ ہےکہ معاشرہ اتنی تباہی کا شکار ہے اور یہی حال رہا تو آ گے ہم اپنا اور اپنی آ نے والی نسلوں کا انجام سوچ لیں ۔




































