
زہرا یاسمین / کراچی
میں کیسا ہوں؟ میں کیسی ہوں ؟
اور میں ایسا یا ایسی کیوں ہوں ؟
ہم کبھی اپنے آپ سے یہ سوال نہیں کرتے کیونکہ عموماً ہم میں سےکچھ لوگ اپنی ہر چھوٹی بڑی غلطی کومعمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں،جبکہ
دوسرے کی معمولی غلطی پکڑ لیتے ہیں اوراسےاس پر شرمندہ کرکے فخر محسوس کرتے، مذاق اڑاتےہیں،جتاتے ہیں لیکن ایسے لوگ اس طرح کی حرکتیں جب بار بار کرتے ہیں تو پھر ہوتا یہ ہے کہ وہ خود ہی لوگوں کی نظروں میں اپنی ویلیو یعنی قدر و عزت کم کر دیتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ تو یہ سوچتے ہی نہیں کہ جب ہم کسی پر انگلی اٹھاتے ہیں تو چار انگلیاں ہماری طرف ہوتی ہیں اور وہ جن کو شرمندہ کرتے ہیں ان سب کے سامنے ان کی غلطیاں ہوتی ہیں لیکن شرافت، مروت، لحاظ، حفظ مراتب کی وجہ سے انہیں کوئی سامنے کچھ نہیں کہتا شرمندہ نہیں کرتالیکن ایسے لوگوں کی دل میں عزت ختم ہو جاتی ہے، بس ظاہری مروت اور لحاظ رہ جاتا ہےایسے لوگوں کی بات اور مشورے بظاہر سن تو لیے جاتے ہیں لیکن انہیں نظر اندازکردیا جاتا ہے کیونکہ وہ ایسے لوگوں کےناقدانہ تضحیک آمیز رویوں، کم فہمی کی بنیاد پر دیے جانے والے ناقص مشوروں،اپنی بات منوانے یا حکم چلانے کی عادت کی وجہ سے تنگ آ گئے ہوتے ہیں ،مجبوری میں تعلق اوررشتہ نبھا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ان کے رشتے اور مرتبے کی وجہ سے مجبورا برداشت کیا جاتا ہے۔ معاشرے ایسے بہت سے لوگ ہیں لیکن انہیں اپنی ایسی بارہا دہرائی جانے والی غلطیوں کا احساس ہی نہیں ہوتا جن کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف دینے کا باعث بنتے ہیں کیونکہ انکا نفس لوامہ انہیں برائی سے روکنے اس پر ملامت کرنے کے لیے کمزور یا نیم مردہ ہوچکا ہوتا ہے۔
ذرا سچے دل سے اپنا جائزہ لیجیے کہیں ہم ایسےلوگوں کی طرح تو نہیں یاان میں شامل تو نہیں۔اگرہم ایسےہیں تو ایسے کیوں ہیں؟اس پرسوچنا ہے؟
گو کہ بعض اوقات بات بہت آگے بڑھ چکی ہوتی ہے لیکن اس کےباوجود امید کا دیا روشن ہے کہ اس مسئلے کا حل ممکن ہے ۔
ایسی صورت میں جبکہ ایسےلوگوں کاضمیر(نفس لوامہ )زندہ ہو تووہ صدق دل سے اپنی حرکتوں سےرجوع کرکےاپنی اصلاح کرسکتےہیں۔ اپنی سچی اور پرخلوص محبت اور مشفقانہ رویے سےاس کا ازالہ کرسکتے ہیں، اس کے ساتھ بھرپورکوشش کریں کہ دوبارہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو اس طرح کسی حد ظاہری لحاظ و مروت کے ساتھ رشتوں میں محبت اپنائیت خلوص اور دلی احترام ازسرنوپیدا ہوسکتا ہے۔
کیا خیال ہے ؟ نفس لوامہ کی فکر کرکے اسے جگایا جائےکیونکہ اسی میں ہماری دنیا وآخرت کی فلاح کا راز پنہاں ہے۔




































