
محمودہ تفسیر
علامہ اقبال نے اپنی مشہور زمانہ کتاب "رموزخودی" میں سورة الاخلاص کی تفسیرایک خاص اندازمیں کی ہے۔ سب سے پہلے قُل ھوالله احد یعنی کہہ دو کہ
الله ایک ہےکہ حوالے سے وضاحت کی ہے۔اقبال نے اپنے خواب کا حوالہ دیا۔ جس میں اقبال کی ملاقات حضرت ابوبکرصدیقؓ سےہوئی تھی۔اقبال نے ان سے کہا آپ ہمارے مرض کا علاج تجویز کیجیے۔ خواب میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سورة الاخلاص سے چمک دمک حاصل کرنے کی نصیحت کی تھی۔ مراد یہ کہ توحید پر کامل ایمان لانے کو کہا تھا اور مزید ارشاد فرمایا کہ یہ جو بے شمار سینوں میں سانسیں چل رہی ہیں۔ تو یہ توحید کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ سانس کا انداز ایک ہی ہے۔ دنیا کے انسانوں میں یہ ایک طرح چل رہا ہے۔ گویا یہ توحید خداوندی کی علامت ہے۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خواب میں اقبال کو نصیحت کرتے ہوے کہا تھا تو خدا کا رنگ اختیار کر۔ تو امت مسلمہ بھی جب توحید خداوندی کا رنگ اختیار کرے گی تو پھر اس کی یکجہتی گویا خدائی جمال کا عکس بن جائےگی۔ امت مسلمہ ایک وحدت ہے۔ اس میں کوئی فرقہ گروہ یا علاقائی تعصب نہیں۔
اقبال نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی نصیحت کا ذکراس طرح کیا کہ خود کو مسلمان کہنے کی بجائے ترک و افغان کہلانے پرآج خوشی محسوس کی جاتی ہے۔ گویا آج کا مسلمان محتلف فرقوں اورگروہوں میں بٹ گیا ہے۔ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ امت مسلمہ نے اپنی سابقہ روایات یکجہتی اور یگانگت کو بھلا دیا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہےکہ فرقہ بندی اور گروہ بندی نے امت مسلمہ کو سارے زمانے میں رسوا کردیا ہے۔ اگر ہم واقعی صاحبِ ایمان مسلمان ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اپنی وحدت کو نقصان نہ پہنچائیں۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ کی نصیحت میں یہ بات شامل تھی کہ "تو ہونٹوں پر جو کچھ لاتاہے اسے دل میں بھی اتار لے"یعنی کلمہ توحید کو صرف ہونٹوں سے ادا نہ کر بلکہ اگر تو صحیح معنوں میں مسلمان ہےتو یہ کلمہ دل میں بسالے تاکہ اس کی بدولت ملت اسلامیہ کی جمعیت بر قرار رہے۔اےعہدِ حاضر کے مسلمان تونےایک ملت کی کئی ملتیں بنا ڈالیں اوراپنے قلعے پرخود ہی شب خون مارا۔
دراصل ملت اسلامیہ کے زوال کا ذمہ دار خود مسلمان ہے۔ کلمہ توحید کو صرف زبانی ادا کرنا مطلوب نہیں بلکہ یہ کلمہ ہم سے تقاضہ کرتا ہے کہ ہم اس کلمہ کو دل میں بسائیں اور اس پر عمل پیرا ہو کر ملت میں اتحاد اور یکجہتی پیدا کریں جو اس وقت ملت میں موجود نہیں ہے۔
اقبال کو نصیحت کرتے ہوئے حضرت ابوبکرصدیقؓ نے کہا تھا کہ عمل سے ایمان کی لذت میں اضافہ ہوتا ہےاورجس ایمان پرعمل نہ کیا جائے وہ مردہ ہے۔ زبانی کلامی ایمان کی باتیں کرنا ایک بیکار مشغلہ ہے۔ عمل سے ایمان کو تقويت ملتی ہے اور صاحب عمل بھی ایک خاص قسم کی خوشی حاصل کرتا ہے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ کی زبان مبارک سے کہی گئی نصیحتوں کی کچھ سرخیاں اقبال کی نظم ٰشکوہ ٰ میں بھی دکھائی دیتی ہیں اور یہ نظم یقیناً ملت اسلامیہ کا مرثیہ بھی ہے۔
زبان سے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں





































