
محمودہ تفسیر
لوگ وقت کےساتھ سفرکرتے ہیں لیکن میرا دل چاہتا ہےکہ پیچھے جاؤں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا دوردیکھوں۔ تحریک
پاکستان میں شامل ہو کراس کا حصہ بن جاؤں۔ ان شہداء کودیکھوں جنہوں نے اسلام کی سر بلندی کےلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اگرچہ میں جانتی ہوں کہ یہ سب بچگانہ باتیں ہیں لیکن دل پہ تو کسی کا زور نہیں چلتا ناں۔
یہ بھی محسوس ہوتا ہےکہ شاید میں ہوتی تو تاریخ ایسی نہ ہوتی۔ شاید میں اپنےجیسے لوگوں کےساتھ وہ نہ ہونے دیتی جو آج ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ تاریخ پڑھتے پڑھتے جہاں ہم روئے۔کاش ہم وہاں ہوتے۔ نسیم حجازی کے ناول پڑھتے ہوئے دل تو اس ہجوم کے ساتھ بھی رویا جب پھانسی کا فیصلہ ملتوی ہونے کی خبر لانے والے قاصد کو بتاتا ہےکہ یہ فاتح سندھ کا جنازہ ہے۔
دل تو وہاں بھی رویا جب ٹیپو سلطان کی شہادت کےبعدوہ بارش برسی جس کااسےانتظار تھا لیکن غدارانتظارنہ کرسکے۔مجھےتو 14 اگست کا وہ دن بھی یاد آتا ہے جب آزاد وطن کی خوشی ملی۔ پھر 1971 میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ہوا۔ جو ہماری بداعمالیوں کا نتیجہ تھا۔ یہ خوشی اورغم کے دو اہم واقعات بہت کم مدت میں ہم پر وارد ہوئے اور ایک دعوت فکر دے گئے۔ دسمبر میں سقوط ڈھاکہ کا قصہ جب قصہ پارینہ ہو گیا تو پشاورسکول کے واقعہ نے اس قومی سانحہ کو مزید پیچھے دھکیل دیا اور اب یہ پورے ملک میں موم بتی کلچر ڈے کو فروغ دینے کا باعث بن گیا۔ جب خوشی و غم بھی غیروں جیسے ہوں تو آزادی کہاں کی؟؟؟
وفا کے جرم میں پھانسی پانے والوں کے لئےجب با اقتدار لوگوں کے چہرے سپاٹ اور زبانیں گنگ ہوجائیں تو دل پتھر بنا دیئےجاتےہیں مگرپہاڑ کے کچھ پتھروں سےبھی خشیت کی امید رکھی جاتی ہےکہ خوف الٰہی سے گرپڑتےہیں یا ان سے پانی پھوٹ پڑتا ہے مگر جب رب العزت دل کو اس کی اپنی قساوت کی وجہ سےسخت کردے تو پھر ختم الله علی قلوبھم کے گروہ میں شامل ہو جاتا ہے۔
اے گروہ مسلم! اے پیارے لوگو جن کے دل نرم ہیں وقت کی آواز کو سنو سورج کی پیار بھری گواہی حاصل کرنے کے لیے اس کی مسافت میں کوئی اچھا واقعہ درج کرو۔ آج جس نے کل بننا ہے۔پھر ہماری تاریخ بن جانا ہے۔
ہم سب کو اب خود احتسابی کی مہم پہ روانہ ہونا ہے۔ہمیں اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنی ہے۔ہمیں ناکامیوں سےحوادث سےاوردنیا کے بدلتے حالات سے سیکھنا ہے۔ جب اندھیرا بڑھتا ہے ہاتھ سے ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تو ننھےمنے ستارے بھی اپنا آپ منوا لیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی ستارے کی روشنی کو ہم نے غیر اہم نہیں سمجھنا۔ جس میں جتنی بھی قابلیت و صلاحیت کی روشنی ہے اسے کام میں لانا ہو گا۔ نئے عزم کے ساتھ، نئے ولولے کے ساتھ، نئی امنگ اور نئی ترنگ کے ساتھ مایوسی سے ہاتھ چھڑا کر ہم نے یقین کا دامن تھام کر نئی زندگی شروع کرنی ہے۔
ہم نے چلنا چلنا مدام چلنا ہے۔ خود بھی جینا ہے۔ دوسروں کو بھی جینے کا ہنر دینا ہے۔ ہم نے جذبہ کمال سے الله کے کلمہ کو بلند کرنا ہے۔ اس لئے ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ اپنے ساتھ نسلِ نو کو لے کر تاکہ ہمارا مستقبل درخشاں اور تابندہ ہو اس امید کے ساتھ۔۔۔
آج کچھ ایسا لکھو معتبر حوالوں کی طرح
بدلتے موسم میں اجالوں کی طرح





































