
زہرا یاسمین / کراچی
سکول میں ایک بچہ سیڑھی سےگرگیا لوگ اسے لےکرہسپتال گئےلیکن اس وقت تک بچے خون بہت ضائع ہوچکا تھا، بچہ جانبر نہ
ہوسکا، کل ایک ویڈیو دیکھی جس میں استادکی دوران تدریس حرکت قلب بند ہوگئی تھی، فوری طبی نہ ملنے کی وجہ سے ایک جوان استاد جان کی بازی ہار گیا۔ ان واقعات پر دل بڑامضطرب ہے۔
پھر مجھے یاد آیا ہمارے بچپن میں یہ اسی 80 کی دہائی کی بات ہے کہ بہت سےاچھےسرکاری ونیم سرکاری اورپرائیویٹ اسکولوں میں اور ٹی وی پر بھی ابتدائی طبی امداد / فرسٹ ایڈ سکھائی جاتی تھی، جس میں عموماً زخم یا چوٹ کی صفائی اس پر پٹی باندھنا، بہتا خون روکنےکاطریقہ،بازو یا کمرپرانجکشن لگانا،ٹوٹی ہڈی کی فوری حفاظت کےلیےاس ہڈی کو لکڑی کےساتھ پٹی سے باندھنا، ٹمپریچر لینا ،وزن چیک کرنا، بلڈ پریشر چیک کرنا، بخار میں مریض کے سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھنا۔ مریض کو ٹیوب اور ڈراپر کے ذریعے کھلانا پلانا۔ مریض کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا، سانس بحال کرنے کی کوشش کرنا، ڈوبنے پر پیٹ میں پانی چلا جائے تو اسے نکالنا وغیرہ، لیکن پھر یہ ہوا کہ ہم اتنے کمرشلائزاورسولائزڈ ہوگئے کہ ہمیں یہ فرسٹ ایڈ اضافی اور فضول چیزلگنےلگی اوراسے وقت کا ضیاع سمجھا جانے لگا۔ اس طرح یہ سلسلہ موقوف ہوگیا کیونکہ ہم ذرا سی چوٹ یا تکلیف پر گلی محلےمیں موجود کلینکس سے علاج کروا لیتے اور تین سے پانچ دن میں مرض دور ہوجاتا،پھرہم نے مزید ترقی کی بڑے اور نامور ہسپتالع برانچزبنالیے،جہاں علاج کروانا بڑے فخر کی بات سمجھنی جانے لگی ہسپتال بھی برینڈ بن گئے،ان ہسپتالوں میں ڈاکٹر وں کی بھاری فیس اورمختلف معمولی نوعیت کے ٹیسٹوں کی بھاری قیمت وصول کی جاتی ہے، یہاں پہلے سے اپوائنٹمنٹ لینا پڑتا ہے ورنہ ایمرجنسی میں ہم ہسپتال میں تختہ مشق ایک ٹیسٹ کیس بن جاتے ہیں۔ اگر ہمارے ہاں اسکولوں میں فرسٹ ایڈ کی تعلیم دی جارہی ہوتی تویقینا یہ قیمتی جانیں بچائی جاسکتی تھیں،بےشک موت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں لیکن انسان کوشش کامکلف ہےکہ وہ انسانیت کی خدمت کے قابل بن سکے۔ ہمارے ہاں نہ عوام کو نہ ہی حکومت کو اس بات سے کسی کو کوئی سروکار نہیں کہ تعلیمی اداروں میں ابتدائی طبی امداد سکھانے کی کوشش کی جائےاس کی منصوبہ بندی کی جائے۔
اگر ہم دنیا کے دوسرے ممالک کی جانب فرسٹ ایڈ کی تعلیم کے حوالےسےنظر ڈالیں توآج بھی یورپی وامریکی اوربہت سےایشیائی ممالک کے تعلیمی اداروں میں فرسٹ ایڈ کی تعلیم جونیئر اور سینیئر کلاسسز میں کلاسزمیں بچوں کی عمراورکلاس لیول کے مطابق دی جاتی ہے بلکہ کچھ این جی اوز بھی مفت یا کم فیس میں فرسٹ ایڈ کی تعلیم دیتی ہیں۔ پاکستان میں کہیں کہیں کسی تعلیمی ادارے یا سماجی خدمت کے فلاحی ادارے میں کبھی کبھی فرسٹ ایڈ تعلیم دیے جانے کے حوالےسے کوئی بات یاخبرسننےمیں آجاتی ہے۔ لیکن ہم نے اپنی روزمرہ گھریلو زندگی میں فرسٹ ایڈ کی تعلیم کی ضرورت اور اہمیت کو نظر اندازکردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں لوگوں کو بر وقت مناسب طبی امداد نہ ملنےکی وجہ سے بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ لہذا ہمیں سنجیدگی سےحکومتی سطح پر اس حوالے سے فوری توجہ دینے کی ضرورت ہےتاکہ مریضوں اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد میسر آسکے،اور بہت سی قیمتی جانیں بچائی جاسکیں۔



















