
زہرا یاسمین / کراچی
بچپن میں چھ ستمبرکے دن اخبار میں نشان حیدر پانے والوں کی تصاویر دیکھیں لیکن راشد منہاس کی تصویر دیکھ کر کچھ حیرت ہوئی یہ فوجی بھائی تو
بہت چھوٹے لگ رہےہیں، باقی سب فوجی توبڑے ہیں۔۔۔۔ اباجی دیکھیں تو ۔۔۔۔ابا جی بولےہاں بیٹی یہ پائلٹ آفیسرراشد منہاس ہیں انہوں نے بیس اگست 1971 کو پاکستان کی حفاظت کے لیے صرف بیس برس کی عمر میں جام شہادت نوش کیا تھا۔ تب سے مجھے راشد منہاس سے خاص انسیت محسوس تھی۔ میں نے راشد منہاس کی تصویر والا اسٹیکر اپنی الماری میں کپڑوں والی دراز میں لگالیا،پھر جب سے پڑھا کہ شہید زندہ ہوتےہیں تو روز صبح ان کی تصویر کو سلام کرتی تھی۔ بچپن بیتا شعور کی زندگی میں قدم رکھا اب تصویر کو سلام تو نہیں کرتی لیکن ان کے لیے دعا ضرور کرتی ہوں ،یہ دعا بھی کہ اللہ ہمارے نوجوانوں کو ان کے جیسا نڈر اور بہادر بنائے۔میں ایک جلسے میں شریک تھی وہاں راشد منہاس کی والدہ آئی ہوئی تھیں ان کو کوئی اعزاز دیا جارہا تھا، میری عادت ہے تقریبات پیچھے رہنے کی۔ نمایاں ہونا کبھی میرے مزاج کا حصہ نہیں رہا لیکن اس روز تیزی سے چلتے ہوئے اسٹیج کے قریب ایک کونے میں کھڑی ہوگئی کہ راشد منہاس کی والدہ کو دیکھ سکوں جب وہ انعام لے کر اتریں تو پاس کھڑی ایک نامعلوم خاتون نے کہا چلیے بیٹامیرے ساتھ آپ ان سے ملیں۔ میں حیران۔۔۔۔ ہم نے سلام کیا بہت محبت سے جواب دیا کافی دیر ہاتھ پکڑے رہیں ۔میں نے کہا راشد بھائی ہمارے قومی ہیرو ہیں ۔ان کی آنکھیں بھر آئیں۔
میرادل پاک فوج،جہاداورجذبہ شہادت سےجاگزیں رہا۔ وقت کےساتھ ساتھ انیس سو پینسٹھ میں ایم ایم عالم اور میجرعزیز بھٹی ودیگر کےکارناموں اور شہادتوں کا ذکر پڑھا،مئی1999 میں کارگل معرکہ دیکھا کیپٹن شیرگل ،حوالدار لالک جان کی شہادت پھر 2019 میں پلوامہ انڈین طیاروں کی دراندازی کو ونگ کمانڈر نعمان علی خان اور اسکوارڈن لیڈر حسن محمود صدیقی نے جانفشانی سے ناکام بنادیا۔ ابھی سات مئی کو انڈیا نے رات کے اندھیرے میں حملہ کیا پاک فوج نے ان حملوں کا مقابلہ کیا جس کے جواب میں دس مئی کو پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیاکہ بھارت شکست کے خوف سے جنگ بندی پر مجبور ہوگیا۔ ایم ایم عالم اور راشد منہاس شہید کی پاک فضائیہ آج بھی ہر گھڑی تیار کامران ہے۔ پاک فوج زندہ باد۔ پاک فوج تجھے سلام ۔ پاک فضائیہ کو سلام۔




































