
محمودہ تفسیر
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
(علامہ محمد اقبال)
جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی نئی نئی ایجادات نے المناک مادہ پرستی کو جنم دیا ہے۔ تعلیمی نظام سے لے کر ذرائع ابلاغ تک سرمایہ پرستی اور مغرب کی تہذیبی اقدار کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ جدید انسان کی زندگی مادی ترقی کے سراب کے عوض گروی رکھی جا چکی ہے۔
بقول شاعر
یہ لوگ آج نئی زندگی کی خواہش میں
نکل رہے ہیں دھواں بن کر کارخانوں سے
دورِ جدید میں انسان کا سب سے بڑا شرف اس کی پیسہ کمانے کی صلاحیت اور بلند معیار زندگی میں مسلسل اضافہ ہے۔ دنیا کی منڈی میں اس کے وقت کی قیمت لگائی جاتی ہے۔ اس کی زندگی عجلت سے عبارت ہے جس میں اس کے پاس اپنے لیے بھی وقت نہیں۔ اس کے پاس عموماً اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے سر پیدامیں ہونے والے درد کی وجوہات جان سکے۔اسبابِ درد کا تعین کیے بغیر ہی محض درد کی گولی کھا کر وہ درد سے تو چھٹکارا پا لیتا ہے مگر اس طرزِ زندگی کی اصلاح سے قاصر رہتا ہے جو دردِ سر کا موجب بنتی ہے۔ اقبال نے عرصہ دراز پہلے اس مسئلے کو یوں تشخیص کیا تھا۔
عصرِ حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تیری دے کے تجھے فکرِ معاش
صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کوچلانے کےمطلوبہ کارندوں کی فراہمی کے لیے شہر آباد کیے جاتے ہیں اور اس نظام کے تحت شہری دنیا وجود میں آتی ہے۔ اس دنیا میں وحشت ناک اجنبیت ہے۔یہاں انسان سے زیادہ اہم کام ہیں اورکام سےزیادہ اہم چیزیں ہیں رشتوں اورشناسائی کی بیشتر صورتیں کسی مطلب کےگرد گھومتی ہیں۔ یہاں لوگ ایثاراوروفاداری سے خالی، صرف محبت کی زبانی کلامی ہی دعوے دارہیں۔دنیا میں انسان کی حیثیت کبھی حیوان اورکبھی ایک بےجان پرزے کی سی رہ جاتی ہے۔ معاشرہ نفسانفسی کا شکار ہوتا ہے۔انسانی خودی غیرمحفوظ ہو جاتی ہے اوراجتماعی زندگی کے اکثرمعاملات میں انسان خود کو محض مجبور محسوس کرتا ہے۔
اقبال نےضربِ کلیم میں مغربی تہذیب کےعنوان پہ ایک قطعہ لکھا جو اس تہذیب پر ایک جامع تبصرہ ہے۔
فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب
کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف
رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید
ضمیرِ پاک و خیالِ بلند و ذوقِ لطیف
رسول الله ﷺ نے فرمایا تھا کہ چالیس گھروں تک تمہاراپڑوس ہے اور پڑوسی کے ساتھ حُسن سلوک کو ایمان کے ساتھ لازم و ملزوم کرار دیا مگر شہروں کی موجودہ صورتحال برابروالے ہمسائےسے بھی بیگانگی پیدا کر دیتی ہے۔ اسلام کا مومن سےتقاضہ ہے کہ اس کا آنے والا دن اس کے گزرے ہوئے کل سے بہتر ہومگر بہتری کا یہ تسلسل معاشی نوعیت کا نہیں بلکہ علمی اور اخلاقی نوعیت کا ہوتا ہےمگر جدید انسان مادی ترقی اور مادیت پسندی کی ایسی دلدل میں پھنس چکا ہے کہ اس کی خواہشات کا منہ زور گھوڑا بھاگم بھاگ خود کو بھی الجھائے رکھتا ہے اور اپنے پاؤں تلے ان مقدس رشتوں کو بھی روند ڈالتا ہے جن سے صلہ رحمی کا مطالبہ رب رحمان نے ہم سے کر رکھا ہے۔
مغربی تہذیب سےبچنے یااسے ترک کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی اقدار کواچھی طرح پہچان لیا جائے۔مغربی تہذیب کسی خاص حلیے، زبان، طرزِ بود وباش یا ثقافت سےعبارت نہیں بلکہ اس کی اساس چند اقدار پرقائم ہے اوران میں سےبیشتر اقدار کا تعلق خواہشاتِ نفس کی پیروی سےہے۔خواہشاتِ نفسانی کو اگرمقدم نہ رکھا جائےاورنفس کا تزکیہ کیا جائے تو اس نظام کے اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔ مغرب کےتناظر میں ہرانسانی تعلق کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہےمگردین کے تناظر میں انسانوں سے تعلق ہی بندگی کی اعلیٰ معراج ہے۔مغرب نے بےلوث تعلق کو ناممکن قراردیا ہے۔ یعنی ہرتعلق کے پس منظر میں یہ فکرلاحق ہےکہ اس سے مجھے کیا فائدہ ہوگا اور ہر تعلق میں یہی جذبہ موجزن ہوتا ہے کہ میں بھی ویسا ہی کروں جیسا اس نے میرے ساتھ کیا۔
اس کے برعکس جو شعورہمیں الله کے کلام میں غورو فکراورسیرت رسولﷺ کے مطالعہ سےحاصل ہوتا ہے۔ دنیا کی کسی کتاب یا فلسفے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ قرآن و حدیث پرغور وفکر اورمطالعہ سے ہی زندگی کے معاملات کو الله کے احکامات کے تناظرمیں دیکھنے کا فہم حاصل ہوتا ہے۔ نتیجتاً نا صرف انسان کا دل انسانیت کے لئے نرم ہوتا ہے بلکہ للّہیت اور جوابدہی کا احساس انسان کے کردار کو تمام جہتوں کے درجہ کامل تک لے جاتا ہے اورانسان اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل کرکے جنتوں میں سب سے اعلیٰ جنت، جنت الفردوس کا اہل بن جاتا ہے۔ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سر فرازی
میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی





































