
زہرا یاسمین / کراچی
یہ رات محاسبےکی رات ہے،رجوع کی رات ہے۔نیک اعمال کےاجر کے حصول کی اوربرے اعمال کی مغفرت
کی رات ہے ۔یہ رات ہےماہ رمضان کے آخری روزے کی رات جسےہم چاند رات کہتے ہیں۔احادیث مبارکہ میں اس رات کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے ۔
حضرت ابوہریرہؓ سےروایت ہےکہ امام الانبیاء حضرت محمدﷺ نے فرمایا:’’میری امت کو رمضان شریف کے بارے میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر دی گئی ہیں جو پہلی امتوں کو نہیں ملیں (۱) پہلی یہ کہ اِس اُمت کے (روزے دار کے) منہ کی بو اللہ کےنزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ (۲) دوسری یہ کہ اس کے(روزے دار کے) لئے مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں اورافطارکے وقت تک کرتی رہتی ہیں۔ (۳) جنت ہر روز ان کیلئے آراستہ کی جاتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قریب ہےکہ میرے نیک بندے (دنیا کی) مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر میری طرف آئیں۔ (۴) اس میں سرکش شیاطین قید کردیئے جاتےہیں اور(۵) رمضان کی آخری رات میں روزے داروں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ صحابہ ؓکرام نے عرض کیا ’’کیا یہ شب ِمغفرت ’’شب ِ قدر‘‘ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا، نہیں بلکہ (اللہ کا) دستور یہ ہے کہ مزدور کا کام ختم ہونے کے وقت اسے مزدوری دے دی جاتی ہے۔ (مسند احمد، بزار،بیہقی)
یعنی لیلۃ الجائزہ اللہ رب العزت کےخصوصی فضل و کرم کی بڑی عظمت و فضیلت والی رات ہے جواللہ تعالیٰ کے طرف سے امت محمدیہﷺ کو عطا کردہ ایک خصوصی تحفہ ہے جس کی اس کے بندوں کو قدر کرنی چاہیے اور اس مبارک شب کے قیمتی اور بابرکت لمحات کو خرافات میں ضائع نہ کریں بلکہ رات کا کچھ وقت خصوصی طور پر توبہ و مناجات، اللہ کے ذکر و اذکار،نوافل اور دعاؤں کے لیے مختص کردیں۔پوری کوشش کریں کہ یہ مبارک رات کسی فضول کام یا خرافات کی نذر ہوکرضائع نہ ہونے پائے۔




































