
محمودہ تفسیر
کھو نا جا اس سحروشام میں اے صاحبِ ہوش
اک جہاں اوربھی ہےجس میں نافردہ ہےنادوش
نئے اورپرانےسال کی دہلیزپربیٹھی کچھ سوچوں،کچھ یادوں،کچھ خواہشوں اور کچھ دعاؤں کی مالاپہنےمیں ایک اضطراب اورغم کی کیفیت میں اپنےاردگرد ہونے والے حالات اورخود اپنے ساتھ گزرنے والےمعاملات کا طائرانہ جائزہ لےرہی ہوں۔ نئے سال کی آمد میرے دل میں کوئی خوشی کی لہر کیوں پیدا نہیں کر رہی۔ کیا میں یاسیت کا شکار ہوں؟کیامیں ماحول کے منفی اثرات سےمتاثر ہو کر اپنا توازن کھو چکی ہوں؟کیا میں خود اذیتی میں مبتلا ہوں؟
میرا بچپن میرا شباب اور اب یہ ڈھلتی عمریقیناً دن کے ڈھلتے سائے کی طرح بہت جلد یہ زیست کی ناؤ بھی ڈوب جائے گی۔ یہ اعضاء کا مضمحل ہونا۔ یہ قویٰ کا کمزور پڑ جانا۔یہ رشتوں کے کمزور بندھن یہ اپنے پیاروں کی جدائی کے سلسلے، یہ سنگتوں کا بچھڑ جانا، یہ بہاروں کا خزاں رُت ہو جانا۔ اگر یہ کائنات میں ہونے والے قدرتی عوامل میں سے ہیں تو پھر
کُلُّ مَنْ عَلِیْھَا فَانٍ۞وَّ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِ کْرَام۞
ترجمہ:
سب کچھ فانی ہے۔بلا شبہ باقی رہنے والی ذات تمہارے رب کی ہےجوعظیم اور کریم ہے۔
لہٰذا ہر چیز کو فنا ہے۔ ہر بہار کی خزاں ہے۔ ہرحیات کی موت ہے۔ ہردن کی رات ہے۔ہر خوشی کے ساتھ غم ہے۔ ہر یسرکے ساتھ عسرہےاور یقیناً یہ تضاد ہی ہماری پہچان ہے۔یہ ہماری اصل ہےاور چیزیں یقیناً اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں۔
آج صبح کے اذکار کرتے ہوئے میں نے دعا پڑھی
عربی۔
اَلَّھُمَّ اِنِّی اعوذ بک من الکسل وسوء الکبر
یہ سوء الکبر کیا ہے۔عقائد کا فساد،گناہوں پہ اصرار،گناہوں کی تکرار،دنیا کوترجیح اور آخرت سےبےرغبتی اور موت کا خوف اورہر گزرتے وقت کے ساتھ مال،اولاد اور دنیاوی اسباب کی ہوس۔ پھر انسان کیا سےکیا ہوجاتا ہے۔ ہوس کا کتا،جانور یا اس سے بھی بدتر یا پھر بقول اقبال
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا,ڈھیرہے
مسلمانوں کی دھاک کبھی عالم چارسو میں ببانگ دھل تھیاوراب مسلمان لاچار ہے ،محکوم ہے،مجبور ہےغلامی کے طوق پہنےاسیر ہے۔وہ اپنا دین کھو چکا ہے۔ خود کو غیروں کے ہاتھ بیچ کرجشن نیوائیر کےچکر میں اوچھی حرکات اور بےغیرتی کے اطوار اختیار کر کے خود کو پاگل پن کےلبادے میں چھپارہا ہے۔
ایک طرف غزہ لہولہان ہے۔ صیہونی افواج بم گرارہی ہیں۔ معصوم بچوں نہتے شہریوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔انہیں سرعام میدانوں میں پھانسی پرلٹکا کر دنیا کو تماشا دکھایا جا رہا ہے۔تودوسری طرف کشمیر ظلم وستم کی چکی میں پس کر اب راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے۔وہ کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ تھا۔اب پاکستان اور پاکستانی اس شہ رگ کے ٹوٹنے پہ بھی خوشیوں کے اندھے سودے کر رہے ہیں۔ بقول شاعر
شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود
وضح میں تم ہو نصارٰی تو تمدن میں ھنود
یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
جب اسلام زندہ تھا تو مسلمانوں کی قلت بھی کثرت پرغالب تھی۔ اب مسلمانوں میں چونکہ اسلام مرچکا ہے۔ لہٰذا اب مسلم ممالک بس تن مردہ کی طرح اسلام اور مسلمانوں کی حالت زار پہ خاموش تماشائی بن کرامریکہ کی راگنی الاپتےاورمستی میں محو رقصاں ہیں۔
مسلم دنیا کےحکمران اسرائیل اور اس کے پشت پناہ امریکہ اوریورپ کی مذمت تک کرنے پر تیار نہیں۔ آج میں اورآپ خدارا اور کچھ کریں نہ کریں کم از کم قرآن پاک کی ایک مختصر سی سورة العصر کے معانی اور اسباق کو پڑھیں سمجھیں ان کا ادراک حاصل کریں اوران کی عملی تفسیر بنیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس حیات مستعار سے جب حیات ابدی پائیں تو خسارہ اور نقصان پانے والوں میں سےنہ ہوں۔وہ چار کلیدی اصول جو اس اہم مقصد کے لیے مجھے اور آپ کو اپنانے ہیں۔
ایمانیات کی درستی
اعمال صالحہ کی مداومت
حق کی نصیحت
صبرو استقامت کی تلقین
آئیے آج ہم اس نئے اور پرانے سال کی دہلیز پر کھڑے ہو کروعدہ کریں کہ ہم اپنی محبتوں کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت کے تابع کریں گےاور اپنے دنیاوی مفاد پہ اخروی مفاد کو ترجیح دیں گے۔
اللہ کرے کہ آنے والا سال ہماری ہدایت،عافیت،رضاۓالہٰی اور اتباع رسولﷺ والا سال ہو اور ہم دنیا و آخرت کے خسران سے بچ جائیں۔
نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے
خدا کرے کہ نیاسال سب کو راس آئے




















